دنیا نئی سرد جنگ کے دہانے پر …! گورباچوف کا تاثر

برلن ، 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگیوں نے اس دنیا کو نئی سرد جنگ سے قریب تر لا دیا ہے، سابق سویت لیڈر میخائل ایس گورباچوف نے یہ تاثر ظاہر کیا ہے۔ 83 سالہ سابق حکمران نے مغرب بالخصوص امریکہ کو مورد الزام ٹھہرایا کہ ربع صدی قبل سویت یونین کے بکھراؤ اور کمیونسٹ بلاک کی تحلیل کے بعد ’’فاتحانہ جذبہ‘‘ کو پروان

برلن ، 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگیوں نے اس دنیا کو نئی سرد جنگ سے قریب تر لا دیا ہے، سابق سویت لیڈر میخائل ایس گورباچوف نے یہ تاثر ظاہر کیا ہے۔ 83 سالہ سابق حکمران نے مغرب بالخصوص امریکہ کو مورد الزام ٹھہرایا کہ ربع صدی قبل سویت یونین کے بکھراؤ اور کمیونسٹ بلاک کی تحلیل کے بعد ’’فاتحانہ جذبہ‘‘ کو پروان چڑھایا۔ انھوں نے کہا کہ اس کا نتیجہ جزوی طور پر اس امر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عالمی طاقتیں یوگوسلاویہ، مشرق وسطی اور ماضی قریب میں یوکرین کے تنازعات کے سدباب یا اُن کی یکسوئی سے قاصر رہی ہیں۔ ’’یہ دنیا ایک نئی سرد جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔ بعض تو یہ تک کہہ رہے ہیں یہ جنگ پہلے ہی شروع ہوچکی ہے،‘‘ گورباچوف نے اس ایونٹ میں یہ بات کہی جو دیوار برلن گرانے کے 25 سال کی تکمیل کے موقع پر اس شہر کی علامت برانڈربرگ گیٹ کے قریب منعقد کیا گیا۔ گورباچوف نے زور دیا کہ ماسکو کے ساتھ مذاکرات کے ذریعہ اعتماد بحال کیا جائے اور تجویز رکھی کہ مغرب کو چاہئے کہ سینئر روسی عہدیداروں کے خلاف عائد تحدیدات برخاست کردیں جو اس ملک کی مشرقی یوکرین میں علحدگی پسند باغیوں کیلئے تائید و حمایت پر عائد کئے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یورپ میں سکیورٹی کے حصول میں ناکامی اس براعظم کو عالمی امور میں بے وقعت بنا دے گی۔ گورباچوف کے ریمارکس فرانس کے وزیر خارجہ رولینڈ دوماس کے خیالات کے موافق معلوم ہوئے، جو انھوں نے دیوارِ برلن گرانے کے وقت ظاہر کئے تھے۔ ’’اقوام کے درمیان آزادی کے بغیر، ایک قوم کے دوسری کے تئیں احترام کے بغیر، اور طاقتور و جرأت مندانہ ترک اسلحہ پالیسی کے بغیر ہر چیز کل پھر سے شروع ہوسکتی ہے۔ صدر براک اوباما نے گورباچوف کی یورپ کیلئے کچھ فکرمندی سے بظاہر اتفاق کیا ، لیکن انھوں نے موجودہ کشیدگیوں کیلئے ماسکو کو مورد الزام ٹھہرایا۔ مشرقی برلن والوں کو خراج پیش کرتے ہوئے جو 9 نومبر 1989ء کو بارڈر گارڈز کو ڈھکیل کر آخرکار دیوارِ برلن کو گرانے کا موجب بنے، اوباما نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’روس کی یوکرین کے خلاف کارروائیاں جس طرح ہمیں کچھ یاد دلاتی ہیں، ہمیں مزید اقدامات کرنے ہیں کہ ایسے یورپ کے ہمارے مشترکہ ویژن کی بھرپور تکمیل کرسکیں جو مکمل، آزاد اور پُرامن ہو‘‘۔

TOPPOPULARRECENT