Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / دفاعی ٹکنالوجی کا مقصد صرف جنگ نہیں ، امن کا تحفظ مقصود

دفاعی ٹکنالوجی کا مقصد صرف جنگ نہیں ، امن کا تحفظ مقصود

ڈاکٹر ستیش ریڈی کو گیتم یونیورسٹی کی اعزازی ڈگری کی پیشکشی ، کانوکیشن سے سائنسی مشیر برائے وزیر دفاع کی مخاطبت
حیدرآباد ۔ 22 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : ملک کی دفاعی ٹکنالوجیز صرف جنگ لڑنے کے لیے ہی نہیں بلکہ ملک کے امن کا تحفظ کرنے و ملک کی مجموعی و ہمہ جہتی ترقی کے لیے استعمال کی جاتی ہیں ۔ آج یہاں گیتم یونیورسٹی کے منعقدہ چھٹویں کانوکیشن سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جی ستیش ریڈی سائنٹفیک اڈوائزر برائے مرکزی وزیر دفاع حکومت ہند نے مذکورہ اظہار خیال کیا ۔ اس موقعہ پر گیتم یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹر ستیش ریڈی کو اعزازی ڈگری ’ ڈاکٹر آف سائنس ‘ عطا کی گئی ۔ انہوں نے اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ دفاعی تحقیقات انتہائی عصری طریقہ کار کے ذریعہ روبوٹ مہولس ، میش ورمس ، فلائی بوٹس ، اور سوپر ڈرونس کی تیاری ترقی کے مختلف مرحلوں میں ہیں ۔ علاوہ ازیں کسی فرد کے بغیر منی سبمرسیبل فلیٹس اینڈ اینٹی سیٹلائٹ میزائیلس کی تیاری وغیرہ بھی حقیقی شکل دئیے جانے کے قریب ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک غیر معمولی سائنسی ترقی کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ انہوں نے دفاعی تحقیقاتی سرگرمیوں کو یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور عصری دفاعی تحقیقات میں یونیورسٹیوں کو اپنا اہم رول ادا کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ یونیوسٹیوں میں تحقیقات پر اولین ترجیح دیئے جانے پر ہی سب کچھ ممکن ہوسکتا ہے ۔ ڈاکٹر ستیش ریڈی نے مزید کہا کہ شعبہ تعلیم ، معاشی سائنسی و فنی مہارتوں پر ہی قومی ترقی ممکن ہوسکے گی ۔ جب کہ ہمارا ملک عالمی قیادت کا حامل بننے و ترقی کرنے کے لیے سائنسی تحقیقات کو وسعت دینے کی شدید ضرورت ہے کیوں کہ ہمیں 21 ویں صدی ہی نہیں بلکہ آئندہ درپیش ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے بھی اپنے آپ کو تیار رکھنا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئی عصری تحقیقات کے ذریعہ یونیورسٹیاں ہی نئی راہ و سمت بتانے کا انہیں مکمل یقین ہے ۔ ڈاکٹر ستیش ریڈی نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں نئی سوچ کو فروغ دینے اور مکمل ہمت افزائی کے لیے حالات کو سازگار بنایا جانا چاہئے کیوں کہ یونیورسٹیوں کے لیے تدریس اور تحقیق دو بھی کافی اہمیت رکھتے ہیں بالخصوص تدریس کے معاملہ میں اعلیٰ سطحی اقدار کو برقرار رکھنے کی شدید ضرورت ہے اور ضرورت کے مطابق معیاری تحقیقاتی طریقوں پر عمل کرنے کا بھی مشورہ دیا ۔ سائنسی مشیر برائے مرکزی وزیر دفاع ڈاکٹر ستیش ریڈی نے گیتم یونیورسٹی کی سرگرمیوں و کارکردگی کی زبردست ستائش کی اور اس یونیورسٹی کے انتظامیہ و تمام ذمہ داروں کو مبارکباد پیش کی ۔ چانسلر گیتم یونیورسٹی پروفیسر کے راما کرشناراؤ نے اپنے خطاب میں کہاکہ انفارمیشن نالج کی مدد سے اسمارٹ یونیورسٹی کی حیثیت سے گیتم یونیورسٹی اسمارٹ ایجوکیشن طلباء کو فراہم کررہی ہے اور گیتم یونیورسٹی کو سوپر یونیورسٹی کے طور پر ترقی دینے کی مساعی جاری ہے ۔ جب کہ اس یونیورسٹی میں گاندھیائی تعلیم کو بھی اہمیت حاصل ہے ۔ وائس چانسلر پروفیسر جی سبرامنیم نے اپنا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح کے انتہائی اہمیت کے حامل 500 یونیورسٹیوں میں گیتم یونیورسٹی کو سرفہرست بنانے کی مکمل کوشش جاری ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ تین سال کے دوران کیمپس سیلیکشن میں جملہ 7004 طلباء کا انتخاب عمل میں آیا جو کہ ریاستی یونیورسٹیوں کی تاریخ میں ہی ایک منفرد ریکارڈ ہے اور منتخب طلباء کی تنخواہ اعظم ترین 20 لاکھ روپئے اور اقل ترین 4.5 لاکھ روپئے ماہانہ ہے ۔ اس موقع پر دو پی ایچ ڈی ، 16 برانچ ٹاپرس کو گولڈ میڈلس عطا کرنے کے علاوہ بی ٹیک ، ایم ٹیک ڈگریاں حوالہ کی گئیں ۔ صدر نشین گیتم یونیورسٹی ڈاکٹر ایم وی وی ایس مورتی ، پرو وائس چانسلر گیتم یونیورسٹی پروفیسر ہری نارائن و دیگر عہدیداران گیتم یونیورسٹی بھی موجود تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT