Thursday , February 22 2018
Home / Top Stories / دس سال سے مفرور عسکریت پسند جنید نیپال سے گرفتار

دس سال سے مفرور عسکریت پسند جنید نیپال سے گرفتار

NEW DELHI, FEB 14 (UN):-A most wanted terrorist of Indian Mujahideen (IM) arrested by Special Cell of Delhi police being produced before media during a press conference, in New Delhi on Wednesday. UNI PHOTO-AK3U

باٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے بشمول متعدد وارداتوں میں ملوث : دہلی پولیس

نئی دہلی ، 14 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی پولیس کے اسپیشل سل نے ’انڈین مجاہدین‘ کے سرکردہ عسکریت پسند عارض خان کو گزشتہ روز نیپال سے گرفتار کیا ہے۔ وہ 2008ء سے مطلوب تھا۔ اس گرفتاری کے بارے میں میڈیا کو واقف کراتے ہوئے دہلی پولیس کے ڈی سی پی پرمود کمار کشواہا نے کہا کہ عارض عرف جنید کو ہند۔نیپال سرحد سے پکڑا گیا جبکہ خصوصی ٹیم کو اطلاع ملی تھی کہ وہ وہاں کسی معاون سے ملاقات کیلئے جارہا ہے۔ ڈی سی پی نے جنید کو بم سازی کا ماہر قرار دیتے ہوئے کہا، ’’وہ کئی دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہے جن میں 2008ء کے دہلی سلسلہ وار دھماکے شامل ہیں۔ اس کے رول والے حملوں میں مجموعی طور پر تقریباً 165 افراد ہلاک ہوئے۔‘‘ دہلی میں 13 ستمبر 2008ء کے دھماکوں میں 30 افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے تھے۔ ڈی سی پی نے کہا کہ جنید کے سر پر 15 لاکھ روپئے کا انعام تھا، اور یہ رقم بڑھ بھی سکتی ہے کیونکہ کئی اسٹیٹ پولیس ڈپارٹمنٹس نے بھی اسے زندہ یا مردہ پکڑنے پر انعام کا اعلان کیا تھا۔ جنید وہ عسکریت پسندوں میں شامل تھا جو دہلی کے باٹلہ ہاؤس سے فرار ہوئے، جہاں 19 ستمبر 2008ء کو انکاؤنٹر میں دو انڈین مجاہدین عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ کشواہا نے کہا کہ باٹلہ ہاؤس سے فراری کے بعد جنید ایک ماہ تک ہندوستان میں رہنے کے بعد نیپال کو بھاگ گیا تھا۔ ’’وہاں وہ توقیر عرف عبدالسبحان قریشی کے ساتھ رہا، جو تنظیم میں اُس سے برتر درجہ رکھتا ہے۔ نیپال میں چند سال رہنے کے بعد وہ دونوں سعودی عرب چلے گئے۔‘‘ کشواہا نے کہا کہ جنید اور توقیر 2017ء میں برصغیر کو واپس ہوئے تاکہ سیمی (اسٹوڈنٹ اسلامک موومنٹ آف انڈیا) کا احیاء کیا جائے۔ پولیس آفیسر نے کہا کہ تحقیقاتی ایجنسیاں ان الزامات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ اُس کے پاکستان کی انٹر سرویسز انٹلیجنس کے ساتھ رابطے ہیں۔ دہلی پولیس کیلئے 2018ء میں یہ دوسری بڑی کامیابی ہے جبکہ توقیر کو غازی پور سے 22 جنوری کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ توقیر جسے ’ہندوستان کا اسامہ بن لادن‘ بھی کہا جاتا ہے، 2008ء کے گجرات سلسلہ وار دھماکوں کا اصل سازشی ہے۔ یہ دھماکوں میں زائد از 50 جانیں تلف ہوئی تھیں۔

TOPPOPULARRECENT