Tuesday , June 19 2018
Home / Top Stories / دلت ریلی کیلئے اجازت سے انکار ’گجرات ماڈل‘ سیاست کی مثال

دلت ریلی کیلئے اجازت سے انکار ’گجرات ماڈل‘ سیاست کی مثال

مودی حکومت سے دستور اور جمہوریت کو خطرہ لاحق، پارلیمنٹ اسٹریٹ پر جگنیش میوانی کا خطاب

نئی دہلی 9 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) گجرات کے دلت لیڈر جگنیش میوانی نے آج کہاکہ مودی حکومت ملک کی جمہوریت اور دستور کے لئے ایک خطرہ بن گئی ہے۔ میوانی آج یہاں ایک ریلی سے خطاب کررہے تھے جس کے انعقاد کی اجازت دینے سے پولیس نے انکار کردیا تھا۔ گجرات کے حلقہ وڈگام سے نومنتخب رکن اسمبلی نے پارلیمنٹ اسٹریٹ کے قریب ’یوا ہنگار‘‘ ریلی کی اجازت دینے سے پولیس کے انکار کو ’’گجرات ماڈل‘‘ سیاست کی ایک مثال قرار دیا ہے۔ میوانی نے دہلی، لکھنؤ، الہ آباد اور دیگر مقامات سے آئے ہوئے طلبہ اور جہدکاروں پر مشتمل ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’اس ملک کے 125 کروڑ عوام دیکھ رہے ہیں۔ کسی کو محض اس لئے خطاب کی اجازت نہیں دی جارہی ہے کیوں کہ اُس نے چندرشیکھر آزاد کی رہائی، دستور پر عمل آوری اور نوجوانوں کو دو کروڑ ملازمتیں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ ’’اگر کسی منتخبہ نمائندہ کو ایسا کرنے کا حق نہیں دیا جاتا تو پھر یہ ’’گجرات ماڈل‘‘ ہی ہے۔ قومی دارالحکومت کے مرکزی مقام پارلیمنٹ اسٹریٹ پر یہ ریالی منعقد ہوئی تھی جہاں سال بھر امتناعی احکام نافذ رہتے ہیں۔ اس ریلی میں دلت تنظیم بھیم آرمی کے بانی چندرشیکھر آزاد کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ ریلی نے تعلیمی حقوق، روزگار، عوام کے حالات زندگی اور صنفی مساوات جیسے مسائل پر بھی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی۔ میوانی نے کہاکہ وہ نفرت کی سیاست کے خلاف جدوجہد کریں گے اور دستوری اقدار کی پاسداری کی جائے گی اور گجرات انتخابات کے بعد کانگریس کے صدر راہول گاندھی کے بیانات کے خطوط پر ’’امن و محبت کی سیاست‘‘ کو فروغ دیا جائے گا۔ میوانی نے کہاکہ ’’میں لو جہاد پر نہیں بلکہ، محبت کی سیاست پر یقین رکھتا ہوں۔ مَیں اتحاد کی سیاست پر یقین رکھتا ہوں۔ الپیش ٹھاکر، ہاردک پٹیل اور مجھے محض اس لئے نشانہ بنایا جارہا ہے کہ گجرات میں ہم نے بی جے پی کے گھمنڈ اور ہٹ دھرمی کو توڑ دیا ہے۔ آج ہماری جمہوریت اور دستور پر خطرات منڈلارہے ہیں‘‘۔ یہ ریلی ایک بجے دن شروع ہوئی۔ جے این یو کے موجودہ اور سابق طلبہ قائدین کنہیا کمار، شہلا راشد، عمر خالد اور دوسرے شہ نشین پر موجود تھے۔ حکام اگرچہ لمحہ آخر تک کہتے رہے کہ میوانی اور ان کے حامیوں کو یہ ریلی منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعدازاں ریلی کے منتظمین اور دہلی پولیس کے درمیان مفاہمت ہوگئی تھی۔ پارلیمنٹ سے چند میٹر کے فاصلے پر منعقدہ اس ریلی میں آسام کے کسان لیڈر اکھل گوگوئی اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے علاوہ جے این یو، دہلی یونیورسٹی، لکھنؤ یونیورسٹی اور الہ آباد یونیورسٹی کے طلبہ و جہد کاروں کی کثیر تعداد شرکاء میں شامل تھی۔ 30 سالہ دلت لیڈر چندرشیکھر آزاد کو گزشتہ سال جون کے دوران ہماچل پردیش میں گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ وہ اترپردیش کے سہارنپور ضلع میں ٹھاکر ۔ دلت تصادم کے اصل ملزم ہیں۔ چندرشیکھر کے حامی اس ریلی میں ان کی تصویروں پر مشتمل پوسٹرس لہرا رہے تھے۔

TOPPOPULARRECENT