Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / دل کا دورہ پڑنے پر علاج میں تاخیر جان لیوا

دل کا دورہ پڑنے پر علاج میں تاخیر جان لیوا

کرناٹک، تلنگانہ اور آندھراپردیش میں کم عمر افراد کو عارضہ قلب
حیدرآباد ۔ 18 اگست (سیاست نیوز) ہنگامی طبی خدمات انجام دینے والی جی وی کے ای ایم آر آئی 108 سرویس کی طرف سے دستیاب تفصیلات سے معلوم ہوا ہیکہ تلنگانہ میں 47 سال اور آندھراپردیش میں 50 سال کی عمر کے افراد کو عارضہ قلب لاحق ہورہا ہے جبکہ ٹاملناڈو میں 43 سال کی عمر کے لوگ اس عارضہ سے دوچار ہورہے ہیں۔ کرناٹک میں 45 سال کی عمر کے افراد کو عارضہ قلب لاحق ہورہا ہے۔ اس طرح کم عمر افراد میں قلب کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ اسٹڈی رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ تمام عمر کے گروپس میں عارضہ قلب موجود ہے لیکن 11 ریاستوں کے سروے میں یہ بات ظاہر ہوئی کہ عام طور پر پچاس برس سے زائد عمر کے افراد کو قلب کا عارضہ لاحق ہوتا ہے۔ جی وی کے ای ایم آر آئی کے ڈاکٹر جی وی رمنا راؤ اور ایسی ٹیم نے سال 2015ء میں ملک کی 11 ریاستوں میں دل کے مرض کے 2 لاکھ 40 ہزار ایمرجنسی کیسیس کا مطالعہ کیا ہے۔ دل کا دورہ پڑنے پر فوری علاج ضروری ہے۔ قلب پر حملہ پر پہلا گھنٹہ علاج کے حوالہ سے گولڈن کہلاتا ہے۔ اس طرح نہ صرف جان بچانا ممکن ہوتا ہے بلکہ نقصان کو کم سے کم کرنا ممکن ہوتا ہے۔ تجزیہ سے ظاہر ہوا کہ بیشتر صورتوں میں ایمبولنس پہنچنے میں 16 منٹ درکار ہوتے ہیں پھر دواخانہ لے جانے اور ڈاکٹر کے معائنہ کرنے اور دوا دینے میں بھی وقت لگتا ہے۔ اتراکھنڈ میں 3 ہزار 733 افراد میں سے جن کیلئے ایمبولنس طلب کی گئی سات افراد نے ایمبولنس پہنچنے سے پہلے دم توڑ دیا۔ ٹاملناڈو، آندھراپردیش اور گجرات میں ایسی اموات کی تعداد زیادہ ہے۔ قلب کے مرض اور فوری علاج سے متعلق شعور بیداری ضروری ہے۔ 17 فیصد کیسیس میں دل کا دورہ پڑنے کے 6 گھنٹے بعد ڈاکٹر سے رجوع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ نظامس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر کے منوہر نے کہا کہ قلب پر حملہ کے ساتھ ابتدائی گھنٹے میں علاج کی اہمیت و افادیت ہے۔ مرض کی تشخیص اور فوری علاج سے متعلق شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو واقف کردیا جانا چاہئے کہ دل کا روگ دوسرے امراض سے مختلف ہے۔ علاج میں کوتاہی اور دیر نہیں ہونا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT