Friday , November 24 2017
Home / دنیا / دس کروڑ ڈالر کی چوری،بنگلہ دیشی بینک کے سربراہ مستعفی

دس کروڑ ڈالر کی چوری،بنگلہ دیشی بینک کے سربراہ مستعفی

ڈھاکہ ، 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش کے مرکزی بینک کے سربراہ نے نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک سے بنگلہ دیش کے دس کروڑ ڈالر کی سائبر چوری کے معاملے پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ عطیع الرحمان نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم شیخ حسینہ کو سونپا۔ امریکی بینک سے نامعلوم سائبر چوروں نے بنگلہ دیشی بینک کے پیسے فروری میں چوری کئے تھے۔ تاہم عطیع الرحمان نے حکومت کو بروقت نہیں بتایا۔ وزیر خزانہ اے ایم اے موہتھ نے بتایا کہ انھیں اخبار میں شائع رپورٹ سے اس بات کا علم ہوا۔ بینک کے حکام نے بتایا کہ اس چوری میں شامل گینگ نے چوری شدہ دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے نقد رقم کی منتقلی اس طرح کی جیسے وہ جائز ہو۔ اگر ان کی تمام درخواستیں قبول ہوجاتی تو وہ بغیر کسی مدافعت کے تقریباً ایک ارب ڈالر لے کر اڑ جاتے۔ بہر حال نقدی کی منتقلی اس وقت روک دی گئی جب دوسرے بینکوں میں دی جانے والی درخواستوں پر ان بینکوں کو شک ہونے لگا۔ اس چوری کیلئے گینگ نے بنگلہ دیش کے سنٹرل بینک کے اندرونی نظام کا مطالعہ کیا تاکہ وہ رقم منتقل کرتے وقت اطمینان بخش طور پر بینک کے عہدہ دار کے طور پر پیش آئیں۔ بہر حال بڑی رقم کی منتقلی اور املا کی غلطیوں نے بینک کے عملے کو چوری کے بارے میں ہوشیار کر دیا۔ ڈوئشے بینک نے رقم حاصل کرنے والے کے نام کے ہجوں میں غلطی پائی اور وضاحت کیلئے سنٹرل بینک سے رجوع کیا تو یہ منتقلی روک دی گئی۔ اسی دوران نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک نے بنگلہ دیش کے سنٹرل بینک کو رقم کی منتقلی کی مشتبہ درخواست کے متعلق آگاہ کر دیا۔ شک تب پیدا ہوا جب خطیر رقم بینکوں کے بجائے ذاتی کھاتوں میں بھیجی جانے لگی۔ ہیکروں نے جو رقم چرائی وہ بالآخر سری لنکا اور فلپائن پہنچی۔ اس میں سے کچھ حصہ سری لنکا میں پکڑا گیا لیکن زیادہ تر فلپائن کے کسینوز میں داؤ پر لگا دیا گیا۔ بینک کے عہدہ دار کا کہنا ہے کہ وہ باقی رقم حاصل کرنے کیلئے حکام سے رابطے میں ہیں۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے عوامی سطح پر نیویارک فیڈرل بینک پر رقم کی مشتبہ منتقلی کو بروقت نہ پہچاننے کا الزام لگایا ہے۔

TOPPOPULARRECENT