Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / دلت اسکالر کی خودکشی کیخلاف احتجاج میں زبردست شدت

دلت اسکالر کی خودکشی کیخلاف احتجاج میں زبردست شدت

بنڈارو دتاتریہ کی رہائش گاہ پر کویتا کی تنظیم کے کارکنوں کا مظاہرہ، ایچ سی یو میں بی جے پی ترجمان کی کارکے آئینہ چکنا چور
حیدرآباد 19 جنوری (پی ٹی آئی) یونیورسٹی آف حیدرآباد کے ایک دلت ریسرچ اسکالر روہت ویمولہ کی خودکشی کے خلاف طلبہ کے احتجاج میں آج زبردست شدت پیدا ہوگئی۔ طلبہ نے یونیورسٹی کیمپس میں مظاہرہ کرتے ہوئے اس مقدمہ میں ماخوذ مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ، وائس چانسلر پی اپا راؤ کی فی الفور برطرفی و گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ روہت کی خودکشی کے خلاف حیدرآباد میں جاری احتجاج ملک کے دیگر کئی شہروں میں پھیل گیا۔ قومی دارالحکومت دہلی کے علاوہ پونے، چینائی، گاندھی نگر میں بھی طلبہ نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے مرکزی وزراء بنڈارو دتاتریہ اور سمرتی زوبین ایرانی کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے ان کے پتلوں کو نذر آتش کیا۔ تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی دختر اور نظام آباد کی رکن لوک سبھا کالوا کنٹلہ کویتا کے زیرقیادت تہذیبی تلنگانہ تلنگانہ جاگرتی یوتھ فرنٹ کے کارکنوں نے مشیرآباد کے علاقہ رام نگر میں واقع بنڈارو دتاتریہ کی رہائش گاہ پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے انھیں پی ایچ ڈی اسکالر روہت ویمولہ کی موت کا ذمہ دار قرار دیا۔ دلت نوجوان جس کو دیگر پانچ طلبہ کے ساتھ یونیورسٹی سے معطل کیا گیا تھا، اتوار کو ہاسٹل کے ایک کمرہ میں پھانسی پر لٹکا ہوا پایا گیا تھا۔ سنٹرل زون کے پولیس ڈپٹی کمشنر کملاسن ریڈی نے کہاکہ ’’مرکزی وزیر (دتاتریہ) کے گھر پر دھرنا دینے والے 37 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس دوران یونیورسٹی کیمپس میں سینکڑوں طلبہ نے اپنے احتجاج میں شدت پیدا کرتے ہوئے مرکزی وزیر دتاتریہ اور وائس چانسلر اپا راؤ کے علاوہ بی جے پی ایم ایل سی رامچندر راؤ اور بی جے پی کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی کے ان دو قائدین کو جیل بھیجنے کا مطالبہ کیا جن کے نام ایف آئی آر میں درج ہیں۔ برہم طلبہ نے کیمپس میں ریالی منظم کرتے ہوئے ’’ہمیں انصاف چاہئے‘‘ کا نعرہ لگایا اور دتاتریہ اور چند دوسروں کو روہت کی موت کا ذمہ دار قرار دیا۔ تلنگانہ بی جے پی کے ترجمان پرکاش ریڈی کی کار پر کیمپس میں طلبہ نے حملہ کردیا جس کے نتیجہ میں کار کے آئینے چکناچور ہوگئے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT