Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / دفاعی شعبہ میں روس ، ہندوستان کا کلیدی شراکت دار

دفاعی شعبہ میں روس ، ہندوستان کا کلیدی شراکت دار

دفاعی ساز و سامان کی مشترکہ تیاری کیلئے معاہدوں پر دستخط ، وزیراعظم نریندر مودی کی روسی خبر رساں ایجنسی سے بات چیت
ماسکو۔ 23 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج روس کو تیقن دیا کہ ہندوستان دفاعی شعبہ میں روس کا کلیدی شراکت داری بنا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک انتہائی عصری نوعیت کے دفاعی آلات اور ساز و سامان تیار کرنے کیلئے پیش قدمی کرنے والے ہیں جو ’’میک اِن اِنڈیا‘‘ کے تحت ہوگی۔ مودی نے روسی خبر رساں ایجنسی ’’اِتار۔تاس‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ روس ، ہندوستان کا کئی دہوں سے قابل اعتماد دفاعی شراکت دار رہا ہے۔ آج کے ماحول میں بھی ہندوستان کی عالمی مارکٹ میں رسائی کے باوجود روس، ہندوستان کا کلیدی شراکت دار برقرار ہے۔ وزیراعظم نے اس وقت کی یاد دلائی جب ہندوستان کے ساتھ کوئی دیگر ملک دفاعی شعبہ میں تعاون کے لئے تیار نہیں تھا، اس وقت روس نے ہندوستان کو دفاعی آلات فراہم کئے اور بین الاقوامی طور پر تائید بھی کی۔ مودی نے کہا کہ ہندوستان، روس کے اس تعاون کو کبھی فراموش نہیں کرے گا جس کی اس وقت ہندوستان کو شدید ضرورت تھی۔ توقع ہے کہ نیوکلیئر اور دفاعی شعبوں کے علاوہ دیگر شعبوں میں ہند ۔

روس متعدد معاہدوں پر دستخط کریں گے۔ مودی آج ہی روس کے دو روزہ دورہ پر پہنچے ہیں جہاں وہ صدر روس ولادیمیر پیوٹن سے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ مودی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہند ۔ روس کے دفاعی تعلقات محض خریدار اور فروخت کنندہ سے ہوکر اب دفاعی ساز و سامان اور آلات کی مشترکہ تحقیق اور ان کو مزید ڈیولپ کرنے کا روپ بدل چکی ہے جیسے برہموس میزائیل، سکھوئی 30، MKI لڑاکا طیارے اور T-90 دبابے لہذا دفاعی شعبہ میں ہندوستان کے میک اِن انڈیا پروگرام کے تحت روس کے پاس ہندوستان کا کلیدی شراکت دار ہونے کی پوری صلاحیتیں موجود ہیں اور جلد ہی ہم اس جانب پیشرفت کریں گے۔ علاوہ ازیں میک اِن انڈیا کے تحت ہند ۔ روس مشترکہ طور پر دفاعی ساز و سامان و آلات بھی تیار کریں گے۔ ہندوستان نے روس کے تعلق سے جو تیقنات دیئے ہیں، وہ ایک ایسے موقع پر دیئے گئے ہیں، جب ہندوستان نے امریکہ کے ساتھ بھی قریبی دفاعی تعلقات استوار کئے ہیں اور روس نے پہلی بار پاکستان کی جانب سے دفاعی شعبہ میں دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے جہاں تک سیول نیوکلیر تعاون کا سوال ہے تو مودی کے مطابق ہندوستان کم و بیش 12 نیوکلیئر ری ایکٹر تعمیر کرنے کا پابند ہے جس کے بعد روس کے تعاون سے ہندوستان عالمی سطح پر بہترین معیار کا حامل ملک بن جائے گا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ ہندوستان کی معاشی ترقی کے لئے توانائی سکیورٹی انتہائی ضروری ہے اور اس شعبہ میں بھی روس، ہندوستان کا کلیدی شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیوکلیئر توانائی ہمارے توانائی سکیورٹی شعبہ کا بھی اہم ترین جزو ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ کونڈاکلم نیوکلیئر توانائی پراجیکٹ اس وقت کارکردگی کے موقف میں ہے جبکہ اس میں مزید توسیع کی بھی گنجائش ہے۔ کونڈا کلم کے بعد ہم ہندوستان میں روس کے ڈیزائن کردہ دوسرے مقام کو بھی قطعیت دینے والے ہیں۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ سائنس، ملٹری ٹیکنالوجی اور نیوکلیئر توانائی کے شعبہ جات ایسے ہیں جو ہندوستان کی وسیع ترین مارکیٹس ہیں جس کے ذریعہ ہندوستان کی نوجوان آبادی کے مطالبات اور معیشت کو بھی توسیع دی جاتی ہے۔
قومی ترانہ کے دوران چلنے سے وزیراعظم کو روسی عہدیداروں نے روک دیا
ماسکو ۔ 23 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کو ایک روسی عہدیدار نے اس وقت پیچھے کھینچ لیا جبکہ ان کو گارڈ آف آنر پیش کرنے کے دوران قومی ترانہ بجایا جارہا تھا لیکن انہوں نے چلنا شروع کردیا تھا ۔ وزیراعظم ٹارمک تک جانا چاہتے تھے، چنانچہ قومی ترانہ کی دھن بجانے کے دوران ہی چل پڑے تھے لیکن روسی عہدیدار کے روکنے پر رک گئے۔

TOPPOPULARRECENT