Monday , October 22 2018
Home / شہر کی خبریں / دق کے مرض میں اضافہ، ہر سال ڈھائی ہزار مریضوںکی موت

دق کے مرض میں اضافہ، ہر سال ڈھائی ہزار مریضوںکی موت

ریاستی حکومت کی لاپرواہی پر مرکزی محکمہ صحت کی ناراضگی
حیدرآباد ۔ 3 مارچ (سیاست نیوز) ریاست میں سالانہ ایک لاکھ افراد میں سے 119 افراد مرض ٹی بی (دق) کا شکار ہوکر 2500 ٹی بی کے مرض سے فوت ہورہے ہیں۔ سال گذشتہ ریاستی سطح پر یہ مرض 45,315 افراد کو لاحق ہوا تھا اور ٹی بی کے مریضوں میں اکثریت معاشی طور پر کمزور افرادکی ہے جنہیں بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے مرض میں اضافہ سے علاج مشکل ہوتا گیا تھا۔ حکومت مرض کے علاج کیلئے سالانہ 20 کروڑ کا بجٹ مقرر ہے اس کے باوجود اس مرض کو قابو نہیں پایا گیا اور اس مرض میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے مرکزی محکمہ صحت و خاندانی بہبود نے ریاستی محکمہ صحت و خاندانی بہبود کو موردالزام ٹھہرایا ہے اور مرکزی محکمہ صحت نے واضح کیا ہیکہ ریاستی محکمہ صحت کی جانب سے سال 2016ء میں 34,800 ٹی بی کے کیسیس کا اندراج ہی نہیں کیا ہے حالانکہ ریاستی سطح پر 1,376 کلینکس، 1,613 ہاسپٹلس، 437 لیابس، اس طرح جملہ 3,426 خانگی دواخانے ہیں۔ تاہم یہ دواخانے مریضوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی ہے۔ ریاستی محکمہ صحت کی نااہلی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی محکمہ صحت و خاندانی بہبود نے آئندہ چوکس رہنے اور پہلوتہی نہ کرنے کا انتباہ دیا ہے اور ساتھ ہی واضح کیا ہیکہ اس بیماری سے شفایابی ہونے تک باقاعدہ ادویات استعمال پر توجہ دلائیں اور جن افراد میں یہ مرض بنیادی سطح پر ہو انہیں بہترین علاج فراہم کیا جائے اور گریجن علاقوں میں رہنے والے ٹی بی کے مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ماہانہ ان کے بینک کھاتوں میں 750 روپئے کی مالی امداد جمع کروانے کے علاوہ بیماری کے تدارک کیلئے توجہ کے ساتھ کام کرنے والے محکمہ کو ایک ہزار روپئے ترجیحی انعام کے طور پر پیش کرنے کے علاوہ اور مریضوں کو بروقت ادویات کے استعمال میں مدد کرنے والے عملہ کو 1500 روپئے ادا کئے جائیں اور ٹی بی کے مریض کا علاج کرنے پر 500 روپئے نقد دیئے جائیں اور اس شعبہ میں مرکزی سطح پر 17 اور ریاستی و ضلعی سطح پر 222 مخلوعہ جائیدادوں پر فوری تقررات کئے جائیں ۔

TOPPOPULARRECENT