Wednesday , June 20 2018
Home / اضلاع کی خبریں / دوبارہ پولنگ سے رائے دہندوں کی قسمت جاگ اٹھی

دوبارہ پولنگ سے رائے دہندوں کی قسمت جاگ اٹھی

چوری چوری چپکے چپکے رقومات کی تقسیم

چوری چوری چپکے چپکے رقومات کی تقسیم

کلوا کرتی /18 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) حلقہ اسمبلی کلوا کرتی کا نتیجہ ابھی ظاہر نہیں کیا گیا، جس کی وجہ ووٹنگ مشین کی خرابی بتائی جا رہی ہے۔ تفصیلات کے بموجب کلوا کرتی اسمبلی حلقہ میں جملہ دس امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا تھا، جہاں 30 اپریل کو پولنگ بھی ہوئی، لیکن جب محبوب نگر جے پی این سی کالج میں رائے شماری کے دوران یہاں کے پانچ منڈلوں کا نتیجہ نکلنا شروع ہوا اور جوپلی گاؤں میں استعمال کی گئی ووٹنگ مشین کو کھولا گیا تو اس مشین نے کام کرنا بند کردیا، جس کی درستگی کے لئے رات ساڑھے آٹھ بجے تک کوشش کی گئی، لیکن اس کی گنتی ظاہر نہیں ہوسکی، جس کے سبب مشین کو حیدرآباد روانہ کیا، لیکن الیکشن آفس میں تین بجے تک بھی خامی دور نہیں کی جاسکی اور خرابی کی وجہ وائرس بتائی گئی، جس کے بعد اطلاع ملی کہ دوبارہ پولنگ کروائی جائے گی۔ جیسے ہی دوبارہ پولنگ کی بات کہی گئی، تمام سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں نے جوپلی کا رخ کیا اور اب وہاں پر زبردست گہما گہمی دیکھی جا رہی ہے اور ہر کوئی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس حلقہ کے تینوں دیہاتوں میں پولیس کا سخت پہرہ ہے اور دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں آچکا ہے۔ علاوہ ازیں کسی بھی اجنبی شخص کو گاؤں میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے، جب کہ 19 تاریخ کو پولنگ کے قوی امکانات ہیں۔ پولیس کا سخت پہرا ہونے کے باوجود سیاسی پارٹیاں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں اور وہاں کے عوام کو پارٹیوں کی جانب سے دیگر مقامات پر منتقل کئے جانے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ باوثوق ذرائع کے بموجب ایک سیاسی جماعت کے کارندے کھیتوں میں چھپ کر گاؤں کے عوام کو ان کے دوستوں کے ذریعہ بلاکر رقم تقسیم کر رہے ہیں۔ ان تینوں علاقوں (جوپلی، جے پلی اور تانڈرہ) میں جملہ 850 ووٹ ہیں، جب کہ 30 اپریل کو 633 ووٹ استعمال کئے گئے تھے۔ واضح رہے کہ رائے شماری کے دن کانگریس امیدوار ڈاکٹر چلا ومشی چندر ریڈی صبح ہی سے سبقت حاصل کئے ہوئے تھے، تاہم جیسے آمنگل منڈل کی رائے شماری ہوئی تو بی جے پی امیدوار اچاری کو ان پر سبقت حاصل ہو گئی اور شام ساڑھے پانچ بجے وہ ڈھائی ہزار ووٹوں سے آگے پہنچ گئے، لیکن جیسے ہی ویلدنڈھ منڈل کی مشینیں کھلنے لگیں تو بی جے پی امیدوار دھیرے دھیرے پیچھے ہونے لگے اور شام سات بجے کانگریس امیدوار 153 ووٹوں سے آگے پہنچ گئے، جس کی وجہ سے ان تینوں علاقوں کی ری پولنگ کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT