Saturday , December 16 2017
Home / مذہبی صفحہ / دنیا کے حکمرانوں کیلئے حکمرانی کی اعلیٰ مثال

دنیا کے حکمرانوں کیلئے حکمرانی کی اعلیٰ مثال

آج حکمراں مطلق العنان بادشاہ کی طرح ، ماورائے قانون زندگی بسر کررہے ہیں ، اُن کی دانست میں وہ طاقت و قوت اور اقتدار و حکومت ہی کی صورت میں جوابدہی اور مواخذہ سے بالاتر ہیں ، کوئی ادارہ اُن کے احتساب اور محاسبہ کا مجاز نہیں ، اُن کی تاناشاہی عروج پر ہے ، ان کو عوام کی پریشانی اور مشکلات کی فکر نہیں ، مسلم ممالک میں ہماری نگاہیں عدل و انصاف کے حامل ، رعایا پرور طاقتور و ایماندار حکمراں کو دیکھنے سے عاجز آگئیں ہیں ، مسلم حکمراں اقتدار کے نشے میں مدہوش ہیں اور موت و آخرت سے غافل ہیں اور دربار الٰہی میں محاسبہ و مواخذہ سے بے خوف ہیں ان میں کوئی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان و جلالت کا حامل نظر نہیں آرہا ہے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حکمرانی کے جو انمٹ نقوش چھوڑے ہیں وہ ساری کائنات کے لئے بلالحاظ مذہب و ملت حکمرانی کے اعلیٰ نقوش ہیں۔ چنانچہ حضرت سالم بن عبداﷲ رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو آپ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے اس وظیفہ پر اکتفاء کیا جو صحابہ نے اُن کے لئے مقرر کیا تھا چنانچہ وہ کچھ عرصہ اتنا ہی لیتے رہے لیکن وہ ان کی ضرورت سے کم تھا اس لئے ان کی گزربسر میں تنگی ہونے لگی تو حضرت زبیر ؓنے مہاجرین کی ایک جماعت جن میں حضرت عثمان غنی، حضرت علی اور حضرت طلحہ رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین موجود تھے کہا کہ اگر ہم حضرت عمرؓ سے وظیفہ میں کچھ اضافہ کرنے سے متعلق کہیں تو کیسا رہے گا ؟ حضرت علیؓ نے فرمایا ہم تو پہلے سے ان کا وظیفہ بڑھانا چاہتے ہیں ۔ حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا اس سلسلہ میں پہلے حضرت عمرؓ کی رائے معلوم کرنا بہتر ہوگا ، ہم اُم المؤمنین حضرت حفصہؓ کے ذریعہ سے حضرت عمر فاروقؓ کی رائے معلوم کرتے ہیں ۔ چنانچہ ان حضرات نے نام ذکر کئے بغیر حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راست ان کی رائے طلب کرنے کے لئے کہا جب حضرت اُم المؤمنین نے وظیفہ میں اضافہ کے بابت دریافت کیا تو حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جلال میں آگئے اور فرمایا تم ہی میرے اور سفارش کرنے والوں کے درمیان واسطہ بنی ہو اس لئے میں تمہیں اﷲ تعالیٰ کی قسم دیکر پوچھتا ہوں کہ تم یہ بتاؤ کہ تمہارے گھر میں حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و سلم کا سب سے عمدہ لباس کونسا تھا ؟ انھوں نے کہا گیروے رنگ کے دو کپڑے جنھیں کسی وفد کے آنے پر اور جمعہ کے خطبہ کے لئے زیب تن فرماتے تھے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : حضور پاک صلی اﷲ علیہ سلم نے تمہارے پاس سب سے عمدہ کونسا کھانا کھایا ؟ انھوں نے کہا ایک مرتبہ ہم نے جو کی ایک روٹی پکائی پھر اس گرم گرم روٹی پر گھی کے برتن کی تلچھٹ لگائی جس سے وہ روٹی نرم ہوگئی تو حضور پاک صلی اﷲ علیہ و سلم نے اسکو تناول فرمایا اور وہ روٹی آپ ﷺ کو پسند خاطر ہوئی تھی ۔ پھر حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا : حضور پاک صلی اﷲ علیہ و سلم کا تمہارے پاس سب سے زیادہ نرم بستر کونسا تھا ؟ انھوں نے کہا: ہمارا ایک موٹا کپڑا تھا گرمی میں اس کو چوہرا کرکے بچھالیتے تھے اور سردی میں آدھے کو بچھالیتے اور آدھے کو اوڑھ لیتے ۔ پھر حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اے حفصہؓ ! ان لوگوں کو پہنچادو کہ حضور پاک صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے طرزعمل سے ہرچیز میں ایک اندازہ مقرر فرمایا ہے ۔ اور ضرورت سے زائد چیزوں کو اپنی اپنی جگہوں میں رکھا ہے اور کم سے کم پر گزارہ کیا ہے ۔ میں نے بھی ہرچیز کا اندازہ مقرر کیا ہے اور اﷲ کی قسم! ضرورت سے زائد چیزوں کو ان کی جگہوں پر روکھونگا اور میں بھی کم سے کم پر گزارہ کرونگا ۔ میری اور میرے دو ساتھیوں کی مثال ان تین آدمیوں جیسی ہے جو ایک راستے پر چلے، ان میں سے پہلے شخص نے توشہ لیا اور منزلِ مقصود کو پہنچ گئے پھر دوسرے شخص نے بھی ان کی اتباع کی اگر وہ ان دونوں کے راستے کا خود کو پابند بنائیگا اور ان جیسا توشہ رکھے گا تو ان کے ساتھ جاملیگا اور ان کے ساتھ رہیگا اور اگر وہ دونوں کے راستے کو چھوڑکر کسی اور راستے پر چلے گا تو کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں مل سکے گا ۔ (طبری جلد چہارم ص : ۱۶۴)
حضرت ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک زمانے تک حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیت المال سے کچھ نہ لیا اس وجہ سے ان پر تنگی اور فقر و فاقہ کی نوبت آگئی تو انھوں نے حضور صلی اﷲ علیہ و سلم کے صحابہ سے مشورہ کیا کہ امر خلافت میں مشغول ہوگیا ہوں ( کاروبار کی فرصت نہیں ملتی) تو میرے لئے بیت المال سے کتنا لینا مناسب ہوگا۔ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا آپ بیت المال سے خود بھی کھائیں اور دوسروں کو بھی کھلائیں۔ یہی بات حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اﷲ عنہ نے کی ۔ حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت علی مرتضیؓ سے رائے طلب کی تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا : آپ دوپہر اور رات کے دو وقت کا کھانا لے لیا کریں۔ حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت علی مرتضیؓ کے مشورہ پر عمل کیا۔

(ابن سعد ، منتخب الکنز ج : ۴ ص :۴۱۱)
ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ ملک شام پہنچے تو ان کے لئے ایسا عمدہ کھانا تیار کیا گیا کہ آپ نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ہمیں تو یہ کھانا مل گیا لیکن وہ مسلمان فقراء جن کا اس حال میں انتقال ہوا کہ ان کو پیٹ بھرکر جو کی روٹی نہیں ملتی تھی ان کو کیا ملے گا ؟ اس پر حضرت عمر بن ولیدؓ نے کہا انھیں جنت ملے گی یہ سنکر حضرت عمرؓ کی آنکھیں ڈبڈباگئیں اور فرمایا اگر ہمارے حصہ میں دنیا کا یہ مال و متاع ہے اور وہ جنت لے جائیں گے تو وہ ہم سے بہت آگے نکل گئے اور بڑی فضیلت حاصل کرلی۔ ( منتخب الکنز ج : ۴ ص : ۴۰۶)
حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اپنے لئے اور اپنے اہل و عیال کے لئے گزارہ کے قابل خوراک بیت المال سے لیا کرتے تھے ۔ گرمیوں میں ایک جوڑ ایسے پہنتے بعض دفعہ ان کی تہہ بند پھٹ جاتی تو اسے پیوند لگالیتے اسی سے کام چلالیتے لیکن وقت سے پہلے بیت المال سے دوسرا تہہ بند نہیں لیتے اور جس سال مال زیادہ آتا اس سال ان کا جوڑا اور ہلکا ہوتا ۔ اس بارے میں اُم المؤمنین حضرت حفصہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے گفتگو کی تو فرمایا میں مسلمانوں کے مال میں سے پہننے کیلئے جوڑے لیتا ہوں اور یہ میری ضروررت کے لئے کافی ہیں۔
حضرت محمد بن ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ روزانہ بیت المال سے اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے دو درہم خرچہ لیا کرتے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT