Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / دواخانوں میں ایمرجنسی خدمات میں سینئیر ڈاکٹرس غائب

دواخانوں میں ایمرجنسی خدمات میں سینئیر ڈاکٹرس غائب

جونیر ڈاکٹرس کی پریکٹس میں مریضوں کی اموات ، اٹنڈرس کی برہمی
حیدرآباد ۔ 22 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : ایمرجنسی میں مریضوں کے علاج و معالجہ انجام دینے کے بجائے سینئیر ڈاکٹرس اپنے دفتروں تک محدود ہوگئے ہیں اور علاج و معالجہ میں مہارت نہ رکھنے والے جونیر ڈاکٹرس مریضوں کو بچا نہیں پا رہے ہیں ۔ عصری ٹکنالوجی سے لیس 65 بستروں پر مشتمل آئی سی یو یونٹ کا حالیہ دنوں گاندھی دواخانہ میں افتتاح کیا گیا اور اس دواخانہ کو کارپوریٹ خطوط پر ترقی دی گئی ہے ۔ مگر بنیادی سہولیات جیسے مریضوں کے قدر کے مطابق نرسیس ، وارڈ بوائے اور ادویات کے انتظام کے بغیر اس یونٹ کا افتتاح کیا گیا دواخانہ کے شعبہ ایمرجنسی سے یومیہ 250 تا 300 مریض رجوع ہوتے ہیں ۔ جہاں ڈاکٹرس کو 24 گھنٹے ڈیوٹی انجام دینی ہوتی ہے مگر دن کے علاوہ رات کے اوقات میں سینئیر ڈاکٹر ڈیوٹی سے غیر حاضر رہتے ہیں ۔ غریبوں کے دواخانہ کے نام سے مشہور دواخانہ عثمانیہ کے ایمرجنسی شعبہ سے روزانہ تقریبا 350 مریض رجوع ہوتے ہیں اور ان مریضوں میں میڈیکو لیگل کیسیس زیادہ ہوتے ہیں ۔ مگر یہاں پر بے حد ضروری انجکشنس اور ضروری آلات نہیں ہیں اور دواخانہ کے حاضری رجسٹر میں سینئیر ڈاکٹرس کی صرف دستخطیں ہوتی ہیں جب کہ ایمرجنسی وارڈ میں ڈاکٹرس کی غیر حاضری دیکھی جارہی ہے ۔ اس تعلق سے دریافت کرنے پر کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر آپریشن تھیٹر یا کسی وارڈ کے راونڈس میں مصروف ہیں فی الحقیقت سینئیر ڈاکٹرس ڈیوٹی سے غیر حاضر رہتے ہیں یا دواخانہ میں موجود ہونے کے باوجود ایمرجنسی شعبہ میں نہیں رہتے بلکہ اپنے دفتروں تک محدود رہتے ہیں علاوہ ازیں ایمرجنسی شعبہ میں اگر کوئی مریض دوران علاج انتقال بھی کر جائے تو کوئی سینئیر ڈاکٹر مریض کے رشتہ داروں سے بات کرنے آگے نہیں آرہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے مریض کے رشتہ دار جونیر ڈاکٹرس پر حملے کررہے ہیں اور ان حملوں کو روکنے کے لیے خاطر خواہ سیکوریٹی بھی نہیں ہوتی اور جو سیکوریٹی گارڈس ہیں وہ بھی ضعیف اور بڑی عمر کا عملہ ہے ۔۔

 

TOPPOPULARRECENT