Monday , November 20 2017
Home / Health / دماغ کی کارکردگی ذیابیطس سے متاثر ہونا ممکن

دماغ کی کارکردگی ذیابیطس سے متاثر ہونا ممکن

محققین نے 60 مطالعوں سے محصلہ معلومات کا تقابل زمرۂ دوم کی ذیابیطس کے 9815 مریضوں کے بارے میں معلومات اور اس مرض سے غیرمتاثر 69254 افراد کے بارے میں معلومات سے کیا۔ ان کے عاملانہ کارکردگیوں کے اقدامات کے مظاہرے کا جائزہ لیا۔ یہ حقیقت کہ دماغ کی کارکردگی اہمیت رکھتی ہے ۔ خاص طورپر کیونکہ ہم اس پر انحصار کرتے ہیں جبکہ ہم اپنے فطری میلان کے برعکس طریقہ کا رویہ اختیار کریں گے ۔

زمرہ دوم کی ذیابیطس سے دماغ کی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے ۔ اس میں شناخت کرنے کی صلاحیت اور جذبات ، رویوں اور خیالات پر قابو پانے کی صلاحیت بھی شامل ہے۔ یہ تحقیق اولین جامع اعداد و شمار کا اولین خلاصہ ہے جو تحقیقوں کے ذریعہ جمع کئے گئے تھے ۔ یہ محققین زمرۂ دوم کی ذیابیطس اور شناخت کی بعض صلاحیتوں کے انحطاط کے درمیان ربط کا جائزہ لینے کی گئی تھیں۔ یہ صلاحیتیں عاملانہ صلاحیتیں بھی کہلاتی ہیں۔ عاملانہ صلاحیتیں عادتاً سونچنے کے نمونوں ، گھٹنے کی حرکت کے جذباتی ردعمل ، اور انعکاسی رویہ جیسے نبض کی دھڑکن میں کمی و بیشی یا خودکار طورپر سماجی سراغوں کو سمجھنا ۔ محققین نے 60 مطالعوں سے محصلہ معلومات کا تقابل زمرۂ دوم کی ذیابیطس کے 9815 مریضوں کے بارے میں معلومات اور اس مرض سے غیرمتاثر 69254 افراد کے بارے میں معلومات سے کیا۔ ان کے عاملانہ کارکردگیوں کے اقدامات کے مظاہرے کا جائزہ لیا۔ یہ حقیقت کہ دماغ کی کارکردگی اہمیت رکھتی ہے ۔ خاص طورپر کیونکہ ہم اس پر انحصار کرتے ہیں جبکہ ہم اپنے فطری میلان کے برعکس طریقہ کا رویہ اختیار کریں گے ۔ واٹرلو یونیورسٹی کے اسکول برائے صحت عامہ و صحت کے نظام کے گریجویٹ طالب علم کوری ونسنٹ نے جو اس تحقیق کی قیادت کررہا تھا کہاکہ صحت کے ارکان عملہ زمرۂ دوم کی ذیابیطس کے مریضوں کی ہمت افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنے غذائی انتخاب پر مستقل نظر رکھیں۔ اپنے خون میں شکر کی سطح کی پیمائش کریں اور دواؤں کے پروگرام کی پابندی کریں۔ زمرہ دوم کی ذیابیطس زندگی کے انحطاط کا شکار طرز زندگی اور قلب سے مربوط چھوٹی اور بڑی آنتوں کی متعدد پیچیدگیوں سے متعلق ہوتی ہے جن کا موزوں علاج نہیں کیا جاتا ۔ واٹرلو کے اپلائیڈ ، ہیلتھ سائینسیس کے استاد اور تحقیق کے سینیر مصنف پروفیسر پیٹرپال نے کہاکہ زمرۂ دوم کی ذیابیطس کے مریض لوگوں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی عاملانہ صلاحیتوں پر قابو پائیں اور ان کے استعمال کے لئے وسائل پر کم انحصار کریں کیونکہ اس مرض سے دماغ کی صلاحیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ یہ تحقیق رسالہ ’’سائیکوسومیٹک میڈیسن‘‘ میں شائع ہوچکی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT