Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / دلت طالبعلم کی خودکشی کی تحقیقات سابق ہائیکورٹ جج کریں گے

دلت طالبعلم کی خودکشی کی تحقیقات سابق ہائیکورٹ جج کریں گے

نئی دہلی ۔ /28 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) الہ آباد ہائیکورٹ کے سابق جج اشوک کمار روپن مل کو مرکز کی جانب سے ان حالات کی تحقیقات کیلئے مقرر کیا گیا ہے ۔ جن کے نتیجہ میں دلت طالبعلم نے خودکشی کرلی تھی ۔ دریں اثناء حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے احاطہ میں ایس سی ، ایس ٹی اساتذہ اسوسی ایشن کے پرچم تلے اساتذہ کی بھوک ہڑتال جاری ہے ۔ جس میں آج عثمانیہ یونیورسٹی کے اساتذہ بھی شامل ہوگئے ۔

دہلی میں طلبہ کی بھوک ہڑتال جاری ، مزید 40 طلبہ زیرحراست
نئی دہلی ۔ 28 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ کی حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے محقق روہت ویمولا کی خوشی پر غیرمعینہ مدت کی احتجاجی ہڑتال آج بھی دہلی میں جاری رہی۔ دریں اثناء پولیس کے بموجب شاستری بھون کے باہر 40 مزید طلبہ کو حراست میںلے لیا گیا جو وزارت کے احاطہ میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ 150 احتجاجی طلبہ کو کل حراست میں لے کر پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال کررہے ہیں۔

 

دلت اسکالر کی خود کشی ‘ مشترکہ پارلیمانی ٹیم کا متوقع دورہ حیدرآباد
آئی آئی ٹی چینائی کو بھی وفد روانہ کیا جاسکتا ہے ۔ اسپیکر لوک سبھا سے منظوری لی جائیگی
نئی دہلی 28 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) حیدرآباد یونیورسٹی میں خود کشی دلت ریسرچ اسکالر روہت ویمولہ کی خود کشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک پارلیمانی کمیٹی نے حیدرآباد یونیورسٹی اور آئی آئی ٹی چینائی کو ایک وفد بھیجنے کی حمایت کی ہے تاکہ یہاں دلت طلبا سے ہونے والی نا انصافی اور امتیاز کی شکایات کا جائزہ لیا جاسکے ۔ درج فہرست ذاتوں اور قبائل کی فلاح و بہبود سے متعلق مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت بی جے پی کے رکن فگن سنگھ نے کی ۔ اس اجلاس میں ارکان نے پٹرولیم محکمہ اور بھارت سنچار نگم لمیٹیڈ کے سکریٹریز کی عدم موجودگی پر بھی شدید اعتراض کیا ۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن سے رابطہ کرکے سکریٹریز کی جانب سے پارلیمانی پیانل کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کا مسئلہ رجوع کریگی ۔ اس کے علاوہ حیدرآباد یونیورسٹی کا دورہ کرنے وفد کی روانگی اور آئی آئی ٹی چینائی کے حالات کا جائزہ لینے بھی وفد روانہ کرنے ان کی منظوری حاصل کی جائیگی ۔ ان دونوں اداروں کے واقعات سے دلت طلبا پر مظالم کا مسئلہ موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔ مشترکہ کمیٹی کے اجلاس کا ایجنڈہ بھارت سنچار نگم لمیٹیڈ اوروزارت پٹرولیم کے تحت آنے والے اداروںمیں تحفظات کی پالیسی کا جائزہ لینا تھا تاہم چونکہ دونوں ہی متعلقہ محکمہ جات کے سکریٹریز اجلاس میں کچھ مصروفیات کا عذر پیش کرتے ہوئے شریک نہیں ہوسکے تھے اس لئے اجلاس میں ایجنڈہ پر تبادلہ خیال نہیں ہوسکا ۔ سکریٹریز کی عدم شرکت پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس میں ارکان نے سوال کیا کہ ان سکریٹریز نے اجلاس میں کیوں شرکت نہیں کی جبکہ اس کے ایجنڈہ سے انہیں واقف کروادیا گیا تھا اور ایک اہم مسئلہ پر تبادلہ خیال ہونا تھا ۔ واضح رہے کہ چند دن قبل ہی ایک اور پارلیمانی پیانل کے اجلاس میں معتمد داخلہ کی عدم شرکت پر بھی شدید اعتراض کیا گیا تھا ۔ انہیں چینائی سیلاب سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیلئے طلب کیا گیا تھا ۔ ترنمول کانگریس کے دو ارکان نے تو اجلاس سے واک آوٹ بھی کردیا تھا ۔ ان کا الزام تھا کہ متعلقہ محکمہ جات کے سکریٹریز اہم موقعوں پر کسی نہ کسی عذر اور بہانہ کے ذریعہ اجلاس میں شرکت نہیں کرتے ۔ اس طریقہ کار کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ کیونکہ بالآخر کسی پارلیمانی پیانل کو منی پارلیمنٹ سمجھا جاتا ہے ۔ سکریٹریز اور متعلقہ حکام کی عدم موجودگی پر ارکان نے شدید اعتراض کیا ہے ۔مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ایک رکن شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بات بتائی ۔

دلت اسکالر کی خود کشی واقعہ کے
خلاف احتجاجی مظاہرہ
گڈچیرولی ( مہاراشٹرا ) ۔ 28 ۔ جنوری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : حیدرآباد یونیورسٹی کے ایک دلت اسکالر کی خود کشی واقعہ کے خلاف چھتیس گڑھ کی سرحد سے متصل کروچی تعلقہ ( ضلع گڈچیرولی ) میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا یہ احتجاج مشترکہ طور پر کانگریس ، سی پی آئی ، بدھسٹ سوسائٹی آف انڈیا ، بھریپ بہوجن مہاسنگھ اور سمیکھ ودیارتھی اندولن نے مشترکہ طور پر کیا تھا یہ احتجاجی جلوس ہفتہ وار بازار سے گذرتے ہوئے تحصیل آفس پہنچا جس کے دوران تمام دکانات بند رکھے گئے ۔ تحصیل آفس پر دھرنا کو مخاطب کرتے ہوئے سیاسی اور تنظیموں کے قائدین نے مطالبہ کیا کہ دلت اسکالر روہت کی موت کے ذمہ داروں کو فی الفور گرفتار کیا جائے ۔ اس خصوص میں ایک میمورنڈم تحصیلدار وکاس ہٹواڑ کے توسط سے صدر جمہوریہ کو پیش کیا گیا ۔ مقامی پولیس کی جانب سے جلوس کی اجازت سے انکار کے باوجود دور افتادہ تعلقہ کے سینکڑوں لوگوں نے احتجاج میں شریک ہو کر غم و غصہ کا اظہار کیا ۔

 

 

 

 

TOPPOPULARRECENT