Friday , July 20 2018
Home / Top Stories / دنیا کے 12 شہروں میں پینے کے پانی کی قلت پیدا ہونے کا امکان : رپورٹ

دنیا کے 12 شہروں میں پینے کے پانی کی قلت پیدا ہونے کا امکان : رپورٹ

کیپ ٹاؤن ۔ 12 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) دنیا کے 12 شہروں میں امکان ہیکہ آئندہ برسوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوجائے گی۔ ان میں دنیا کے ہر براعظم کے شہر شامل ہیں جن میں کیپ ٹاؤن، ساؤپاؤلو، بنگلور، بیجنگ، قاہرہ، جکارتہ، ماسکو، استنبول، میکسیکو، لندن، ٹوکیو اور میامی شامل ہیں۔ کیپ ٹاؤن جنوبی افریقہ میں قائم ہے جس میں موجودہ حالت میں بھی قحط سالی جیسی صورتحال پائی جاتی ہے۔ ماہرین کا انتباہ ہیکہ یہاں پر مزید پانی کی قلت پیدا ہونے کے امکانات ہیں حالانکہ کرہ ارض کا 70 فیصد پانی پر مشتمل ہے۔ اس کے باوجود خاص طور پر پینے کے پانی کی قلت شدید ہے۔ صرف کرہ ارض پر پائے جانے والے پانی کا 3 فیصد حصہ پینے کے قابل ہے۔ جنوبی امریکہ کے معاشی دارالحکومت ساوپاؤلو کو 10 انتہائی گنجان آباد شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ 2015ء میں یہاں پر بھی کیپ ٹاؤن جیسی صورتحال پیدا ہوگئی تھی جبکہ تازہ پانی کے ذخائر آب کی گنجائش جملہ گنجائش کی 4 فیصد بھی کم ہوگئی تھی۔ شہر کے 2 کروڑ 17 لاکھ شہری 20 دن سے زیادہ مدت تک کیلئے پانی کی سربراہی سے محروم ہوگئے تھے۔ پانی کی لاریوں کو حفاظتی انتظامات کے ساتھ روانہ کیا جارہا تھا کیونکہ ان کے لوٹ لئے جانے کا خدشہ تھا۔ ساؤپاؤلو کی صورتحال آئندہ دنوں میں ابتر ہوجانے کا اندیشہ ہے کیونکہ منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کا فقدان ہے۔ ہندوستان کی ریاست کرناٹک کے شہر بنگلور میں بھی پانی کی شدید قلت آئندہ دنوں میں پیدا ہوجانے کا امکان ہے۔ شہر کی آبی ضروریات میں کمی و پیشی جاری ہے۔ مرکزی حکومت کے ایک سروے کے بموجب پینے کے پانی کا آدھے سے زیادہ حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔ بنگلور کے عہدیداروں نے انتباہ دیا ہیکہ اگر پینے کا پانی اسی طرح ضائع ہوتا رہے تو آئندہ دنوں میں بنگلور میں بھی صورتحال سنگین ہوسکتی ہے۔ چین کے شہر بیجنگ میں عالمی بینک نے پانی کی شدید قلت کا انتباہ دیا ہے۔ 2014ء میں یہاں خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔مصر کے شہر قاہرہ میں جو دنیا کا عظیم ترین تمدن کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے اور جہاں سے دریائے نیل بہتی ہے اور مصر کی 97 فیصد سے زیادہ آبی ضروریات کی تکمیل کرتی ہے، یہیں سے زراعت کیلئے اور پینے کا پانی سربراہ کیا جاتا ہے۔ عالمی تنظیم صحت کے انتباہ کے مطابق اس علاقہ میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوجانے کا اندیشہ ہے کیونکہ پینے کے پانی کا بڑا حصہ ضائع ہوجاتا ہے جس کے انسداد کی ضرورت ہے ورنہ اس شہر کو قحط کی صورتحال کا سامنا ہوگا۔ روس کے شہر ماسکو میں روس کے جملہ ذخائر آب کا 25 فیصد موجود ہے۔ اس کے باوجود پانی کے زیاں کے پیش نظر آئندہ دنوں میں یہاں پر قحط سالی جیسے حالات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے بموجب پینے کے پانی کا 35 تا 60 فیصد حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔ حکومت ترکی کے سرکاری اعداد و شمار کے بموجب 2016ء میں استنبول میں سطح آب 1700 مکعب میٹر سے کم ہوگئی تھی جس کی وجہ سے شہریوں کو پینے کے پانی کی قلت پیدا ہوگئی تھی۔ اندیشہ ہیکہ آئندہ دنوں میں سطح آب اس سطح سے بھی کم ہوجائے گی جس کی وجہ سے شہر میں 2015ء جیسے حالات کے اعادہ کا اندیشہ ہے۔ میکسیکو سٹی میںبھی پانی کی قلت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ملک میکسیکو کے دارالحکومت کی آبادی 2 کروڑ 10 لاکھ ہے لیکن تازہ پانی کی سطح میں دن بہ دن کمی واقع ہوتی جارہی ہے۔ ایک تخمینہ کے بموجب تازہ پانی کا 40 فیصد حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔ اگر بڑے پیمانے پر ضائع ہوجانے والے پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے اقدامات نہ کئے گئے تو استنبول میں بھی پانی کی شدید قلت پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں کم از کم 750 خانگی اور سرکاری عمارتیں ہیں اور آبادی 3 کروڑ سے زیادہ ہے۔ زمین کی سطح پر پائے جانے والے پانی پر 70 فیصد آبادی کا انحصار ہے لیکن سطح پر پائے جانے والا پانی دن بہ دن کم ہوتا جارہا ہے اور آئندہ برسوں میں ٹوکیو میں قحط کا امکان ہے۔ امریکہ کے شہر میامی میں بھی پانی کی قلت کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT