Tuesday , September 18 2018
Home / شہر کی خبریں / دلتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہر حکومت کی ذمہ داری

دلتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہر حکومت کی ذمہ داری

صحافیوں کے اکریڈیٹیشن منسوخ کرنے مرکز کے فیصلے کی مخالفت ، چیف منسٹر کے سی آر کا بیان
حیدرآباد ۔ 3 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے ملک کے مختلف ریاستوں میں دلتوں پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کی ۔ جھوٹی خبریں تحریر کرنے پر صحافیوں کے اکریڈیٹیشن منسوخ کرنے مرکزی حکومت کے فیصلے کی مخالفت کی ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے سماجی معاشی اور سیاسی طور پر پسماندہ دلتوں پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومتیں ہر شعبہ میں ان سے مکمل تعاون اور انصاف کریں ۔ نظر انداز کردہ دلتوں سے تعاون کرنے کے لیے دستور ہند میں خصوصی حقوق فراہم کئے گئے ۔ مرکزی حکومت نے بھی دلتوں سے تعاون و اشتراک کرنے کے لیے کئی قانون سازی کی ہے ۔ دلتوں کے تحفظ اور حقوق کی فراہمی کے لیے جو قانون سازی کی گئی ہے اس پر مکمل عمل آوری کرنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حال ہی میں سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط سے اپنی حق تلفی ہونے اور قانون کی خلاف ورزی ہونے کے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے دلت طبقات اپنا احتجاج درج کرارہے ہیں ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ دلتوں کے احساسات اور جذبات کو عدلیہ بھی ہمدردی سے غور کریں ۔ دلتوں کے تحفظ کے لیے قانون پر عمل کرنے کی ذمہ دار رہنے والی حکومت بھی سپریم کورٹ کے رہنمایانہ وصول پر اپنے ردعمل کا اظہار کرے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے اس مسئلہ پر وزیراعظم نریندر مودی پر زور دیا کہ وہ چیف جسٹس سپریم کورٹ سے تبادلہ خیال کریں ۔ سپریم کورٹ نے ایس سی ، ایس ٹی اسٹراسٹی ایکٹ کی عمل آوری کے لیے جو رہنمایانہ وصول جاری کئے ہیں اس سے دلتوں کے جذبات کو جو ٹھیس پہونچی ہے ۔ مرکزی حکومت اس سے سپریم کورٹ کو واقف کرائے ۔ اپنے حقوق سے محروم ہونے پر دلت طبقات میں پائی جانے والی بے چینی کو ہمدردانہ طور پر غور کریں اور انہیں اعتماد میں لینے کے اقدامات کریں ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے جھوٹی اور بے بنیاد خبریں تحریر کرنے والے صحافیوں کے اکریڈیشن کارڈ منسوخ کرنے کا مرکزی حکومت نے جو فیصلہ کیا ہے اس پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ صحافت کی آزادی چھین لینے اور شہری حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے ۔ صحافت کی آزادی کا تحفظ و احترام کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ غلط اور جھوٹی خبروں کے خلاف کارروائی کے لیے پہلے سے قوانین موجود ہیں ۔ حکومت کے اس فیصلے سے ملک کے ہزاروں جرنلسٹوں میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT