Monday , December 18 2017
Home / مضامین / دلیپ کمار کو بھارت رتن سے نوازا جائے

دلیپ کمار کو بھارت رتن سے نوازا جائے

ظفر آغا

سیاست تعطل کا شکار ، پارلیمنٹ بند اور سیاستداں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف؟ سونیا گاندھی اور راہول گاندھی عدالت میں حاضری دینے پر مجبور تو کیجریوال ، ارون جیٹلی پر کیچڑ اچھال رہے ہیں ۔ ادھر خود کیجریوال کے دفتر پر سی بی آئی دستک دے رہی ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ سیاسی میدان ایک میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا ہے اور اس کا اثر پارلیمنٹ پر یہ پڑا کہ پارلیمنٹ اکھاڑا بن گئی ۔ غلطی حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ہے ۔ حکومت یہ سوچ رہی ہے کہ اپنی طاقت سے ڈرا دھمکا کر ہر کسی کو جھکالے گی اور ادھر اپوزیشن کا یہ جواب ہے کہ ہم حکومت کو کام کاج نہیں کرنے دیں گے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک سیاسی تعطل سے دوچار ہے اور ملک کا نقصان ہورہا ہے ۔
ہم اور آپ کی کیا مجال کہ اس معاملے کو حل کرسکیں ۔ اس لئے آیئے سیاست سے ہٹ کر کچھ اور باتیں کریں ۔ ہمارے ملک میں سیاست کے علاوہ اگر کوئی اور شئے ہے جس کا نشہ ہر چھوٹے بڑے کو رہتا ہے تو وہ ہے سنیما  ۔فلم انڈسٹری میں آج بھی دلیپ کمار سے بڑھ کر بھلا کون ہے ۔ ہاں جب دلیپ کمار اپنے عروج پر تھے تو ان کی ٹکر راج کپور سے ضرور رہتی تھی اور اتفاق دیکھئے کہ دلیپ کمار اور راج کپور دونوں کا یوم پیدائش اسی دسمبر کے مہینے میں آتا ہے اور ہندوستانی فلم انڈسٹری کے ان دونوں ستونوں کی جائے پیدائش بھی ایک ہی ہے ۔ جی ہاں دلیپ کمار یعنی یوسف صاحب اور راج صاحب دونوں ہی بٹوارے سے قبل پاکستان کے شہر پشاور میں پیدا ہوئے ، جہاں دونوں کے آبائی مکان آج بھی موجود ہیں ۔ ہندوستان اور پاکستان آپس میں کتنا ہی لڑتے رہیں لیکن دلیپ کمار اور راج کپور کی اداکاری کا جادو سرحد کے دونوں طرف سرچڑھ کر بول رہاہے۔ پاکستانی حکومت نے دلیپ کمار اور راج کپور دونوں کے آبائی مکانوں کو حکومت تحویل میں لے کر اس میں دونوں کے نام سے میوزیم بنادیا جہاں دونوں کی فلموں کی تصاویر لگی ہیں۔

آخر دلیپ کمار اور راج کپور میں ایسی کیا بات ہے کہ ان دونوں کا پریم ہند و پاک حکومتوں کے دلوں میں بھی بھرا ہوا ہے ۔ بات یہ ہے کہ دلیپ کمار ہندوستانی جذبات کا آئینہ ہیں تو راج کپور ہندوستان کے سپنوں کا سوداگر تھا ۔ جی ہاں دلیپ کمار کی کوئی بھی فلم دیکھئے تو آپ کو ہندوستان کا دھڑکتا ہوا دل نظر آئے گا ۔ وہ مغل اعظم ہو یا رام اور شیام یا پھر گنگا جمنا ، طرح طرح کے کرداروں میں دلیپ کمار ہندوستانی جذبات کی ایسی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں جو نہ صرف ہر ہندوستانی کے دل کو چھوجاتی ہے بلکہ وہ ہر اداکار کے لئے ایک اسکول بن جاتی ہے ۔ مغل اعظم میں دلیپ کمار صرف ایک بہترین رومانی شہزادے کی ہی غمازی کرتے نظر نہیں آتے بلکہ وہ اس فلم میں امیتابھ بچن سے کہیں قبل ایک شاندار Angry Youngman کا رول بھی ادا کرتے ہیں ، جس میں انصاف کے لئے وہ ہندوستان کے عظیم بادشاہ اکبر کے خلاف بغاوت کر بیٹھتے ہیں اور دونوں رول میں دلیپ کمار کی اداکاری اس نہج پر ہے ، جو آنے والی نسلوں کے اداکاروں کے لئے ایک اسکول ہے ، جہاں سے سبق سیکھ کر وہ اپنے فن میں چار چاند لگاسکتے ہیں ۔ اور اس رول میں دلیپ کمار نے جن جذبات کی عکاسی کی ہے وہ خالص ہندوستانی جذبات کے آئینہ دار ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ دلیپ کمار فلم کے پردے پر اداکاری کرتے وقت ہندوستان کا آئینہ بن جاتا ہے جو اس کو ہر دوسرے اداکار سے جدا کرتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امیتابھ بچن بھی ایک بڑے اداکار ہیں ۔ ان کا کمال یہ ہے کہ ان کو جو رول ملے گا وہ اس رول کو بخوبی پیش کرکے دل جیت لیں گے ۔ لیکن دلیپ کمار اپنا رول ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی قدروں اور جذبات کی ایسی غمازی کرتے ہیں کہ انکی  اداکاری سے ہندوستانی مٹی کی خوشبو آتی ہے جو ہر دل میں ایسی بس جاتی ہے کہ ہر کوئی ان کو شہنشاہ جذبات ماننے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔

اس کے برعکس راج کپور میں دوسرا کمال تھا ۔ راج کپور اور دلیپ کمار دونوں ہی 1950 اور 1960 کی دہائی میں اپنے عروج پر تھے ۔ یہ وہ دور تھا جب آزادی کے فوراً بعد ہندوستان ایک جدید ترقی پسند ملک بننے کا خواب دیکھ رہا تھا ۔ اس وقت کے ہندوستان کے سامنے غربت و افلاس  پر کنٹرول کرنے اور برابری حاصل کرنے کا مقصد اہم ترین تھا ۔ راج کپور اپنی فلموں کے ذریعہ ہندوستان کے اس سپنے کو پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ راج کپور اپنی آنکھوں سے جس غم کی عکاسی کرتا تھا وہ پورے ہندوستان کے دکھ درد کی غمازی ہوتی تھی ۔ لیکن دلیپ کمار کا چہرہ اور آواز جن جذبات کی عکاسی کرتے تھے وہ گہرائی راج کپور کے یہاں نظر نہیں آتی ۔ لیکن راج کپور کی فلم کی کہانی جو داستان بیان کرتی تھی اس میں ہندوستان کی ترقی اور انصاف حاصل کرنے کی للک نظر آتی تھی جو راج کپور کو دلیپ کمار کا ہم پلہ اور ہندوستانی فلم انڈسٹری کا اہم ستون بنادیتی تھی ۔
یوں تو ہر نسل اپنے دور کے فلمی شاہکار پیدا کرتی ہے لیکن دلیپ کمار اور راج کپور ہندوستانی فلم انڈسٹری کے دو ایسے اسکول تصور کئے جاتے ہیں جن سے آنے والی فلمی نسلیں سبق حاصل کرتی رہیں گی ۔ شاید یہی وجہ ہے ابھی چند روز قبل ملک کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے خود دلیپ کمار کے گھر جا کر ان کو قومی اعزاز پدم وبھوشن سے نوازا ، لیکن راقم الحروف کی رائے میں کچھ اعزاز ایسے ہوتے ہیں جو اعزاز حاصل کرنے والی شخصیت سے چھوٹے ہوتے ہیں ۔ پدم وبھوشن بہت افراد کے لئے بہت بڑا اعزاز ہوسکتا ہے ، لیکن دلیپ کمار ہندوستانی فلم انڈسٹری میں جس مقام پر کھڑے ہیں ، وہاں پدم وبھوشن ان کے قد کے مقابلے ہلکا نظر آتا ہے ۔ دلیپ کمار اداکاری کا ایک ایسا اسکول ہے جو صدیوں اداکاروں کو سبق دیتا رہے گا ۔ اس لئے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دلیپ کمار کو بھارت رتن جیسے ایوارڈ سے نوازا جائے ۔ پاکستان ان کو اپنے سب سے بڑے ایوارڈ ’’شان پاکستان‘‘ سے نواز چکا ہے ۔ اگر ہندوستان دلیپ کمار جیسے اداکاری کے رتن کو بھارت رتن سے نہیں نوازتا ہے تو یقیناً یہ زیادتی ہوگی ۔ ہندوستان لتا منگیشکر کو اس اعزاز سے نواز چکا ہے ۔ اب دلیپ کمار کو بھارت رتن سے نوازنے کا وقت آچکا ہے ۔ اور یہ کام ان کی زندگی میں ہو تو اور بہتر ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT