Thursday , June 21 2018
Home / Top Stories / دلتوں کا بھارت بند ، کئی ریاستوں میں تشدد بھڑک اُٹھا ، 9 افراد ہلاک

دلتوں کا بھارت بند ، کئی ریاستوں میں تشدد بھڑک اُٹھا ، 9 افراد ہلاک

 

سپریم کورٹ فیصلے کے خلاف مدھیہ پردیش ، اُترپردیش ، گجرات ، ہریانہ و دیگر مقامات پر پُرتشدد احتجاج ، سینکڑوں گرفتار ، راجستھان میں انٹرنیٹ خدمات مسدود

نئی دہلی ۔2 اپریل ۔(سیاست ڈاٹ کام) دلتوں سے متعلق قانون پر سپریم کورٹ رولنگ پر اظہاربرہمی کے لئے منائے گئے بند کے دوران ملک بھر میں 9 افراد ہلاک اور سینکڑوں گرفتار ہوگئے ۔ ملک کی دیگر کئی ریاستوں میں بھی تشدد پھوٹ پڑا ۔ ملک بھر کی مختلف دلت تنظیموں نے بھارت بند کی اپیل کی تھی جس کو چند سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل تھی ۔ بند کے دوران کئی مقامات پر دلت احتجاجیوں اور سکیورٹی فورسیس کے درمیان تصادم ، توڑ پھوڑ ، سنگباری کے واقعات پیش آئے ۔ پرتشدد احتجاجیوں سے نمٹنے کیلئے مدھیہ پردیش کے علاوہ راجستھان ، پنجاب ، ہریانہ ، اُتراکھنڈ ، جھارکھنڈ ، بہار ، اڈیشہ ، اُترپردیش میں بھی پولیس فائرنگ کی گئی ۔ ایک ایسے وقت جب چند ریاستوں کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہورہی تھی کہ بی جے پی زیرقیادت مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں درخواست نظرثانی پیش کی اور گزشتہ ماہ معلنہ اُس فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی استدعاء کی جس میں درج فہرست طبقات و قبائیل ( انسداد مظالم) قانون کے تحت درج کردہ مقدمات میں ملزمین کی فی الفور اور خودبخود گرفتاری کی دفعہ کو نرم بنایا گیا ہے۔ دلتوں کے ملک گیر بند میں پھوٹ پڑنے والے تشد د کے درمیان کانگریس کے صدر راہول گاندھی اور بی جے پی قائدین نے اس مسئلہ پر ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔راہول گاندھی نے کہاکہ ’’دلتوں کو دبانا اور کچلنا آر ایس ایس ، بی جے پی کے ڈی این اے میں شامل ہے ‘‘ ۔ کانگریس کے صدر نے کہاکہ ’’ہندوستانی سماج میں دلتوں کو سب سے نیچے رکھنا آر ایس ایس ؍ بی جے پی کے ڈی این اے میں ہے ۔ جو کوئی اس کو چیلنج کرنے کی جرأت کرتا ہے اُس کو تشدد کے ذریعہ کچل دیا جاتا ہے ‘‘ ۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد نے جوابی وار کرتے ہوئے کانگریس پر دلت رہنما اور بابائے ہندوستانی دستور بی آر امبیڈکر کے ساتھ سیاسی کھلواڑ کرنے کا الزام عائد کیا۔ روی شنکر پرساد نے کہاکہ ’’امبیڈـکر کو وی پی سنگھ دور حکومت میں بھارت رتن ایوارڈ دیا گیا اور اُس حکومت کو بی جے پی کی تائید حاصل تھی ‘‘ ۔ انھوں نے مزید کہاکہ ’’سپریم کورٹ میں ہم درخواست نظرثانی دائر کرچکے ہیں اورپوری عاجزی و احترام کے ساتھ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ احکام میں بتائے گئے اسباب اور وجوہات سے ہم اتفاق نہیں کرتے ‘‘ ۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی تمام سیاسی جماعتوں اور تنظیموں سے تشدد میں ملوث نہ ہونے اور امن و قانون برقرار رکھنے کی اپیل کی ۔ اُترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی ریاست کے عوام سے امن و قانون برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے ۔ اعظم گڑھ میں چند بسوں کو نذر آتش کردیا گیا ۔ آگرہ ، سنبھل ، ہاپور اور میرٹھ میں بھی پرتشدد احتجاج کیا گیا ۔ مدھیہ پردیش کے ضلع مورینا میں جھڑپوں کے دوران چار افراد ہلاک ہوگئے جب احتجاجیوں نے ریلوے کراسنگ کی ناکہ بندی کرتے ہوئے سرکاری املاک کو آگ لگادی ۔ گوالیار میں 9 افراد زخمی ہوگئے جن میں دو کی حالت تشویشناک ہے ۔ بھنڈ میں سنگباری کے واقعات پیش آئے ۔ ساگر میں احتجاجیوں اور سکیورٹی فورسیس کے درمیان جھڑپ ہوگئی ۔ مدھیہ پردیش کے کئی مقامات پر دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکام نافذ کردیئے گئے اور گوالیار میں کل صبح 6 بجے تک انٹرنیٹ سرویس منقطع کردی گئی ۔ اتراکھنڈ کے دہرہ دون میں احتجاجیوں نے دوکانات کو زبردستی بند کروادیا ۔ راجستھان میں نامعلوم شرپسندوں نے دوکانات میں توڑ پھوڑ کی ۔ بارمیر میں کاروں ودیگر گاڑیوں اور چند سرکاری املاک کو نقصان پہونچایا گیا۔ بارمیر اور الور میں کل صبح 8 بجے تک انٹرنیٹ خدمات مسدود کردی گئیں۔ بیرون دہلی کے کئی علاقوں میں احتجاجیوں نے پٹریوں پر لیٹ کر ٹرینوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ پیدا کی۔ پنجاب کے امبالہ اور ہریانہ کے روہتک کے علاوہ دونوں ریاستوں کے مشترکہ دارالحکومت چندی گڑھ میں بڑے پیمانے پر احتجاج دیکھا گیا ۔ پنجاب میں سی بی ایس ای کی 10 ویں اور 12 ویں جماعتو ںکے آج مقرر امتحانات کو حکومت کی درخواست پر ملتوی کردیا گیا ۔ گجرات کے مختلف مقامات پر بھی پرتشدد احتجاج کیا گیا ۔ احمدآباد ، گاندھی نگر ، راجکوٹ ، جام نگر میں دلتوں نے احتجاج کے دوران سپریم کورٹ فیصلے کی نقل کو نذر آتش کردیا ۔ پٹنہ میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی نے درج فہرست طبقات و قبائیل سے متعلق قانون پر سپریم کورٹ رولنگ کی نفی کیلئے مرکز سے خاطر خواہ اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان میں قرارداد کی منظوری پر زور دیا۔ اُڈیشہ کے مختلف حصوں میں عام زندگی جزوی طورپر متاثر رہی ۔ ملک کے کئی مقامات پر ٹرینوں کی آمد و رفت میں خلل اندازی کی گئی جس کے نتیجہ میں چند ٹرینوں کو منسوخ کردیا گیا ۔

TOPPOPULARRECENT