Tuesday , August 21 2018
Home / ہندوستان / دفعہ 370 کوئی عارضی قانونی گنجائش نہیں سپریم کورٹ

دفعہ 370 کوئی عارضی قانونی گنجائش نہیں سپریم کورٹ

جموں و کشمیر کے خصوصی موقف پر عدالت عظمیٰ کی بنچ کے تاثرات، 2017ء میں بھی فیصلہ دیا گیا تھا

نئی دہلی ۔ 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے کہا ہیکہ جموں و کشمیر کو خصوصی موقف دینے والی دستور کی دفعہ 370 کوئی عبوری یا عارضی گنجائش نہیں ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ سرنائیی مقدمہ میں 2017ء کے دوران دیئے گئے اس کے فیصلہ میں پہلے ہی یہ کہا جاچکا ہیکہ دفعہ 370 کوئی عارضی قانون نہیں ہے۔ جسٹس اے کے گوئل اور جسٹس آر ایف ناریمن نے کہا کہ ’’متعلقہ مسئلہ کا 2017ء کے سرنائیی مقدمہ میں اس عدالت کے فیصلہ کے تحت احاطہ کیا جاچکا ہے جہاں ہم یہ کہہ چکے ہیں کہ دفعہ 370 کے ہیڈ نوٹ کے باوجود یہ عارف قانونی دفعہ نہیں ہے‘‘۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل تشارمہتا نے مرکز کی طرف سے رجوع ہوتے ہوئے کہا کہ اس مسئلہ پر کچھ وقف کے بعد سماعت کی جائے کیونکہ اس سے مماثل مسائل اس عدالت میں زیرتصفیہ ہیں اور ان پر بہت جلد سماعت ہوگی۔ سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون اورایک ایڈوکیٹ شعیب عالم نے حکومت جموں و کشمیر کی طرف سے رجوع ہوتے ہوئے وضاحت کی کہ عدالت عظمیٰ میں زیرتصفیہ دیگر مسائل دستور کی دفعہ 370 سے نہیں بلکہ دفعہ 35 سے تعلق رکھتے ہیں جیسا کہ ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل نے دعویٰ کیا ہے۔ دھون نے کہا کہ ان مسائل پر موجودہ مقدمہ کے ساتھ سماعت نہیں کی جاسکتی جو صرف دفعہ 370 سے تعلق رکھتا ہے۔ بعدازاں بنچ نے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل کے اصرار پر اس مقدمہ کی سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کردیا۔ دفعہ 370 کو عارضی نوعیت کی قرار دینے کیلئے پیش کردہ درخواست کو دہلی ہائیکورٹ کی جانب سے 11 اپریل 2017ء میں مسترد کئے جانے کے خلاف کماری وجئے لکشمی جھا نے سپریم کورٹ میں یہ درخواست دائر کی تھی۔ درخواست گذار نے ہائیکورٹ میں ادعا کیا تھا کہ دفعہ 370 ایک عارضی قانونی گنجائش ہے جو 1957 میں دستورساز اسمبلی کی تحلیل کے بعد ازخود تحلیل ہوچکی ہے۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ دستور کی عارضی دفعہ 370 کی برقراری کو جموں و کشمیر دستور اور جموں و کشمیر دستورساز اسمبلی کی تحلیل کے بعد اس کو صدرہند، پارلیمنٹ یا حکومت ہند کی کبھی بھی منظوری حاصل نہیں ہوئی۔ اس طرح وہ ’’ہمارے دستور کے بنیادی ڈھانچہ سے دھوکہ کے مترادف ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT