Sunday , June 24 2018
Home / Top Stories / دفاعی ساز و سامان کی تیاری میں ہندوستان کو ’’خود مکتفی‘‘ ہونا ضروری

دفاعی ساز و سامان کی تیاری میں ہندوستان کو ’’خود مکتفی‘‘ ہونا ضروری

پاناجی 14 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج سب سے بڑے اور طاقتور طیارہ بردار جہاز آئی این ایس وکرما دتیہ کو ہندوستانی بحریہ میں شامل کرکے قوم کے نام معنون کردیا اور کہاکہ آج کا دن قوم کیلئے اہم ہے۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ نریندر مودی نے کہاکہ ہم کو زیادہ سے زیادہ ٹیکنالوجی کو ضروری اہمیت دینے

پاناجی 14 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج سب سے بڑے اور طاقتور طیارہ بردار جہاز آئی این ایس وکرما دتیہ کو ہندوستانی بحریہ میں شامل کرکے قوم کے نام معنون کردیا اور کہاکہ آج کا دن قوم کیلئے اہم ہے۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ نریندر مودی نے کہاکہ ہم کو زیادہ سے زیادہ ٹیکنالوجی کو ضروری اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ اس سے قوم کو کافی مدد ملے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان کو دفاعی آلات و ہتھیاروں کی تیاری میں ’خود مکتفی‘ ہونا چاہئے۔

مودی نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ آخر ہم کو دفاعی آلات برآمد کیوں کئے جانے چاہئے۔ ہم کو ان ہتھیاروں اور آلات کی تیاری میں ازخود قابل ہونا چاہئے ۔ آخر ہم اپنی جانب سے تیار کردہ دفاعی ساز و سامان دیگر ملکوں کو کیوں برآمد نہیں کرسکتے۔ آئی این ایس وکرما دتیہ پر سوار ہوکر نریندر مودی نے مگ 29 کے لڑاکا جیٹ طیارہ میں بیٹھ کر اس کا جائزہ لیا۔ 44,500 ٹن والے آئی این ایس وکرما دتیہ کو روس سے درآمد کیا گیا ہے جو ہندوستانی بحریہ کے نئے حصول کردہ دفاعی ساز و سامان میں ایک ہے۔ اس جہاز کو گزشتہ سال نومبر میں اس وقت کے وزیر دفاع اے کے انتونی نے روس کے سیومش شپ یارڈ پر ہندوستانی بحریہ میں شامل کیا تھا۔ اس جنگی جہاز پر پہونچنے کے بعد وزیراعظم کو بحریہ نے گارڈ آف آنر پیش کیا اور اس جہاز کے بارے میں واقف کروایا گیا۔ اُنھوں نے مگ 29 کی سواری کرتے ہوئے ساحلی گوا میں لڑاکا طیارہ کی خوبیوں سے متعلق جانکاری حاصل کی۔

وزیراعظم نے جہاز پر چند گھنٹے گزارے۔ نئے وزیراعظم کا یہ کسی دفاعی تنصیب کو پہلا دورہ ہے۔ جہاز پر مودی نے فضائی طاقت کے مظاہرہ کا مشاہدہ کیا۔ اس فضائی طاقت کے مظاہرہ میں مگ 29K سمندری لڑاکا طیارہ کے بشمول بحریہ کے مختلف طیاروں کی پروازوں کا بھی مشاہدہ کیا۔ مودی نے یہاں موجود بحریہ کے تمام سینئر عہدیداروں سے بات کی۔ جہاز کے عملہ سے ملاقات کرکے تفصیلات سے آگہی حاصل کی۔ بحری جہاز کی خریداری کا معاہدہ 2004 ء میں اُس وقت کی این ڈی اے حکومت میں ہوا تھا۔ 10 سال کے وقفہ کے بعد اس جہاز کو قوم کے نام معنون کیا گیا۔ اس جہاز کو 16 نومبر 2013 ء کو ہندوستانی بحریہ میں شریک کیا گیا تھا جس کو قبل ازیں وزیر دفاع نے بحریہ کیلئے خریدا تھا۔ وکرما دتیہ پانی میں تیرنے والا طیارہ بردار جہاز ہے جس کی لمبائی 284 میٹرس اور اعظم ترین چوڑائی 60 میٹر ہے جو 3 فٹبال میدانوں کی طرح گنجائش پائی جاتی ہے۔ اس جہاز کے 20 منزل ہیں جو سب سے زیادہ اونچائی سمجھی جاتی ہے۔ اس میں جملہ 22 ڈکس اور 1600 عملہ کے ارکان ہیں۔ اس جہاز میں کھانے پینے کی اشیاء کا ذخیرہ کرنے انتظامات ہیں جس میں ایک لاکھ انڈے، 20 ہزار لیٹر دودھ اور 16 ٹن چاول استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ اس کی سمندر میں 45 دن تک رہنے کی صلاحیت ہے۔ وزیراعظم نے ایک دن قبل فوج کے تینوں خدمات کے سربراہوں سے ملاقات کی تھی جنھوں نے ملک میں سکیورٹی صورتحال سے واقف کروایا تھا۔ ان سربراہوں نے وزیراعظم کو طویل مدتی اور وسط مدتی تناظر میں دفاعی تیاری سے واقف کروایا تھا۔ وزیراعظم کے آج کے دورہ کے دوران بحریہ کے سربراہ معتمد دفاع و مملکتی وزیر دفاع شامل تھے۔

TOPPOPULARRECENT