Thursday , November 23 2017
Home / دنیا / دلائی لامہ کے دورہ اروناچل پردیش پر ایکبار پھر چین کا واویلا

دلائی لامہ کے دورہ اروناچل پردیش پر ایکبار پھر چین کا واویلا

ہند۔چین دوزخی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہونے وزارت خارجہ ترجمان کا ادعا
بیجنگ۔ 12 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) چین نے آج ایک بار پھر حسب معمول ہندوستان کو انتباہ دیا کہ دلائی لامہ کے اروناچل پردیش کے دورہ سے دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے سرحدی تنازعہ کی یکسوئی پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ چین نے ہندوستان پر الزام عائد کیا کہ تبت معاملہ پر اس نے اپنے موقف کی خلاف ورزی کی ہے۔ چین کی وزارت خارجہ نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ چین اپنی سرحدی مطلق العنانی کے تحفظ کے لیے مزید کارروائی کرے گا۔ علاوہ ازیں تبت کے روحانی پیشوا اور وزیر اعلی اروناچل پردیش پیماکھنڈو کی جانب سے دیئے گئے بیانات کی مذمت کی جنہوں نے کہا تھا کہ اروناچل پردیش اپنی سرحد تبت کے ساتھ شیئر کرتا ہے چین کے ساتھ نہیں۔ یاد رہے کہ 4 اپریل سے دلائی لامہ نے اروناچل پردیش کا دورہ شروع کیا ہے جس کے کچھ حصوں پر چین یہ کہہ کر اپنا دعوی پیش کرتا ہے کہ وہ جنوبی تبت ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان لوکانگ نے کہا کہ ان کے اشتعال انگیز بیانات سے وہاں اب ’’مذہبی سرگرمیوں میں اضافہ کی نوبت آگئی ہے۔‘‘ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کے اعتراض کے باوجود بھی ہندوستان نے دلائی لامہ کے متنازعہ علاقوں میں دورہ کو برقرار رکھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی ہندوستانی سیاستداں اشتعال انگیز بیانات بھی دے رہے ہیں

تاہم انہوں نے پیماکھنڈو کا نام نہیں لیا۔ مزید تفصیلات بتاتے ہوئے لوکانگ نے بتایا کہ چین نے حالانکہ ہندوستان سے اس معاملہ میں نمائندگی کی تھی تاہم اس کے باوجود ہم اپنی سرحدی مطلق العنانی اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مزید نمائندگی کریں گے۔ سرحد اور تبت سے متعلق سوالات ہی ہند۔چین کے سیاسی تعلقات کی بنیاد ہیں اور دونوں ہی ممالک فی الحال بات چیت اور رائے شماری کے ذریعہ تنازعہ کی یکسوئی کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ لہٰذا ہمیں امید ہے کہ ہندوستان دونوں ممالک کے مفاد کو مدنظر رکھے گا کیوں کہ یہ معاملہ صرف دو ممالک کا ہی نہیں بلکہ دونوں ممالک کی عوام کا بھی ہے جن کا مفاد ہر دو کو عزیز ہے۔ باہمی مشاورت کے ہم نے کئی مراحل طے کئے ہیں۔ تب کہیں جاکے حالات یہاں تک پہنچے ہیں لیکن چین صرف ایک بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ ہندوستان آخر دلائی لامہ کو متنازعہ علاقوں کا دورہ کروانے پر کیوں مصر ہے۔ جب مسٹر لو سے یہ پوچھا گیا کہ اس کے ہند۔چین تعلقات پر کیا منفی اثرات ہوں گے تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس جملہ میں کی گئی ایک غلطی کو درست کرنا چاہتے ہیں اور وہ یہ کہ دلائی لامہ ہند۔چین کی مشرقی سرحد کے متنازعہ علاقہ کا دورہ کررہے ہیں جو ہندوستانی سرحد نہیں ہے۔

حکومت ہند نے تبت سے مربوط معاملات اور سرحد سے متعلق سوالات پر پابند رہنے کا ادعا کیا تھا۔ ہمیں تاریخ سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔ جب ہندوستان نے ان معاملات پر اپنے پابند ہونے کی خلاف ورزی کی تو اسی وقت متنازعہ علاقوں میں دلائی لامہ کے دورہ پر اصرار کیا گیا اور اشتعال انگیز سیاسی بیانات دیئے گئے۔ ہم نے اپنی نمائندگی پہلے ہی پیش کر رکھی ہے۔ لہٰذا دلائی لامہ کے دورہ سے ہند۔چین تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ آج تقریباً 20 سال سے ہند۔چین اپنے تنازعات کی یکسوئی کے لیے کوشاں ہیں تاہم اس سلسلہ میں اب تک کوئی قطعی معاہدہ نہیں ہوا۔ تنازعہ دراصل 3488 کیلومیٹر طویل لائین آف ایکچول کنٹرول پر ہے۔ انہوں نے دلائی لامہ کے دورہ کو توہین آمیز قرار دیا اور کہا کہ اس سے چین کا تبت سے مربوط معاملات پر موجودہ موقف تبدیل نہیں ہوگا۔ اس بار دلائی لامہ نے خود کو ’’ہندوستان کا سپوت‘‘ بھی کہا اور نام نہاد ہندوستان کے اروناچل پردیش کے عہدیداروں کے بیانات کی تائید بھی کی۔ چین ہمیشہ سے دلائی لامہ کے توانگ کے دورہ کی مخالفت کرتا آرہا ہے جو 1683 ء میں چھٹویں دلائی لامہ کا پیدائشی مقام ہے۔

TOPPOPULARRECENT