Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / دسمبر کے اختتام تک حیدرآباد کے مضافات میں سربراہی آب ممکن، کرشنا گوداوری سے پانی لانے کی مساعی ، حکومت تلنگانہ کے اقدامات

دسمبر کے اختتام تک حیدرآباد کے مضافات میں سربراہی آب ممکن، کرشنا گوداوری سے پانی لانے کی مساعی ، حکومت تلنگانہ کے اقدامات

حیدرآباد ۔ 22 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز): حکومت تلنگانہ شہر حیدرآباد کے عوام کو پینے کے پانی کی درپیش مشکلات کو دور کرنے کے لیے موثر اقدامات کا آغاز کرچکی ہے ۔ ذرائع کے بموجب ماہ دسمبر کے اختتام تک شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے ساتھ ساتھ اطراف و اکناف پائے جانے والے مضافاتی علاقوں میں بھی پانی کی موثر سربراہی عمل میں لانے کے لیے کرشنا ، گوداوری کے ذریعہ پانی لانے کے لیے اقدامات پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے ۔ جب کہ گوداوری سے پہلے مرحلہ کے ایک حصہ کے طور پر شاہ میر پیٹ ، گنڈلہ پوچم پلی کے قریب جاری کاموں کی تکمیل کے ذریعہ شہر حیدرآباد کو گوداوری کے ذریعہ پانی لایا جاسکتا ہے ۔ گوداوری کے پہلے مرحلے اور کرشنا کے تیرے مرحلہ کے تحت جاری کاموں کا جائزہ لینے کے لیے وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی و پنچایت راج مسٹر کے ٹی راما راو کی صدارت میں اجلاس کا انعقاد عمل میں آیا ۔ اس جائزہ اجلاس کے دوران گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن حدود و مضافاتی علاقوں میں پانی کی سربراہی کے لیے موثر اقدامات کرنے کے لیے 1900 کروڑ روپئے منظور کرتے ہوئے احکامات جاری کئے گئے ۔ باوثوق سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا گیا کہ ان رقومات کے ذریعہ جاری کاموں میں تیزی پیدا کر کے عدم تکمیل تمام کاموں کو مکمل کیے جانے چاہئے ۔ اسی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ فی الوقت گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن حدود میں کئی مقامات پر تین تا پانچ یوم میں ایک مرتبہ پینے کا پانی سربراہ کیا جارہا ہے ۔ لہذا پینے کے پانی کی موثر انداز میں سربراہی کنسلٹنٹس کے ذریعہ مکمل تفصیلات حاصل کر کے ریاستی حکومت نے جے این یو آر ایم کے تحت فنڈز فراہم کرنے کی مرکزی حکومت سے اپیل کی لیکن مرکزی حکومت سے فنڈز حاصل نہیں ہوئے ۔ بلکہ ہڈکو کے ذریعہ 1700 کروڑ روپئے منظور ہوئے اور ان رقومات کے ذریعہ ہر سرکل میں سرویس ریزروائرس کی تعمیر کے علاوہ ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی تعمیر پر اہمیت دی جائے گی ۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت مذکورہ ہڈکو کے منظورہ 1700 کروڑ روپئے رقومات میں اپنے حصہ کے طور پر مزید 200 کروڑ روپئے برداشت کرے گی ۔ اسی ذرائع کے مطابق مذکورہ واٹر سپلائی اسکیم سے متعلق الوال سرکل کے لیے 190 کروڑ روپئے قطب اللہ پور سرکل کے لیے 220 کروڑ روپئے کاپرا سرکل کے لیے 215 کروڑ روپئے اوپل سرکل کے لیے 160 کروڑ روپئے ، کوکٹ پلی سرکل کے لیے 290 کروڑ روپئے سیرلنگم پلی سرکل کے لیے 290 کروڑ روپئے ، راجندر نگر سرکل کے لیے 80 کروڑ روپئے ایل بی نگر اور گڈی انارم کے لیے 325 کروڑ روپئے رامچندرا پورم کے لیے 60 کروڑ روپئے اور پٹن چیرو سرکل کے لیے 70 کروڑ روپئے فراہم کئے جائیں گے ۔ اس طرح مذکورہ واٹر اسکیم کی تکمیل کے لیے جملہ 1900 کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے ۔ اسی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے ٹولی چوکی پرشاسن نگر علاقہ میں جاری کرشنا تیسرے مرحلہ کے کاموں کو پندرہ یوم میں مکمل کرنے کی متعلقہ عہدیداروں کو ہدایات دی ہے ۔ مسٹر کے ٹی آر کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ ٹولی چوکی ، پرشاسن نگر میں تیسرے مرحلہ کے کاموں کی تکمیل ہونے پر پرشاسن نگر ریزروائر کیلئے 45 ایم جی ڈی پانی حاصل ہوگا ۔۔

TOPPOPULARRECENT