Tuesday , November 21 2017
Home / مضامین / دنیا میں خون کی کمی۔ پانی کی قلت

دنیا میں خون کی کمی۔ پانی کی قلت

محمد ریاض احمد
دنیا بھر میں خون کی کمی کے باعث ہر لمحہ یا منٹ بے شمار مرد و خواتین موت کی آغوش میں پہنچ جاتے ہیں۔ خاص کر غریب اور ترقی پذیر ملکوں میں جہاں کی آبادی ناقص غذاء کا شکار ہوتی ہے خون کی کمی کا شکار مرد و خواتین اور بچوں کی کثیر تعداد پائی جاتی ہے۔ ویسے بھی غربت اور بیماریوں کا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ عوام کو بیماریوں سے بچانے کے لئے غذائیت سے بھرپور کھانے فراہم کئے جانے چاہئے۔ ہمارے ملک ہندوستان کی آبادی 1.25 ارب سے تجاوز کر گئی ہے۔ ہندوستان کا شمارا بھرتی ہوتی معشتوں میں کیا جاتا ہے۔ سائنس و ٹکنالوجی کے شعبوں میں بھی ہم نے کافی ترقی کی ہے۔ خلائی سائنس کے شعبہ میں ہمارے سائنسدانوں نے ہندوستان کو چنندہ ملکوں کی صف میں لا کھڑا کردیا ہے۔ اس کے باوجود ہندوستان میں وہ تمام بیماریاں اور ان سے متاثرہ لوگوں کی کثیر تعداد پائی جاتی ہے۔ جن کا تعلق خون کی کمی سے ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں خون کی کمی سے لے کر تھیلسمیا جیسی جنیاتی بیماریوں میں مرد و خواتین اور بچے متاثر ہیں۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں 15-39 سال عمر کے حامل 50 فیصد سے زیادہ خواتین اور 20 فیصد سے زیادہ مرد خون کی کمی کا شکار ہیں۔ خون کی کمی یا Anaemia سے سب سے زیادہ متاثر حاملہ خواتین ہوتی ہیں۔ چنانچہ ملک کے طویل و عرض میں 58 فیصد حاملہ خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔ زچگی کے دوران جو اموات ہوتی ہیں ان میں 40 فیصد اموات خون کی کمی کے باعث ہی ہوتی ہیں۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے 2015-16 میں یہ بات سامنے آئی کہ ہندوستان میں 5 سال سے کم عمر کے 58 فیصد بچے خون کی کمی کا شکار ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کم از کم 72 ملین بچے خون کی کمی کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ خون کی کمی ہندوستان میں معذوری کا اہم سبب ہے۔ گلوبل برڈن آف ڈسینر کے پچھلے دو سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ غربت ذات پات کا امتیاز اور ناقص غذا اور ملیریا سے خون کی کمی کا گہرا تعلق ہے۔ گزشتہ سال ایک رپورٹ منظر عام پر آئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ حکومت ہند نے تغذیائی اسکیمات کے لئے 5.5 ارب ڈالرس 36.707 کروڑ روپے مختص کئے ہیں تاکہ خواتین اور بچوں میں خون کی کمی نہ ہونے پائے۔ آپ کو بتادیں کہ ساری دنیا میں خون کی کمی کے باعث ہر سال دو لاکھ سے زائد لوگوں کی موت ہوتی ہے۔ سال 2013ء میں دنیا میں ایک ارب سے زیادہ لوگ خون کی کمی کا شکار تھے۔ ساری دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ تھیلسمیا  ایک جنیاتی بیماری ہے۔ اس بیماری میں جسم میں خون بن نہیں پاتا چنانچہ تھیالا سیما سے عالمی سطح پر 240 ملین لوگ متاثر ہیں۔ یہ لوگ دنیا کی آبادی کا 1.5 فیصد حصہ بنتے ہیں۔ صرف ہندوستان میں تھیلسمیا کے 30 ملین مریض ہیں۔ یہ ایسا عارضہ ہے جس میں ایک ماہ یا دو ماہ میں ایک مرتبہ مریض کو خون چڑھانا پڑتا ہے۔ ہمارے ملک میں ہر سال 10,000 تا 12,000 نومولود تھیلسمیا سے متاثر پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سالانہ 2.50 تا 3 لاکھ سرجریز یا آپریشنس ہوتے ہیں جس کے لئے 12 تا 14 ملین یونٹس خون درکار ہوتا ہے، لیکن 9 تا 10 ملین یونٹس خون ہی جمع کیا جاتا ہے۔ اس طرح سالانہ 4 ملین یونٹس خون کی قلت پیدا ہوتی ہے۔

ہندوستان میں لاکھوں کی تعداد میں ایسے مرد و خواتین اور بچے بھی ہیں جنہیں خون کے اجزاء Platelets، پلازما، خون کے سرخ خلیہ، سفید خلئے وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان اجزاء کو Phlebotomy اور Hemaphresis کے ذریعہ علیحدہ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ہندوستان اور پاکستان کے بشمول دنیا کے دیگر ملکوں میں خون کی قلت پر قابو پانے ریسرچ لیباریٹریز میں تجربات جاری ہیں۔ بڑے پیمانے پر تحقیق کی جارہی ہیں۔ ڈاکٹروں اور طبی ماہرین لیباریٹریز میں خون کے سرخ خلئے تیار کرنے پر ساری توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں اس کے باوجود ان بیماریوں پر قابو نہیں پایا جاسکا اور اس سلسلہ میں یونیورسٹی آف برسٹال اور برطانیہ کی قومی خدمات صحت کی ایک اہم طبی کامیابی نے خون کی کمی کا شکار لوگوں میں نئی امیدیں پیدا کردی ہیں۔ یونیورسٹی آف برسٹال اور یوکے نیشنل ہیلتھ سرویس نے جو تحقیق کی ہے وہ ایک دن خون کی تبدیلی اور منتقلی کے عمل میں ایک انقلاب برپا کردے گی۔ آپ کو بتادیں کہ برسٹل یونیورسٹی اور نیشنل ہیلتھ سرویس کے محققین نے لیباریٹری میں بڑے پیمانے پر خون کے سرخ خلئے  (Red Blood Cells RBC) تیار کرنے میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ اگر اس قسم کے خون کو بطور عطیہ اسپتالوں اور صحت کے مراکز کو سربراہ کیا جائے تو عالمی سطح پر لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔ خاص طور پر ان لوگوں کی جن کے خون کا گروپ بڑا کمیاب ہوتا ہے۔ ان اداروں کے سائنسدانوں نے بڑے پیمانے پر خون کے مصنوعی سرخ خلئے تیار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ ان لوگوں نے ایسا طریقہ متعارف کروایا ہے جس کے ذریعہ وافر مقدار میں مصنوعی خون تیار کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ پہلے بھی ایک مخصوص ٹکنک کے ذریعہ ایسے مخصوص Stem Cell حاصل کرکے جو سرخ خلئے بناتے ہیں ان کی مدد سے خون تیار کیا جاتا تھا لیکن وہ طریقہ اس لئے موثر ثابت نہیں ہوا کیونکہ ہر ایٹم سل صرف اور صرف 50 ہزار سرخ خلئے بناکر تباہ  ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں ایک رپورٹ منظر عام پر آئی جس میں واضح کیا گیا کہ ایک ملی لیٹر خون میں خون کے 50 لاکھ سے زائد سرخ خلئے پائے جاتے ہیں جبکہ ایک یونٹ خون کی تھیلی میں دو کھرب سے زائد سرخ خلئے پائے جاتے ہیں۔

ہنفگٹنس پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی ہر دو سکنڈس میں کسی نہ کسی کو خون کی ضرورت لاحق ہوتی ہے اور ہر سال 4.5 ملین امریکی زندگی بچانے کے لئے درکار خون نہ ملنے کے نتیجہ میں مر جاتے ہیں۔ ویسے بھی دنیا میں پانی کی قلت بھی بڑھ رہی ہے اور اب تو جنگیں پانی کے لئے لڑی جائیں گی۔ تاہم ہر سال یونیورسٹی اور برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سرویس کے سائنسدانوں نے کثیر مقدار میں مصنوعی خون تیار کرنے کی راہ ہموار کرتے ہوئے بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ 14 مارچ کو جریدہ نیچر کمیونکیشن میں اس اسٹڈی کے نتائج شائع ہوئے ہیں۔ ہر سال یونیورسٹی نے اس ضمن میں ایک بیان بھی جاری کیا ہے جس میں برسٹال یونیورسٹی کے ایک بائیو کیمسٹ ڈاکٹر جان فرائے کے حوالے سے بتایا گیا کہ موجودہ مرحلہ میں مصنوعی خون ہنوز بہت مہنگا ہے، لیکن اس معاملہ میں مزید تحقیق سے ایک دن ایسا بھی آئے گا جب یہ نیا طریقہ ساری دنیا کے اسپتالوں میں استعمال کیا جائے گا۔ ڈاکٹر جان فرائے کے مطابق عالمی سطح پر سرخ خلیوں کے متبادل کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر جان یہ بھی انکشاف کرتے ہیں کہ ان کی ٹیم نے لیاب میں لیٹروں کے حساب سے مصنوعی خون تیار کیا ہے، لیکن اس کی مارکٹنگ کے لئے مزید تحقیق کے مراحل سے گذرنے کی ضرورت ہے۔ محققین کی ٹیم کے ایک اور رکن ڈاکٹر ڈیواپنسٹی کا جو NIHR بلڈ اینڈ ٹرانسپلانٹ ریسرچ یونٹ برسٹال واین ایچ ایس کے عہدہ پر فائز ہیں کہنا ہے کہ فی الوقت بڑے پیمانے پر مصنوعی خون تیار کرنا آسان نہیں ہے، بلکہ تحقیق کے اگلے مرحلہ میں مصنوعی خون کی پیداوار کو بڑھایا جائے گا۔ حال ہی میں سالک انسٹی ٹیوٹ کیلی فورنیا میں سائنسدانوں نے انسان۔ خنزیر کا ایک ہائپرڈ جنین  فیس تیار کرکے اسے تلف کردیا۔ اس کا مقصد لیباریٹریز میں بڑے پیمانے پر انسانی اعضاء کی تیاری کو یقینی بنایا ہے۔ تاہم اس قسم کی تحقیق کو اخلاقی اقدار کی بدترین گراوٹ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اس قسم کی تحقیق سے وابستہ سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ دنیا میں ہر دس سکنڈ میں ایک مریض کا اضافہ ہوتا ہے اور جسمانی اعضاء کی عدم دستیابی کے نتیجہ میں ہر روز کم از کم 22 لوگ مر جاتے ہیں۔ چنانچہ سالک یونیورسٹی کے سائندانوں کی ٹیم نے خنزیر میں انسان دوست پتہ، دل اور جگر تیار کرنے پر کام شروع کیا ہے۔ اس تحقیق پر طبی اخلاقیات پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ بائیو ایتھکس اور فلسفہ کے ماہرین اس تعلق سے کہتے ہیں یہ ایسے ہی ہے جیسے جانوروں سے کسی انسان جیسی چیز پیدا کرنا۔ بہرحال مصنوعی خون کی تیاری کے بعد تیرا خون میرا خون ہمارا خون والی باتوں یا محاوروں کا استعمال کم ہو جائے گا۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT