Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / دواخانہ عثمانیہ کے بیڈس بد سے بدترین

دواخانہ عثمانیہ کے بیڈس بد سے بدترین

حیدرآباد ۔ 5 جون (سیاست نیوز) آج کے اس دور میں مسلسل بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے ہر کوئی پریشان دکھائی دیتا ہے جبکہ غریب عوام پر مہنگائی کا بہت ہی برا اثر پڑتا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں جہاں روزانہ کی زندگی مشکل ترین ہوچکی ہے ایسے میں اگر کوئی غریب بیمار ہوجاتا ہے تو اس کے لئے زندگی اور بھی مشکل ترین ہوجاتی ہے۔ بیماریوں کا علاج اور اس کے لئے وصول کی جانے والی فیس آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ صحت کے شعبہ میں روزانہ ترقی کے اعلانات اور شہر میں ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹلس کے نام پر بھی بڑی بڑی عمارتوں کی سمت غریب صرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے کیونکہ ان دواخانوں میں علاج اس کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ جب کوئی غریب بیمار ہوتا ہے تو اس کے علاج کی واحد امید سرکاری دواخانے ہوتے ہیں اور شہر میں موجود عثمانیہ دواخانہ کا شمار بھی قدیم سرکاری دواخانوں میں ہوتا ہے لیکن جب غریب بیمار ہوکر عثمانیہ دواخانہ کا رخ کرتا ہے تو یہاں کے بیڈس کی گندگی اسے اور بیمار کردیتی ہے۔ عثمانیہ دواخانہ کے بیڈس کافی گندے ہیں۔ انتہائی خستہ حالت کا کوئی پرسان حال نہیں۔ عثمانیہ دواخانہ کے معائنہ سے پتہ چلا کہ بیڈس آدھے گل چکے ہیں۔ حافظ بابا نگر کے محمد بشیر نے بتایا کہ وہ یہاں اپینڈکس کا آپریشن کروانے آئے ہیں۔ تکلیف کی شدت کے ساتھ جب انہوں نے اس امید کے تحت عثمانیہ دواخانہ کا رخ کیا کہ انہیں یہاں اپنی بیماری کا علاج ہوگا لیکن انہیں دواخانہ میں داخل ہونے کے ساتھ ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ محمد بشیر کے ساتھ یہاں موجود ان کے نگران نے کہا کہ بڑی مشکل سے جو بیڈ ملا اس پر صحیح ڈھنگ سے کوئی چادر تک نہیں۔ عثمانیہ دواخانہ کے ایک ہال میں 40 بیڈس سینکڑوں مریضوں کیلئے پہلے ہی انتہائی ناکافی ہیں اور جو 40 بیڈس ہیں۔ ان پر مریض تو دور کی بات انہیں صرف دیکھنے والا صحت مند آدمی اس کی گندی حالت کو دیکھ کر وہیں بیمار ہوجائے۔ عثمانیہ دواخانہ ہندوستان کا ایک قدیم ترین دواخانہ ہے جسے دو مرتبہ تعمیر کیا گیا تھا کیونکہ موسیٰ ندی میں طغیانی کے بعد 1925ء میں نظام ہشتم عثمان علی خان نے افضل گنج کے قریب اسے دوبارہ تعمیر کروایا اور یہ ان ہی کے نام سے موسوم ہے۔ ریاست تلنگانہ کا سب سے بڑا گورنمنٹ ہاسپٹل ہونے کی وجہ سے ہر غریب اس دواخانہ کا رخ کرتا ہے۔ گنجائش کے اعتبار سے اس دواخانے میں 1168 بیڈس موجود ہیں جنہیں تین حصوں میں منقسم کیا گیا ہے۔ سوپر اسپیشالٹی کے تحت 363 بیڈس، ایمرجنسی کے لئے 160 اور جنرل بیڈس کی تعداد 685 ہیں۔ یہ تمام اعداد و شمار کاغذات پر کافی بہتر دکھائی دینے کے علاوہ اس دواخانے میں 250 ڈاکٹرس جس میں 60 پروفیسرس اور 190 سیول اسسٹنٹ سرجن کو خدمات پر مامور کیا گیا ہے جبکہ 503 نرسیس موجود ہیں لیکن سرکاری دواخانہ ہونے کی وجہ سے یہاں جو لاپرواہی برتی جاتی ہے اس سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دواخانوں کے لئے کروڑہا روپیوں کا بجٹ منظور کیا جاتا ہے لیکن یہاں مریضوں کے ساتھ نہ صرف بے اعتنائی برتی جاتی ہے بلکہ بے رخی اور زیادتی کی جاتی ہے۔ یہاں اکثر غریب طبقہ علاج کیلئے رجوع ہوتا ہے لیکن وہ یہاں سے بھی ناامید ہوکر واپس ہی جاتا ہے۔ ہر متوسط اور خوش حال آدمی کو کم از کم ایک مرتبہ اس دواخانے کا دورہ ضرور کرنا چاہئے تاکہ ان کے سامنے حقیقت بے نقاب ہو اور انہیں غریبوں پر رحم آئے اور خدا تعالیٰ یا

TOPPOPULARRECENT