دواخانہ عثمانیہ سے مسلم مریض لاپتہ ، پولیس بھی پتہ چلانے میں ناکام

سرکاری دواخانوں میں زبوں حالی کے بعد لاپرواہی اور تساہلی سے غریب مریض اور عوام پریشان

سرکاری دواخانوں میں زبوں حالی کے بعد لاپرواہی اور تساہلی سے غریب مریض اور عوام پریشان

حیدرآباد ۔ 10 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : سرکاری دواخانوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ عملہ و ماہرین ڈاکٹرس تجربہ کار پروفیسرس معیاری آلات ہونے کے باوجود بھی عوام کا بھروسہ حاصل کرنے میں سرکاری دواخانے یکسر طور پر ناکام ہورہے ہیں ۔اس کی ایک اہم وجہ ڈاکٹرس اور عملہ کی مبینہ لاپرواہی انتظامی امور میں خامیاں اور سرکار کی عدم توجہی کا باعث تصور کیا جارہا ہے ۔ گذشتہ دنوں عثمانیہ جنرل ہاسپٹل ایسی چند لاپرواہیوں کے سبب سرخیوں میں چھایا رہا ۔ کبھی لفٹ کی خرابی ، تو کبھی جنریٹر کا ناکارہ ہونا اور برقی کے متبادل انتظامات نہ ہونے سے اس مشہور تاریخی ہاسپٹل کا وقار متاثر ہورہا ہے ۔ تاہم گذشتہ روز ایک اور چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا ۔ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل سے ایک مریض اچانک غائب ہوگیا ۔ تاخیر سے منظر عام پر آئے اس واقعہ نے عثمانیہ جنرل ہاسپٹل انتظامیہ کی قلعی کھول دی ۔ پرانے شہر علاقہ حافظ بابا نگر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون عظمت تسنیم نے اپنے شوہر محمد صابر کو دواخانہ منتقل کیا تھا ۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ہاسپٹل انتظامیہ کی اس مبینہ لاپرواہی میں پولیس بھی شریک دکھائی دے رہی ہے ۔ جو چار دن گذرنے کے بعد اس گمشدگی کے تعلق سے پتہ چلانے میں ناکام رہی ۔ عظمت تسنیم کے شوہر محمد صابر کی صحت خراب تھی اور انہیں پیرالائسیس کی شکایت تھی ۔ 6 جون کے دن عظمت تسنیم نے اپنے شوہر صابر کو عثمانیہ جنرل ہاسپٹل منتقل کیا ۔ عظمت تسنیم کے مطابق ان کے شوہر کی حالت دیکھتے ہوئے جو بات بھی ٹھیک طرح سے نہیں کرسکتے تھے ۔ دواخانہ میں شریک کرلیا گیا اور ڈاکٹروں نے علاج بھی شروع کردیا تھا ۔ عظمت تسنیم کا کہنا ہے کہ ہفتہ کے دن جب وہ ایکسرے رپورٹ لانے گئیں تھیں تو انہیں کافی دیر تک قطار میں انتظار کرنا پڑا تھا ۔ اور جب تک وہ واپس ہوئیں تو ان کے شوہر کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔ وہ پریشان ہوگئیں اور سارے وارڈ اور اس بڑی عمارت میں انہیں ڈھونڈا لیکن انکا کچھ پتہ نہیں چلا اور نہ ہی وارڈ کے ذمہ داروں کے پاس صابر کے تعلق سے کوئی اطلاع تھی کسی نے عظمت تسنیم سے کہا کہ تمہارے شوہر بستہ ہاتھ میں لئیے یہاں سے چلے گئے ہیں تو وہ پریشان ہوگئیں کہ وہ ٹھیک سے چل بھی نہیں رہے تھے تو کس طرح وارڈ سے اچانک غائب ہوگئے ۔ بعد ازاں خاتون نے مسئلہ کو افضل گنج پولیس سے رجوع کردیا ۔ جہاں پولیس نے 9 جون کے دن ایک ایف آئی آر کرائم نمبر 346 سال 2014 درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا ۔ اس خصوص میں تحقیقاتی آفیسر سب انسپکٹر افضل گنج مسٹر راگھویندر سے بات کرنے پر انہوں نے بتایا کہ پولیس اس تعلق سے مصروف تحقیقات ہے ۔ ہاسپٹل انتظامیہ اور وارڈ کے اسٹاف سے پوچھ تاچھ کے تعلق سے دریافت کرنے پر تحقیقاتی آفیسر نے بتایا کہ وہ کسی کام سے تحقیقات انجام نہیں دے سکے ۔ ایک مظلوم و پریشان حال خاتون کی فریاد پر ذمہ دار عہدیدار کا بیان افسوس کا باعث بنا ہوا ہے جو نئے کمشنر پولیس کو عوام دوست پالیسیوں پر کاری ضرب کے مترادف ہے ۔ محمد صابر جن کی عمر 40 سال بتائی گئی ہے ۔ حافظ بابا نگر میں رہتے تھے اور وہ پیشہ سے چپل تیار کرنے کا کام کرتے تھے ۔ ان کی ایک بیٹی ہے اور وہ گذشتہ ایک ہفتہ سے شدید تکلیف کا شکار تھے ۔ جنہیں چارمینار دواخانے کے بعد ڈاکٹروں کے مشورہ پر عثمانیہ جنرل ہاسپٹل منتقل کیا گیا تھا جہاں سے وہ پر اسرار طور پر لاپتہ ہوگئے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT