Tuesday , July 17 2018
Home / اداریہ / دلتوں کا ملک گیراحتجاج

دلتوں کا ملک گیراحتجاج

کوئی سنتا نہیں فغانِ غریب
لطف کیا زخمِ دل دکھانے میں
دلتوں کا ملک گیراحتجاج
ملک کے رائے دہندوں کو جب سیاست دانوں کو ووٹ دینے کا صلہ نہ ملے اور عدلیہ کے سہارے ان پر جبر کرنے کا طریقہ اختیار کیا جائے تو لوگ اپنے حق کے لئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ گزشتہ روز ملک میں دلتوں نے بھی سڑکوں پر آکر ایس سی ؍ ایس ٹی مظالم قانون میں ترمیم کرنے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا۔ بھارت بند کے دوران دلتوں نے اپنے حق میں قبل ازیں وضع و نافذ کردہ قانون ایس سی ؍ ایس ٹی مظالم قانون کو نرم کرنے کی مخالفت کی۔ موجودہ نریندر مودی حکومت کے دور میں جب عدلیہ کی جانب سے قدم اٹھایا گیا تو دلتوں کے لئے یہ تبدیلی ناقابل قبول سمجھی گئی۔ اس قانون کے حوالے سے مودی حکومت نے بہت بڑی فنکاری سے سپریم کورٹ میں درخواست نظرثانی داخل کرکے اپنے عیب چھپانے کی کوشش کی۔ یہاں حکومت نے دلتوں کو دیئے گئے قانونی سہارے کو ہٹا دیتے ہوئے انہیں سماج کے ظلم اور زیادتیوں کے آگے سنبھلنے کا موقع ہی چھین لینا چاہا ہے۔ قانون کے ذریعہ یہاں کسی کو کوئی رستہ نہیں دینا چاہتے تو پھر حکومت ان دلتوں کو ان کے حقوق سے گرا کر خود کو سیاسی طور پر سنبھالنے میں کامیاب ہوسکے گی، یہ آنے والے انتخابات میں بتائیں گے۔ دلتوں نے بہرحال حکومت کی پالیسی نما کھلونوں سے بہل کر بہہ جانے کے بجائے اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر جمع ہوکر آواز اٹھائی جس کے بعد سارے ملک میں دلتوں نے ثابت کردیا کہ حکومت کے لئے اب کہیں سورج نہیں ہوگا؟ انہوں نے اپنے احتجاج کے ذریعہ جب فضاء کو دھواں دھواں کردیا تو حکومت نے سپریم کورٹ میں درخواست نظر ثانی داخل کی جس پر عدالت عالیہ نے پھر فوری طور پر اس معاملے کا جائزہ لیا اور اپنے فیصلہ کو واپس لینے سے انکار کردیا۔ یہی ایک مقام ہے جہاں ہندوستانی شہریوں کو قانون پر اپنی زندگی کا خواب چند اُمیدیں بنانے کا حوصلہ ملتا ہے۔ دلتوں کی آواز کے بعد سیاست دانوں کی آوازوں کے بازاروں میں خاموشی چھا گئی۔ تشدد کے ذریعہ دلتوں کے احتجاج کو ناکام بنانے کی بھی کوشش کی گئی۔ اس طرح کے واقعات میں 9 افراد ہلاک ہوگئے۔ کئی ریاستوں میں دلتوں نے سڑکوں پر نکل کر ایک نکتہ پر ہی آواز اٹھا رہے تھے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ شیڈول کاسٹس اینڈ شیڈول ٹرائبس (انسداد مظالم) قانون کے بعض دفعات کو حذف کرنے کا جو حکم دیا تھا، اسے واپس لیا جائے۔ دلتوں کو غصہ اس وقت آیا جب سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے پر غور کرنے سے انکار کردیا۔ 20مارچ کو حکم جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ایس سی ؍ ایس ٹی قانون کے تحت خاطی کو قبل از وقت گرفتاری ضمانت حاصل کرنے پر پابندی کو ہٹالینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد جو تنازعہ پیدا ہوا، اس سے نمٹنے میں حکومت اور عدالت عالیہ کے رویہ سے ناراض دلتوں نے محسوس کیا کہ مرکز اپنی سیاسی طاقت کے ذریعہ قانون پر غالب آنے کی کوشش کررہی ہے جس کی وجہ سے ہندوستان کی جمہوریت کو ٹھیس پہونچانے والے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ عدالتوں کو قوانین کے محافظ مانا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں انہیں شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا بھی مرکز سمجھا جاتا ہے تاہم سیاسی معاملہ داری نے جب عدالتوں کو سماجی سودے بازی کا مرکز بناکر حالات بگاڑنے کا کام کرے تو اس کے ذریعہ جو ہاتھ میں نہیں ہے، وہ پتھر تلاش کررہے ہیں۔ یہ تو شکر ہے کہ ہندوستان میں قانون و عدلیہ کا طاقتور نظام موجود ہے، اس لئے دلتوں یا کسی بھی ہندوستانی شہری کو اپنی عدلیہ پر کامل ایقان و اعتماد ہے مگر جب عدالتوں کو سیاسی طاقتوں کی جانب سے ہائی جیک کرلینے کی کوشش کی جاتی ہے تو پھر ہندوستانیوں کو آواز اٹھانے کیلئے سڑکوں پر نکل آنا پڑتا ہے۔ پیر کے دن ملک کی مختلف ریاستوں میں دلتوں نے جس طرح کا احتجاجی مظاہرہ کیا، یہ سارے سماج کے عوام کی آنکھ کھولنے کیلئے کافی ہے کہ جب دلت طبقہ اپنے حقوق کے لئے صدائے احتجاج بلند کرتا ہے تو ان کے حق میں ہم آواز بنتے ہوئے حکومت کی منطقی کارروائیوں کو ناکام بنانے کی کوشش ہوتی ہے ۔ سپریم کورٹ کا یہ احساس بھی قابل غور ہے کہ ایس سی ؍ ایس ٹی مظالم قانون کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ دلتوں کے بعض گوشوں کی جانب سے اس قانون کا غلط اور بے جا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ غیرقاانونی سرگرمیوں اور غیرسماجی کارروائیوں میں ملوث دلتوں کے خلاف جب کارروائی کی جاتی ہے تو سرکاری عہدیداروں کے خلاف دلتوں پر مظالم کا الزام عائد کرنے ان کے خلاف ایس سی ؍ ایس ٹی قانون پر مقدمہ چلانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ جس سے سرکاری عہدیدار، بیورو کریٹس کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کے علم میں یہ بات لائی گئی اور اس طرح کی شکایتوں کا انبار لگ گیا تو سپریم کورٹ کو اس قانون کی سختیوں کو نرم کرنے کا جائزہ لینا پڑا جب کسی کو کسی سے کوئی شکایت ہو تو اس کے سامنے آئینہ رکھنے سے سچائی کو تسلیم کرلینا جہاں ضروری ہوتا ہے، وہیں حقوق کے تحفظ کا حوصلہ رکھنا بھی ہر ایک کا حق ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT