Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / دفعہ 370 کو دستور میں مستقل مقام

دفعہ 370 کو دستور میں مستقل مقام

تنسیخ و ترمیم سے بالاتر،  جموں کشمیر ہائی کورٹ کی رولنگ
سری نگر۔11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ایک رولنگ میں کہا ہے کہ دفعہ 370 جس کے ذریعہ اس ریاست کو مخصوص موقف دیا گیا ہے دستور میں مستقل مقام حاصل ہے اور یہ ترمیم، تنسیخ یا برخاستگی سے بالاتر ہے۔ اس عدالت نے کہا کہ 35A نے اس ریاست میں نافذ موجودہ قوانین کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ جسٹس حسنین مسعودی اور جسٹس جنک راج کوتوال پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے 60 صفحات پر مبنی اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’’دفعہ 370 اگرچہ جمہوری دفعہ کے زیر عنوان ہے اور ’عارف‘ کے زیر عنوان 21 ویں فقرہ میں عبوری اور خصوصی دفعات کے تحت شامل ہے لیکن اس کو دستور میں مستقل مقام حاصل ہے۔‘‘ بنچ نے مزید کہا کہ ’’یہ (دفعہ 370)  اس وقت تک ترمیم و تنسیخ یا برخاستگی سے بالاتر ہے تاوقتیکہ ریاست کی دستور ساز اسمبلی اپنی تحلیل سے قبل اس کی ترمیم یا تنسیخ کی سفارش نہ کریں۔‘‘ اس عدالت نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر نے انڈین یونین میں انضمام کے موقع پر اپنے لئے محدود خود مختاری کو باقی و برقرار رکھا اور دیگر شاہی ریاستوں کی طرح ہندوستان میں ضم نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ ’’یہ ریاست اپنے طور پر باقی و برقرار رکھی گئی محدود خود مختاری سے بدستور استفادہ جاری رکھے گی۔‘‘

TOPPOPULARRECENT