Monday , January 22 2018
Home / اضلاع کی خبریں / دعوت کے میدان میں حکمت مومن کا مضبوط ہتھیار

دعوت کے میدان میں حکمت مومن کا مضبوط ہتھیار

بیدر میں دو روزہ ورکشاپ سے عبدالقادر رکن جماعت اسلامی کا خطاب

بیدر میں دو روزہ ورکشاپ سے عبدالقادر رکن جماعت اسلامی کا خطاب
بیدر /6 اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) دعوت ِ اسلام انبیائی مشن ہے۔روزِ اول سے ختم ِ نبوت تک کی تاریخ ِ انسا نیت اس بات کی شاہد ہے ۔دعوت کے میدان میں حکمت مومن کا ایک بہترین اور ایک بہت ہی مضبوط ہتھیار ہے، جسکے استعمال سے لوگوں کو یہ پیغام سمجھنے میں آسانیاں پیدا ہوتی ہے۔ حکمت مومن کا کھویا ہوا سرمایہ اور انمول جوہر ہے ۔ حکمت ہی وہ عظیم دولت ہے جسکو استعمال کرنے پر اور زیادہ بڑھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہیکہ دعوت حکمت کے ساتھ دیں۔اور ہر دور میں کتاب و حکمت کی تعلیم انبیائی مشن رہاہے۔ اب یہ مشن امت ِ مسلمہ کی اہم ذمہ داری ہے۔ اسلا م کی دعوت کو عام کرنا، ہر مسلمان کی زندگی کا نصب العین ہونا چاہئے ۔ان خیالات کا اظہارعبدالقادر داعیٔ اسلام و رکن جماعت اسلامی ہند،کلبرگی نے ضلع بیدرمیں ایس آئی او کے دو روزہ دعوتی ورکشاپ میں کیا۔مسجد ِعید گاہ بیدر میںمنعقداس پروگرام میں موصوف’’ دعوت کی اہمیت اور انبیاء کا طریقہ ٔدعوت‘‘ موضوع پر اپنے تفصیلی خطاب میںدعوت کیلئے عملی جد وجہد کو اِس وقت کی اولین ضرورت بتاتے ہوئے داعی کو تڑپ اور فکر کے جذبہ کو فروغ دینے کی بات کہی۔ مولانا محمدنعیم نے ’’دعوتی فیلڈورک کیسے کریں؟‘‘کے عنوان سے وابستگان تنظیم کی تربیت کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو چاہئے کہ وہ غور و فکر تدبر کرے کہ اسکی زندگی کا کیا مقصد ہے؟ ایک محدود عمر کے وقفے ساٹھ ستر سال کی عمر کے بعد اسے کہاں جاناہے؟ اُسے یہ غور و فکر کرنا چاہیے کہ کیا وہ جانوروں کی طرح تو زندگی نہیں گذار رہے ہیں ؟جس طرح جانور اپنی زندگی جینے کیلئے بنیادی ضرورتیں پوری کررہے ہیں۔ کھا رہے ہیں، سو رہے ہیں اور جنسی خواہشات پوری کررہے ہیں جنکی زندگی کا کوئی نصب العین نہیں ہوتا۔ بس وہ انہیں ضرورتوں کی تکمیل کیلئے بھاگ دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ کیا انسان بھی ایسے ہی حقیر مقاصد کیلئے زندگی گذار رہا ہے؟ اگر ایسا ہے توپھر انسانوں اور جانوروں میں کیا فرق رہا؟ ان کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں اور ہماری زندگی کا بھی کوئی مقصد نہیں۔ ورکشاپ کے دوسرے دن کا آغاز قرآن اسٹیڈی سرکل سے ہوا ۔جسکی نگرانی محمد ظفراللہ خان نے کی۔ عبدالحمید رکن ریاستی مجلس مشاورتی کونسلSIOحلقہ کرناٹک نے واضح ودلکش انداز میں ورکشاپ کو جاری رکھا۔انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے دل لوگوں کو شرک کرتے ہوئے دیکھتے وقت تڑپ وہ اضطراب محسوس نہیں کرتے جو رسول اللہ ﷺ محسوس کرتے تھے تو ہم کیسے امت محمدؐ یہ ہیں؟ جب تک ہم لوگوں کی آخرت بنانے اور انہیں نار ِ جہنم سے بچانے کی فکر ،تڑپ میں مضطرب ہو کر بے چین نہیں ہونگے تب تک ہم ایک اچھے مسلمان یا داعی نہیں ہوسکتے ۔ ایک مسلمان کو علم و حکمت کے خزانے سے بھرپور رہنا چاہئے اور غیر مسلم برادران ِ وطن کے سوالات کے جوابات اور شک و شبہ کو مدلل انداز میں دورکر کے انہیں اطمینان بخشنا چاہئے تاکہ حقیقت ان پر واضح ہوجائے ۔ مولوی محمد فہیم الدین رکن ریاستی مجلس ِشوریٰ جماعت اسلامی حلقہ کرناٹک نے جہنم کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے ہوئے جہنم کے عذابات کا تذ کرہ کیا جس سے رونگٹے کھڑ ے ہوجاتے ہیں اور انسان اچھے اعمال کی طر ف لپکتا ہے۔ جہنم کی خطرناک آگ میں انسان نہ جیئے گا اور نہ ہی مرے گا، وہ موت و زندگی کی کشمکش میں تڑپے گا۔ مسلمانوں کو نہ صرف خود اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچنے کی فکر نہیں کرنی چاہئے بلکہ دوسرے انسانوں کو اس جہنم کے گڑھے سے بچانے کی ایسی فکر لاحق ہونی چاہئے کہ اُسے چین سے بیٹھنے نہ دے۔ جیسا کہ رسول اللہ ؐ نبوت سے لیکر اس دنیا ئے فانی سے پردہ فرمانے تک کے وقفے میں آپ نے کبھی کوئی دن پیٹ بھر کہ کھانا نہیں کھایا ۔ کبھی چین کی نیند نہیں سوئے ۔ آپؐ کو ہر وقت یہ فکر دامن گیر رہتی تھی۔ لوگوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کی تڑپ ، فکر اوردرد و سوز رکھنا دراصل رسول اللہ ؐ کا اسوہ ٔحسنہ ہے۔زندگی صر ف یہی نہیں ہے کھانا، پینا اور سوجانا بلکہ اصل زندگی یہ ہے کہ انسان اپنے بنانے والے رحمن کو پہچان کر اسکی بندگی و عبادت کرے اور اپنے سامنے ایک صالح و عظیم نصب العین لیکر جیئے ، حقیقت میں ایسی ہی زندگی کامیاب منزل کی طرف انسان کو گامزن کرتی ہے۔ پرو گرام کے اختتامی مرحلہ میں اقبال احمدنے بطور ِ تذکیر رسول اللہ ؐ کی زندگی کے واقعات اور صحابہ ؓ کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں قولی شہادت کے ساتھ ساتھ عملی شہادت دینے کی ضرورت سخت ناگزیر ہے۔اسکے بغیر ہماری دعوتی کوششیں بے اثر رہ جاتی ہیں۔اس پروگرام کی راست نگرانی ضلعی صدر SIOاے۔ امجد نے کی۔پروگرام آرگنائزر سوید یاسر کے علاوہ مقامی یونٹ کے ممبران نے انتظامات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے پرو گرام کو کامیاب بنایا۔ اس دوروزہ دعوتی ورکشاپ میں ، ایک دعوتی سیشن فیلڈورک تھا۔ دوران ِ فیلڈورک محض اللہ کے فضل و کرم کا نتیجہ یہ رہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے تین بندوں کو ہدایت سے سر فراز کیا ۔جنہوں نے اظہار ِ حق کا اقرار کرتے ہوئے اپنے آپ کو حق سے وابستہ کر لیا۔پروگرام کا آغاز قرأت کلام پاک سے ہوا۔ جبکہ اختتام تشکری کلمات اور دعا پر ہوا۔

TOPPOPULARRECENT