Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / دس ہزار اوقافی جائیدادیں ریونیو ڈپارٹمنٹ کی متنازعہ فہرست میں

دس ہزار اوقافی جائیدادیں ریونیو ڈپارٹمنٹ کی متنازعہ فہرست میں

818 جائیدادوں کا ریکارڈ وقف بورڈ کے پاس موجود نہیں، جائیدادوں کی بازیابی وقف بورڈ کے لئے چیالنج
حیدرآباد۔16 ۔ جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں 10,000 سے زائد اوقافی جائیدادوں کو ریونیو حکام نے متنازعہ فہرست میں شامل کردیا ہے۔ اس کے علاوہ اراضی سروے کے دوران 818 ایسی جائیدادوں کا پتہ چلا جو ریونیو ریکارڈ میں بحیثیت وقف درج ہیں لیکن وقف بورڈ نے ان پر اپنی دعویداری پیش نہیں کی ہے۔ ایک طرف وقف بورڈ کو 10,000 جائیدادوں کا ریکارڈ پیش کرنا ہوگا تو دوسری طرف 818 جائیدادوں پر اپنی دعویداری پیش کرنے کیلئے دستاویزات تلاش کرنے ہوں گے۔ یہ دونوں کام وقف بورڈ کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ حکومت نے حال ہی میں جو اراضی سروے کیا تھا ، اس کے پہلے مرحلہ میں تمام غیر متنازعہ جائیدادوں کے سروے کا کام مکمل کرلیا گیا۔ متنازعہ جائیدادوں کو علحدہ زمرہ میں رکھا گیا تاکہ متعلقہ محکمہ جات یا اداروں سے ان کی دعویداری کے حق میں دلائل اور دستاویزات حاصل کئے جاسکیں۔ 15 ستمبر تا 31 ڈسمبر 2017 ء تلنگانہ کے 31 اضلاع میں 1507 عہدیداروں کی ٹیموں نے سروے کا اہتمام کیا تھا۔ ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر مال محمد محمود علی کی خصوصی دلچسپی سے ریونیو عہدیداروں نے وقف جائیدادوں کے سلسلہ میں علحدہ اعداد و شمار تیار کئے۔ وقف بورڈ نے 33,929 جائیدادوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے تحت 77,538 ایکر اراضی کے دستاویزات ریونیو حکام کو پیش کئے۔ وقف بورڈ کے دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد ریونیو عہدیداروں کی ٹیمیں اس نتیجہ پر پہنچیں کہ تلنگانہ میں 22,427 اوقافی جائیدادیں موجود ہیں جن کے تحت 43,610 ایکر اراضی موجود ہے۔ یہ وہ جائیدادیں ہیں جن کا مکمل ریکارڈ وقف بورڈ کے پاس موجود ہے اور انہیں ریونیو ریکارڈ میں بحیثیت وقف درج کیا جائے گا۔ نامکمل دستاویزات کی فراہمی کے نتیجہ میں 10,987 جائیدادوں کو متنازعہ کی فہرست میں رکھا گیا ہے، جن کے بارے میں دوسرے مرحلہ میں جائزہ لیا جائے گا ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ وہ جائیدادیں ہیں جن کا مکمل ریکارڈ وقف بورڈ کے دستیاب نہیں ہے۔ کئی جائیدادوں کے دستاویزات میں سروے نمبرات ، حدود یا اراضی کی تفصیلات میں سے کچھ نہ کچھ غائب ہے ، جس کے نتیجہ میں ریونیو عہدیداروں نے ان جائیدادوں کو ریونیو ریکارڈ میں بحیثیت وقف درج کرنے سے گریز کیا۔ وقف بورڈ تمام جائیدادوں کا ریکارڈ مکمل طور پر موجود ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ 10,000 جائیدادوں کے بارے میں تمام ضروری دستاویزات موجود ہیں اور انہیں پیش کرتے ہوئے وقف بورڈ اپنی دعویداری مضبوط کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ 10,000 جائیدادوں کو ریونیو ریکارڈ میں شامل کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔ ریونیو ریکارڈ کے مطابق 818 ایسی جائیدادیں ہیں، جن کے بارے میں وقف بورڈ نے کوئی دعویداری پیش نہیں کی جبکہ ریونیو ریکارڈ میں یہ وقف کی حیثیت سے درج ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر وقف بورڈ مذکورہ جائیدادوں کے بارے میں کوئی ریکارڈ پیش نہ کرے تب بھی ریونیو ریکارڈ میں یہ وقف کی حیثیت سے شامل رہیں گے۔ ریونیو عہدیداروں کے مطابق جب تک وقف بورڈ سے تنازعہ کی یکسوئی نہیں ہوجاتی اس وقت تک 10,000 جائیدادوں کی ملکیت کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا اور ان جائیدادوں پر کسی تیسرے فریق کی دعویداری قبول نہیں کی جائے گی۔ وقف بورڈ کیلئے یہ کسی امتحان سے کم نہیں کیونکہ اسے ایک طرف 10,000 جائیدادوں کا ریکارڈ پیش کرنا ہے تو دوسری طرف 818 جائیدادوں کا ریکارڈ تلاش کرنا ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ وقف بورڈ اپنی جائیدادوں کو بچانے میں کس حد تک کامیاب ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق بورڈ میں کئی جائیدادوں کے دستاویزات موجود نہیں ہیں یا پھر دستاویزات میں ضروری بعض صفحات کو وقف مافیا نے غائب کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT