Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / دوبارہ کانگریس میں شمولیت کی اطلاع بے بنیاد،ٹی آر ایس رکن راجیہ سبھا ڈی سرینواس کی تردید

دوبارہ کانگریس میں شمولیت کی اطلاع بے بنیاد،ٹی آر ایس رکن راجیہ سبھا ڈی سرینواس کی تردید

حیدرآباد۔4 اگست (سیاست نیوز) ٹی آر ایس رکن راجیہ سبھا ڈی سرینواس نے دوبارہ کانگریس میں شمولیت کی اطلاعات کو مسترد کردیا اور کہا کہ ان کے خلاف سوشل میڈیا میں غلط اور بے بنیاد خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈی سرینواس نے سوشل میڈیا کی خبروں کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کی اطلاعات کی بنیاد پر بعض اخبارات نے بھی اس طرح کی خبریں شائع کی ہیں جو کسی ثبوت کے بغیر ہیں۔ ڈی سرینواس نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی ترقی کے لیے وہ ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں اور اس فیصلے سے کافی مطمئن ہیں۔ انہیں دوبارہ کانگریس میں واپس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کانگریس میں واپسی کے لیے سونیا گاندھی سے بات چیت کے اطلاعات کو حقائق سے بعید قرار دیتے ہوئے ڈی سرینواس نے کہا کہ اس طرح کی خبروں کے ذریعہ ان کے امیج کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اس طرح کی مہم کانگریس کی جانب سے چلائی جارہی ہے تاکہ پارٹی قائدین اور کارکنوں کو دیگر جماعتوں میں شمولیت سے روکا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات قریب ہونے کے باعث کانگریس پارٹی حکومت اور چیف منسٹر کے سی آر کو تنقید کا نشانہ بنارہی ہے۔ ان کے خلاف مہم بھی اسی سازش کا ایک حصہ ہے۔ ڈی سرینواس نے چیف منسٹر سے کسی بھی طرح کے اختلافات کی تردید کی اور کہا کہ چیف منسٹر نے ان کے مقام و مرتبہ کا احترام کرتے ہوئے راجیہ سبھا کے لیے منتخب کیا ہے۔ وہ ٹی آر ایس پارٹی سے پوری طرح مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس تلنگانہ کو جدوجہد کے ذریعہ حاصل کیا گیا اس کی ترقی کے لیے چیف منسٹر نے دوررس نتائج کے حامل اسکیمات کا آغاز کیا ہے اور اس کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ چیف منسٹر کی مساعی کے سبب ریاست میں مختلف شعبہ جات میں ترقی ہوئی ہے اور دیگر ریاستوں کے مقابلہ ترقی کی شرح تلنگانہ میں زیادہ ہے۔ ڈی سرینواس نے کہا کہ وہ جس وقت کانگریس میں تھے انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ تلنگانہ کے ساتھ کانگریس دور حکومت میں ناانصافی ہوئی ہے۔ لہٰذا اب ایس پارٹی میں دوبارہ شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ جس پارٹی کو ایک مرتبہ خیرباد کردیا اس میں شمولیت کے لیے دوبارہ بات چیت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT