Monday , July 23 2018
Home / Top Stories / دلتوں نے پرکاشم میں رام مندر تعمیر کرنے کا کیا فیصلہ

دلتوں نے پرکاشم میں رام مندر تعمیر کرنے کا کیا فیصلہ

Image Courtesy The Hindu

ضلع پرکاشم میں خانگی طور پر نگرانی کئے جانے والے مندر میں انہیں داخلہ سے منع کردیاگیاتھا
اعلی ذات والوں کی اجارہ داری کے پیش نظر اوررپرکاشم ضلع کے مضافات میں واقع گاؤں میں بنائے گئے رام مندر جس کی خانگی طور پر نگرانی کی جاتی ہے میں داخلے پر امتناع کے بعد اپنے ذاتی مندر بنانے کا ان لوگوں نے فیصلہ کیا۔

ضلع پرکاشم کے کونڈیپی کے قریب میں واردھی نینی پیلم گاؤں تاہم اعلی ذات والوں اور اوبی سی سماج کے دیگر طبقات کے لوگ جو دلتوں کے سنسکرازم کے مخالف ہیں‘ وہ اس دلتوں کو منظوری دینے کے موڈ میں نہیں ہیں۔

دلتوں علاقوں کے لوگوں نے کہاکہ ’’ پچھلے تیس سالوں سے ہمارے علاقے میں ایک مندر چاہتے ہیں کیونکہ یہاں پر ایک خانگی مندر ہی ہے جو اعلی ذات والوں کی اجارہ داری میں ہے۔

ہم مندر کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں مگر ڈرے ہوئے ہیں کیونکہ گاؤں کاایک حصہ ہماری مخالفت کررہا ہے‘‘۔دلت نوجوان پی راما کرشنا جو 125خاندانوں پر مشتمل گاؤں’ملا پلی‘ کے ساکن ہیں نے کہاکہ کئی سماجی موقع پر ایک ساتھ بیٹھنے اور شادیوں کی تقریب انجام دینے کے لئے ایک مندر کی اشد ضرورت ہے۔

تروملا تروپتی دیواستھانم جو دنیا کی سب سے بڑی او رامیر مندر کا نگران ہے کہ مندر کا کامٹ شروع ہونے کے ساتھ جائزہ لینے کے بعد پانچ لاکھ روپئے کی اجرائی عمل میں لائی تھی۔

ٹی ٹی ڈی کی پہل میں دلتوں کے اندر پجاری بننے کی جستجو پیدا کرنے کی پہل کی جارہی ہے‘ مذکور دلت بھی چاہتے ہیں ان کے پاس سے دلت نوجوان پجاری بنیں۔ان لوگوں نے عزم کے ساتھ کہاکہ’’ یہ ماہ ختم ہونے سے قبل ہم مندر کی تعمیرمکمل کرلیں گے اس کے لئے چاہئے جو بھی ‘‘۔‘

مسٹر ٹی سرینواسلو جنھوں نے مقامی دلتوں کوٹی ٹی ڈی فنڈ حاصل کرنے میں مدد کی ہے نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ تعمیر کے لئے گاؤں کے سکریٹری کی جانب سے صاف طور پر احکامات کے بعد بھی مندر کی تعمیرشروع کی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT