Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / دماغ کو چاق و چوبند رکھنے کے اہم طریقے

دماغ کو چاق و چوبند رکھنے کے اہم طریقے

نماز سے دل و دماغ قوی ہوتے ہیں

نماز سے دل و دماغ قوی ہوتے ہیں
حیدرآباد ۔ 12 ۔ نومبر : ( نمائندہ خصوصی) : دماغ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی ساخت اس میں موجود مادوں ، کیمیائی عناصر ، خلیوں اور سالمات کی ہئیت میں کافی تبدیلیاں آتی ہیں حاص طور پر انسان اپنی عمر کے 20 ویں سال میں پہنچتا ہے یا 20 برس مکمل کرلیتا ہے تو پھر اس کا دماغ سکڑنا شروع ہوجاتا ہے اور اس کی ساخت میں تبدیلی ناگزیر ہوجاتی ہے یعنی دماغ کی ساخت کے چھوٹے ہونے کا آغاز ہوتا ہے اور یہ زندگی کی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ ایسے میں کئی آسان طریقے ہیں جسے اپناتے ہوئے لوگ ان دماغی امراض یا نفسیاتی بیماریوں کے جوکھم کو کم سے کم کرسکتے ہیں جو بڑھتی عمر کے ساتھ انسان کا تعاقب کرتی ہیں ۔ ان بیماریوں کو طبی اصطلاح میں ARCD کہا جاتاہے ۔

دماغ میں سب سے اہم وہ سرمئی خلیئے ہوتے ہیں جنہیں Grey matter کہا جاتا ہے اور یہ دماغ اور ریڑھ کی ہڈی میں پائے جاتے ہیں یہ خلیے دراصل اعصاب کو شکل دینے میں اہم رول ادا کرتے ہیں ۔ اگر ان سرمئی خلیوں کو کنٹرول میں نہ رکھا جائے تو اس کا اثر دماغ کی ساخت پر پڑتا ہے ۔ دماغ میں پایا جانے والا جذر کیمیائی کافی اہمیت رکھتا ہے ۔ دماغ کی ساخت اور دھارے کے لیے جذر کیمیائی ایسے ہی اہم ہے جس طرح انسانی زندگی کے لیے دل کا دھڑکنا ۔ جذر کیمیائی کو انگریزی میں Free Radical کہا جاتا ہے جو دراصل ایک ایسا کمزور سالمہ ہے جس کی ہئیت میں تبدیلی نہیں ہوتی اور اس کی زندگی بھی بہت کم ہوتی ہے ۔ اس سالمہ میں بے جوڑ الیکٹران پائے جاتے ہیں ۔ یہ سالمے جو دماغ کے خلیوں کو تباہ کرتے ہیں ۔ دراصل سگریٹ نوشی ، جسم میں دھویں کے داخل ہونے اور چربی والی غذاؤں کے استعمال سے جذر کیمیائی دماغ تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں ۔ ان کے نقصان دہ اثرات سے بچنے کے لیے گوشت کا استعمال کم اور پھلوں و سبزیوں کا استعمال زیادہ کیا جائے یہ جذر کیمیائی کو تباہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔ جہاں تک دماغ کے ذریعہ خون کے دوران کا سوال ہے ۔ ہر منٹ میں ایک لیٹر خون دماغ سے ہو کر گذرتا ہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دماغ میں خون کے جمع کرنے یا جمع ہونے کی کوئی جگہ نہیں ہوتی ۔ ایسے میں اسے غذائیت سے بھر پور اجزاء کی مسلسل سربراہی درکار ہوتی ہے ۔ چنانچہ ان تمام اجزاء کی سربراہی کو یقینی بنانے کے لیے دل کا اچھی حالت میں ہونا ضروری ہے

اور کسرت ایسی چیز ہے جس کے ذریعہ انسان دل کو قوی بناسکتا ہے ۔ باقاعدہ اوسط کسرت سے لے کر اچھی خاصی کسرت دماغ کے کام کرنے میں بہتری پیدا کرتی ہے ۔ اس لیے کسرت کو دل و دماغ قوی کرنے کا اہم ذریعہ کہا جاتا ہے ۔ دماغ کو ہمیشہ چاق و چوبند اور چوکس رکھنے کے لیے حسب ذیل چیزوں کی عادت ڈال لینی چاہئے ۔ خاص طور پر تدبر و تفکر کرنا چاہئے ۔ سوچنے سے انسان کی دماغی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور دماغ ہر چیز کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتا ہے ۔ اس کے علاوہ موسیقی سیکھنے شطرنج کھیلنے ، ہاتھ پاؤں کو حرکت دینے اور کتابوں کا مطالعہ کرنے سے دماغ چاق و چوبند رہتا ہے ۔ مختلف سائنسدانوں اور ڈاکٹروں نے مختلف طریقے بتائے ہیں ۔ اگر مذہبی اعتبار سے دیکھا جائے تو انسان اگر نماز کا پابند ہوجائے تو وہ متعدد دماغی بیماریوں سے محفوط رہ سکتا ہے ۔ ارکان نماز خود معیاری کسرت ہے انسان جب سجدہ میں جاتا ہے تو دماغ میں توانائی اور دوران خون میں بہتری پیدا ہوتی ہے ۔ اس سے چہرہ پر تازگی ابھر آتی ہے ۔ اسی طرح چہل قدمی کے ذریعہ بھی لوگ اپنے دل و دماغ کو قوی بناسکتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT