Saturday , April 21 2018
Home / شہر کی خبریں / دلت اور مسلم اتحاد سے برہمن واد کے نظریہ کو شکست ممکن

دلت اور مسلم اتحاد سے برہمن واد کے نظریہ کو شکست ممکن

ملک میں اعلیٰ ذات کی حکمرانی ، انقلابی مصنف کامریڈ ورا ورا راؤ سے بات چیت
حیدرآباد۔15جنوری(سیاست نیوز) ملک میں پسماندہ طبقات‘ دلتوں اور مسلمانوں کا اتحاد برہمن واد کے نظریہ کو شکست دے سکتا ہے برہمن واد کا نظریہ ملک میں سامراجیت کو فروغ دینے کا باعث ہے اور اس نظریہ کا مقصد ملک کو تجارتی منڈی میں تبدیل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ انقلابی مصنف کامریڈ وراورا راؤ نے خصوصی ملاقات کے دوران بتایاکہ ہندستان میں اعلی ذات کی حکمرانی نے ملک کے پسماندہ طبقات اور مسلمانو ںکو کچلنے کی کوشش کی ہے اور فرقہ وارانہ منافرت کے ذریعہ عوام کے درمیان دوریاں پیدا کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے سیکولر ڈھانچہ کے تحفظ اور نظام کو بہتر بنانے کیلئے ضروری ہے کہ سماج کے کمزور طبقات میں اتحاد پیدا ہو اور عوام آر ایس ایس کے نظریات کو سمجھیں جو دراصل سامراجیت وآمریت کو فروغ دینے والا نظام ہے۔ورا ورا راؤ نے بتایا کہ ملک میں ہندو توا کا جو نظریہ آر ایس ایس کی جانب سے پیش کیا جار ہا ہے دراصل وہ کوئی نظریہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک خام خیالی ہے جس کی بنیاد پر عوام میں جذبات کو ابھارا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد معاملہ میں 1992کے حالات کی ابتداء 1984 میں ہوچکی تھی اور حکمراں طبقہ کی جانب سے اعلی ذات کو خوش رکھنے کیلئے اس طرح کے اقدامات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے ہندستان میں بسنے والے شہریوں کے پرامن نظریات کو تباہ کن رخ دینے کیلئے برہمن واد کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے کئی حصوں میں آر ایس ایس کی جنگ مسلمانوں سے نہیں ہے بلکہ وہ تو دلتوں اور پسماندہ طبقات کے خلاف اب بھی جدوجہد کر رہے ہیں اسی لئے عوام کواس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح سے ان کا استعمال کیا جا رہا ہے اور کون انہیں اپنے نشانہ پر رکھے ہوئے ہے۔مسٹر ورا ورا راؤ نے نریندر مودی کو بالواسطہ تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ اچھے دن ‘ میک ان انڈیا کا نظریہ سرمایہ دارانہ نظام کیلئے ہے یہ عوام سمجھتے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے امریکہ ‘ اسرائیل اور ہندستان کے تعلقات میں استحکام کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان اپنے خارجی پالیسی اور نظریات کو تہہ تیغ کرتے ہوئے اسرائیل سے اپنے تعلقات استوار کر رہاہے جو کہ ملک کے مستقبل اور اس کے نظریات کے لئے مناسب نہیں ہے۔ انہو ںنے دہلی کی تین مورتی سڑک کو اسرائیلی شہر حیفہ کے نام سے موسوم کئے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان میں اسرائیلی نظریہ کو فروغ دیتے ہوئے ہندستان اپنے قدیم رفقاء اور اپنی غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی کو بتدریج تبدیل کر نے لگا ہے۔گھر واپسی کے متنازعہ موضوع کا تذکرہ کرتے ہوئے انقلابی مصنف نے کہا کہ ملک میںاس ’’گھرواپسی‘‘ جیسے اچھے لفظ کو نفرت کیلئے استعمال کیا جارہاہے۔انہوںنے کہا کہ آر ایس ایس کے نظریات کے نام پر جو نظریہ ملک کے عوام کے درمیان پیش کیا جا رہا ہے وہ کوئی آر ایس ایس کا نظریہ نہیں ہے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام اور سامراجیت کا نظریہ ہے جسے جرمن‘ امریکہ ‘ فرانس و دیگر ممالک میں فروغ حاصل ہوتا رہاہے اور اب یہ ممالک ہندستان میں اس نظریہ کو فروغ دینے کیلئے کوشاں ہیں۔ ورا ورا راؤ نے کہا کہ یہ تصور کسی بھی مذہب میں نہیں ہے کہ جو لوگ خدا پر یقین رکھتے ہیں وہ خدا کے گھر کو منہدم کریں ۔ انہوں نے بتایا کہ عوام کے درمیان نفرت کی سیاست کو فروغ دینے کے لئے مذہب کا استعمال کرنے والوں نے خدا کے ماننے والوں کے ذریعہ خدا کے گھر کی شہادت کروائی ہے اور اس کے نتائج آج ہندستانی عوام کے سامنے ہیں۔انہوں نے گاؤ کشی ‘ عدلیہ میں بحران‘ فرقہ وارانہ منافرت‘ اور دیگر موضوعات کو حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندستان کو سامراجی قوتوں کے لئے بازار بنانے اور ایسٹ انڈیا کمپنی جیسی قوتوں کا غلام بنانے کیلئے اس طرح کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے جو کہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوںنے مسلم ‘ دلت اور پسماندہ طبقات کے ساتھ قبائیلیوں کے اتحاد کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ قبائیلی طبقات کو بچانے کیلئے ضروری ہے کہ انہیں بھی ساتھ لیا جائے کیونکہ یہ اعلی ذات کے نظریات اور برہمن واد کا نظریہ ان کے بھی خلاف ہے اور ان کے خاتمہ کی کوشش میں مصروف ہے۔انہوں نے بھیما کورے گاؤں واقعہ میں دلتوں اور مرہٹوں کے درمیان ہونے والے پر تشدد واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک تاریخی نظریاتی جنگ ہے جس میں دلت اور مسلمانوں نے اسی سامراجیت کے خلاف آواز اٹھائی تھی جو انہیں کچلنے کی کوشش میں تھا۔

TOPPOPULARRECENT