Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / دلت طالب علم کی خودکشی پر وزیر اعظم نے خاموشی توڑی، اظہار غم

دلت طالب علم کی خودکشی پر وزیر اعظم نے خاموشی توڑی، اظہار غم

لکھنؤ /22 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اپنی خاموشی توڑتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ایک دلت محقق کی خودکشی پر اظہار غم کیا۔ یہ محقق حیدرآباد یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔ وزیر اعظم کی تقریر کے دوران بعض طلبہ نے نعرہ بازی کی۔ جب میرے ملک کے ایک نوجوان روہت کی خودکشی کی اطلاع مجھے ملی، جسے خودکشی پر مجبور کردیا گیا تھا، تو مجھے انتہائی رنج ہوا۔ اس کے خاندان پر کیا گزری ہوگی۔ مادر ہند نے اپنا ایک بیٹا کھو دیا۔ اس کی وجوہات ہوں گی، لیکن اس پر سیاست کی جا رہی ہے۔ وہ بحیثیت مہمان خصوصی بی آر امبیڈکر یونیورسٹی لکھنؤ کے جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کر رہے تھے، جو طلبہ کے احتجاج کی وجہ سے داغدار ہو گیا تھا۔ دو احتجاجی طلبہ کو پولیس نے گرفتار کرکے بعد ازاں ضمانت پر رہا کردیا۔ وہ مودی مخالف نعرہ بازی کر رہے تھے۔ روہت ویمولا کی خودکشی جو حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کا طالب علم تھا، بڑے پیمانے پر تنازعہ کی وجہ بن گیا ہے۔ مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی اور وزیر محنت بنڈارو دتاتریہ سیاسی حریفوں کی شدید تنقید کا نشانہ بن گئے ہیں، جنھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ دونوں وزراء اس واقعہ کے ذمہ دار ہیں اور ان کی علحدگی کا مطالبہ کیا ہے۔ دو طلبہ جو نیلا لباس پہنے ہوئے تھے، جو ماسٹرس ڈگری کے محققین کے لئے مخصوص ہے، گرفتار کرلئے گئے۔ جب کہ انھوں نے وزیر اعظم کے شہ نشین پر آتے ہی نعرہ بازی شروع کردی تھی۔ یونیورسٹی کے پراکٹر کمل جیسوال نے کہا کہ ہم پریشان ہو گئے۔ ہم نے تمام احتیاطی اقدامات کئے تھے۔ قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم مودی نے روہت کی خودکشی کے پس پردہ سیاست کا تذکرہ نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ حکومت غریبوں، دلتوں، مجبوروں اور محروموں کے لئے وقف ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ زندگی میں مصائب کا شکار افراد کے لئے کچھ نہ کچھ کیا جائے۔ یہ حکومت غریبوں کی فلاح و بہبود کی پابند عہد ہے، ان کی زندگیوں کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔
یہ حکومت اس سلسلے میں مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ مودی کی پوری تقریر کے دوران ان پر ہمیشہ زبردست تنقید کی جاتی رہی، جس پر انھوں نے کہا کہ تنازعات انھیں غریبوں کے لئے جدوجہد سے نہیں روک سکتے۔ انھوں نے کہا کہ بعض اوقات ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پوری دنیا ان کا پیچھا کر رہی ہے، کیونکہ صبح سے ان پر تمام گوشوں سے تنقید کی جا رہی ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ مودی کو اس کی راہ گمراہ کیا جائے اور وہ تنازعات کا شکار بن جائیں، لیکن ان کا مقصد زندگی غریبوں اور پسماندہ افراد کی مدد ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ان تنقیدوں سے متاثر نہیں ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے، یہ تبدیلی کے عمل کا ایک حصہ ہے۔ انھوں نے تیقن دیا کہ درمیانی آدمیوں کو ختم کردیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بتدریج سختی میں اضافہ کیا جا رہا ہے، دوکانیں بند کی جا رہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایسے افراد پریشان ہیں اور مسائل پیدا کر رہے ہیں، لیکن وہ پریشان نہیں ہیں۔ اگر انھیں رنج ہوتا ہے تو اس کی وجہ غریبوں کا حال زار اور ان کے مسائل ہیں، دلالوں کے مسائل نہیں۔ انھوں نے مختلف صلاحیت رکھنے والے افراد کے بارے میں ذہنیت تبدیل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ خصوصی سماوی طاقتیں رکھتے ہیں، جنھیں خدا نے ایسی طاقتیں عطا کی ہیں، انھیں چاہئے کہ محروموں کی ضروریات کی تکمیل کریں۔ انھوں نے سنگمیا بھارت ابھیان کے آغاز کا اعلان کیا، جس کے تحت سرکاری دفاتر میں ایسے افراد کو سہولتیں فراہم کی جائیں گی، تاکہ ان کی زندگیاں آرامدہ ہوسکیں اور اگر ضرورت ہو تو ایسی چیزوں کی گنجائش فراہم کرنے کے لئے قواعد میں تبدیلی کی جائے گی۔ مودی نے اعلان کیا کہ ہر حکومت جو سہولتیں فراہم کرتی ہے اور معذوروں کے لئے بیٹھنے کے بیت الخلاء تعمیر کرتی ہے، اسے بدنام کیا جارہا ہے۔ حالانکہ عوام ہمدردی رکھتے ہیں، کیونکہ سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، چاہے وہ بسوں میں ہوں یا ٹرینوں میں۔ انھوں نے کہا کہ ہم ان کے لئے ہر ممکن کام کریں گے اور جہاں قواعد اور نظام تبدیل کرنے کی ضرورت ہو، انھیں تبدیل کیا جائے گا۔ 1992ء سے ایسے 100 کیمپوں کا اہتمام کیا گیا تھا، لیکن ان کی حکومت 2014ء میں قائم ہونے کے بعد ایسے 1800 کیمپ منعقد کئے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے وزیر اعظم جاپان شنزوایب کے کاشی میں ہمدردانہ الفاظ استعمال کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے اظہار افسوس کیا کہ شہر کے مضافات میں سڑک حادثے پیش آرہے ہیں۔ قبل ازیں دن میں ایک بس جس میں معذور افراد سفر کر رہے تھے، الٹ گئی تھی۔ انھوں نے تمام زخمی افراد کی عاجلانہ صحت یابی کی خواہش ظاہر کی۔ اس موقع پر حاضرین میں ہندوستانی نژاد برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ لومبا اور ان کی شریک حیات بھی موجود تھے۔ لومبا نے ہندی میں جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زیر صدارت ایک فاؤنڈیشن نے بیواؤں کی بازآبادکاری کا ذمہ لیا ہے۔ انھوں نے وارانسی کی بیواؤں کو بھی مدد کی پیشکش کی۔ مودی نے لارڈ لومبا اور ان کی شریک حیات کے بیواؤں کے لئے کارناموں پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

 

تنقیدیں مجھے اپنی راہ سے نہیں ہٹا سکتیں : مودی

برطانوی رکن پارلیمنٹ لومبا کی جذباتی ہندی تقریر، وارانسی کی بیواؤں کو امداد کی پیشکش
لکھنؤ /22 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) مودی کی پوری تقریر کے دوران ان پر ہمیشہ زبردست تنقید کی جاتی رہی، جس پر انھوں نے کہا کہ تنازعات انھیں غریبوں کے لئے جدوجہد سے نہیں روک سکتے۔ انھوں نے کہا کہ بعض اوقات ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پوری دنیا ان کا پیچھا کر رہی ہے، کیونکہ صبح سے ان پر تمام گوشوں سے تنقید کی جا رہی ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ مودی کو اس کی راہ گمراہ کیا جائے اور وہ تنازعات کا شکار بن جائیں، لیکن ان کا مقصد زندگی غریبوں اور پسماندہ افراد کی مدد ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ان تنقیدوں سے متاثر نہیں ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے، یہ تبدیلی کے عمل کا ایک حصہ ہے۔ انھوں نے تیقن دیا کہ درمیانی آدمیوں کو ختم کردیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بتدریج سختی میں اضافہ کیا جا رہا ہے، دوکانیں بند کی جا رہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایسے افراد پریشان ہیں اور مسائل پیدا کر رہے ہیں، لیکن وہ پریشان نہیں ہیں۔ اگر انھیں رنج ہوتا ہے تو اس کی وجہ غریبوں کا حال زار اور ان کے مسائل ہیں، دلالوں کے مسائل نہیں۔ انھوں نے مختلف صلاحیت رکھنے والے افراد کے بارے میں ذہنیت تبدیل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ خصوصی سماوی طاقتیں رکھتے ہیں، جنھیں خدا نے ایسی طاقتیں عطا کی ہیں، انھیں چاہئے کہ محروموں کی ضروریات کی تکمیل کریں۔

 

انھوں نے سنگمیا بھارت ابھیان کے آغاز کا اعلان کیا، جس کے تحت سرکاری دفاتر میں ایسے افراد کو سہولتیں فراہم کی جائیں گی، تاکہ ان کی زندگیاں آرامدہ ہوسکیں اور اگر ضرورت ہو تو ایسی چیزوں کی گنجائش فراہم کرنے کے لئے قواعد میں تبدیلی کی جائے گی۔ مودی نے اعلان کیا کہ ہر حکومت جو سہولتیں فراہم کرتی ہے اور معذوروں کے لئے بیٹھنے کے بیت الخلاء تعمیر کرتی ہے، اسے بدنام کیا جارہا ہے۔ حالانکہ عوام ہمدردی رکھتے ہیں، کیونکہ سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، چاہے وہ بسوں میں ہوں یا ٹرینوں میں۔ انھوں نے کہا کہ ہم ان کے لئے ہر ممکن کام کریں گے اور جہاں قواعد اور نظام تبدیل کرنے کی ضرورت ہو، انھیں تبدیل کیا جائے گا۔ 1992ء سے ایسے 100 کیمپوں کا اہتمام کیا گیا تھا، لیکن ان کی حکومت 2014ء میں قائم ہونے کے بعد ایسے 1800 کیمپ منعقد کئے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے وزیر اعظم جاپان شنزوایب کے کاشی میں ہمدردانہ الفاظ استعمال کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے اظہار افسوس کیا کہ شہر کے مضافات میں سڑک حادثے پیش آرہے ہیں۔ قبل ازیں دن میں ایک بس جس میں معذور افراد سفر کر رہے تھے، الٹ گئی تھی۔ انھوں نے تمام زخمی افراد کی عاجلانہ صحت یابی کی خواہش ظاہر کی۔ اس موقع پر حاضرین میں ہندوستانی نژاد برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ لومبا اور ان کی شریک حیات بھی موجود تھے۔ لومبا نے ہندی میں جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زیر صدارت ایک فاؤنڈیشن نے بیواؤں کی بازآبادکاری کا ذمہ لیا ہے۔ انھوں نے وارانسی کی بیواؤں کو بھی مدد کی پیشکش کی۔ مودی نے لارڈ لومبا اور ان کی شریک حیات کے بیواؤں کے لئے کارناموں پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT