Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / دلت اسکالر کی خود کشی ‘ قومی پسماندہ طبقات کمیشن کی برہمی

دلت اسکالر کی خود کشی ‘ قومی پسماندہ طبقات کمیشن کی برہمی

تیز رفتار تحقیقات پر صدر نشین پی ایل پونیا کا زور ۔ کمشنر پولیس حیدرآباد کو طلب کرنے کا انکشاف
نئی دہلی 19 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) پسماندہ طبقات کے قومی کمیشن نے حیدرآباد میں دلت ریسرچ اسکالر روہت ویمولا کی خود کشی واقعہ کی تحقیقات میں سستی پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ یہ واقعہ ایک بڑے سیاسی تنازعہ کی صورت اختیار کرگیا ہے ۔ کمیشن کے صدر نشین پی ایل پونیا نے کہا کہ کمیشن کی جانب سے تحقیقاتی عمل پر گہری نظر رکھی جائیگی اور تحقیقات کو تیزرفتار اور منصفانہ بنانے کیلئے عہدیداروں کو طلب کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائیگا ۔ ویمولا حیدرآباد یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر تھے اور ان کی خود کشی سے دو مرکزی وزرا بنڈارو دتاتریہ اور اسمرتی ایرانی کے خلاف ملک گیر سطح پر تنقیدوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ ان وزرا پرا لزام ہے کہ انہوں نے دلت اسکالر کو یونیورسٹی سے سزا دلانے میں دباؤ ڈالا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کی ٹیم کے حیدرآباد پہونچنے کی اطلاع پر پولیس حرکت میں آئی ہے ۔ انہوںنے حیدرآباد میں کمشنر پولیس کو بھی طلب کیا ہے اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس نے ویمولا اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے پہلے دی گئی درخواستوں اور شکایتوں کو نظر انداز کردیا تھا ۔ کہا جا رہا ہے کہ 2015 میں درج فہرست ذاتوں و درج فہرست قبائل ( انسداد مظالم ) قانون تیار کیا گیا تھا جس کے تحت سخت سزائیں مل سکتی ہیں اور روہت ویمولا کا مقدمہ اس قانون کے تحت چلنے والا پہلا مقدمہ ہوسکتا ہے ۔ نئے قانون کے تحت دلتوں اور قبائلیوں کے معاشی یا سماجی بائیکاٹ کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا تھا اور پانچ سال قید تک کی سزا ہوسکتی ہے ۔ مسٹر پونیا نے کہا کہ دلت طلبا کا واضح سماجی بائیکاٹ کیا گیا اور امتیاز برتا گیا ۔ انہیں عام علاقوں میں داخلہ سے بھی روک دیا گیا تھا ۔ مسٹر پونیا نے سوال کیا کہ ایک فرد کو دو مرتبہ تحقیقات میں بری کردیا گیا تھا اور پھر کس طرح سے اسی کو بعد میں سزا دی جاسکتی ہے ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ وہ مقامی افراد اور طلبا سے بات چیت کرچکے ہیں اور انہوں نے کئی انکشافات کئے ہیں۔ ہم کو یہ دیکھنا ہے کہ تحقیقاتی ایجنسیاں ان حقائق کو بھی نظر میں رکھتی ہیں یا نہیں۔

TOPPOPULARRECENT