Saturday , September 22 2018
Home / ہندوستان / دفاعی شعبہ میں فنڈس کا غیرمؤثر استعمال

دفاعی شعبہ میں فنڈس کا غیرمؤثر استعمال

نئی دہلی ۔ 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دفاعی شعبہ میں آبدوز کے حالیہ حادثہ کے پس منظر میں وزیرفینانس پی چدمبرم نے کہا کہ وزارت دفاع کی جانب سے فنڈس کا فوجی اثاثہ جات کی دیکھ بھال کے سلسلہ میں مؤثر استعمال نہیں ہورہا ہے اور اس معاملہ میں لاپرواہی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت دفاع کو وزارت فینانس کافی فنڈس فراہم کررہی ہے اور انہیں توقع

نئی دہلی ۔ 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دفاعی شعبہ میں آبدوز کے حالیہ حادثہ کے پس منظر میں وزیرفینانس پی چدمبرم نے کہا کہ وزارت دفاع کی جانب سے فنڈس کا فوجی اثاثہ جات کی دیکھ بھال کے سلسلہ میں مؤثر استعمال نہیں ہورہا ہے اور اس معاملہ میں لاپرواہی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت دفاع کو وزارت فینانس کافی فنڈس فراہم کررہی ہے اور انہیں توقع ہیکہ ڈیفنس فورس اس حادثہ سے سبق حاصل کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائے گی کہ انہیں مختص کی جانے والی رقم کا مؤثر طور پر استعمال کیا جائے اور ضروری امور پر انہیں خرچ کیا جائے۔ چدمبرم نے آج این ایس یو آئی رکن کے ایک سوال پر یہ بات بتائی۔ اس رکن نے کہا کہ وہ اس حادثہ میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کی بہن ہے۔ کانگریس کی اسٹوڈنٹس ونگ این ایس یو آئی کی جانب سے ایک تقریب منعقد کی گئی تھی جس میں اس خاتون نے کہا کہ لیفٹننٹ کمانڈر کپش مووال جن کی آئی این ایس سندھورتنا آبدوز حادثہ میں موت ہوگئی، وہ ان کے بھائی تھے۔ انہوں نے چدمبرم سے سوال کیا کہ حکومت سلامتی اور تحفظ کیلئے خاطرخواہ فنڈس کیوں مختص نہیں کرتی تاکہ اس طرح کے حادثات رونما نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ چند ماہ قبل
ایک اور آبدوز غرقاب ہوگئی تھی اور اس وقت کہا گیا تھا کہ مسلح فورسیس کو دیکھ بھال کیلئے خاطرخواہ فنڈس نہیں مل رہے ہیں۔ چدمبرم نے بتایا کہ اس بار وزارت فینانس نے دفاعی شعبہ کیلئے 2.25 لاکھ کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس اہم ترین شعبہ کیلئے زیادہ سے زیادہ رقم مختص کرسکتے ہیں۔ چدمبرم نے کہا کہ ہم نے جہاں 2.25 لاکھ کروڑ روپئے مختص کئے اس میں کتنی رقم صرف کی گئی؟ انہوں نے کہا کہ دفاعی آلات کی دیکھ بھال اور مرمت پر کافی رقم خرچ کی جاسکتی ہے۔ ایک اور آبدوز میں آتشزنی اور دھویں کے اخراج کے حادثہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس حادثہ کیلئے صرف معذرت خواہی کرسکتے ہیں۔ ایسا لگتا ہیکہ آبدوز کی دیکھ بھال کے معاملہ میں غفلت برتی جارہی ہے۔ تحقیقات کے بعد ہی حقائق کا پتہ چل سکے گا۔

TOPPOPULARRECENT