Monday , December 18 2017
Home / مضامین / دورۂ پاکستان سے مودی کو ملک میں راحت

دورۂ پاکستان سے مودی کو ملک میں راحت

ظفر آغا

کسی کو خبر تک نہ ہوئی اور وزیر اعظم نریندر مودی پاکستان کا دورہ کرکے آگئے۔ یہ خبر مشہور ہوئی کہ نریندر مودی پاکستان پہنچنے والے ہیں اور اس کے بعد تھوڑی ہی دیر میں مسٹر مودی لاہور پہنچ گئے، جہاں نواز شریف نے ان کو گلے لگاکر ان کا خیرمقدم کیا اور ان کا ہاتھ تھام کر رائے ونڈ اپنے گھر لے گئے، جہاں ان کی نواسی کی شادی تھی۔ مودی اور شریف نے پہلے شادی کی رسموں میں حصہ لیا، پھر دونوں وزرائے اعظم نے تحائف پیش کئے اور پھر اپنے مشیروں کے ہمراہ تقریباً ایک گھنٹہ تک بات چیت کی۔ دونوں قائدین کے درمیان کیا گفتگو ہوئی، وہ تو اب تک نہیں معلوم ہوسکی، تاہم مسٹر مودی کے اس اچانک دورہ پاکستان نے ہند۔ پاک کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا ہے۔ اب یہ باب دونوں ممالک کے رشتوں میں کیا گل کھلاتا ہے؟ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا، لیکن مودی کے اس اچانک اور غیر معلنہ سفرِ پاکستان نے اتنا ضرور طے کردیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے دل ایک دوسرے سے مل چکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ دونوں قائدین اپنے اپنے ممالک کے نظاموں کو رام کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔بہرکیف جب بھی کبھی دو ممالک کے قائدین ملتے ہیں تو ان ممالک کی سیاست کا ذکر ضرور ہوتا ہے، چہ جائے کہ ہند۔ پاک کے قائدین ملیں اور ان کے درمیان کوئی گفتگو نہ ہو؟ ایسا ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ مودی کے یکایک دورہ پاکستان سے دونوں ممالک میں سیاسی چہ می گوئیاں شروع ہوچکی ہیں۔

یوں تو مودی بغیر بلائے پاکستان پہنچ گئے، اگر کہیں پاکستان کی جانب سے کوئی ممبئی جیسا دہشت گرد حملہ ہو گیا تو پھر کیا ہوگا؟۔ الغرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ ٹی وی پر ہنگامہ اور خبروں کی گہما گہمی ہے۔ یہ کیا ہوا اور کیوں ہوا؟ ہر قسم کے سوال اور جواب کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ کچھ ہو یا نہ ہو، ایک بات تو طے ہے کہ مودی کے اس سفر پاکستان نے ہندوستان کی سیاست کا رخ اندرونی معاملات سے ہند۔ پاک معاملات کی جانب موڑ دیا ہے اور اس موڑ سے کسی کو کچھ راحت ملے یا نہ ملے، تاہم وزیر اعظم نریندر مودی کو ضرور راحت ملی ہوگی۔بات یوں ہے کہ گزشتہ بہار کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی ہار کے بعد سے دورہ پاکستان تک مودی سیاسی نرغے میں تھے۔ ملک میں ان کے سیاسی حریفوں نے مودی پر دھاوا بول دیا تھا۔ بہار میں جس طرح بڑی سیکولر پارٹیوں نے اکٹھا ہوکر مودی کے چناؤ جیتنے کا طلسم توڑا تھا، اس سے مودی اپنی پارٹی اور پارٹی کے باہر کمزور نظر آنے لگے تھے، جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ کا اجلاس بھی دہل گیا۔ مودی کا جو خواب تھا کہ وہ جی ایس ٹی بل پاس کرواکر ہندوستانی معیشت کو ایک نیا رخ دیں گے، وہ شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ پورے پارلیمانی سیشن کے دوران مودی نہ صرف اپوزیشن کے حملے میں گھرے رہے، بلکہ کچھ لاچار سے بھی نظر آئے۔

صرف اتنا ہی نہیں، بلکہ مودی حکومت پر اس سیشن کے دوران بدعنوانی کا لیبل بھی لگ گیا، جس کی زد میں ان کے سب سے اہم وزیر اور مشیر ارون جیٹلی آئے۔ مزید یہ کہ جیٹلی پر بدعنوانی کا الزام خود ان کی پارٹی کے ایم پی اور سابق کرکٹر کیرتی آزاد نے لگایا، جو بعد میں پارٹی سے معطل کردیئے گئے، لیکن اس کے فوراً بعد اڈوانی، جوشی اور بی جے پی کے دیگر باغی سینئر قائدین نے ایک میٹنگ کی، جس سے یہ اشارہ ملاکہ اب مودی اپنی پارٹی میں کمزور پڑ رہے ہیں اور پارٹی کے اندر کے مخالفین ان کو گھیرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ لیکن مسٹر مودی  نے یکایک پاکستان کا دورہ کرکے ایک تو یہ ثابت کیا کہ وہ بی جے پی کو ہر چناؤ جتا سکتے ہیں اور دوسرے یہ کہ بی جے پی میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مودی کے مخالفین اندر اور باہر دونوں جگہ شیر ہو گئے ہیں اور وزیر اعظم بننے کے بعد پہلی بار مودی کا گراف نہ صرف نیچے گرا ہے، بلکہ مودی چہار جانب سے گھرے نظر آنے لگے ہیں۔مودی جلد ہار ماننے والوں میں نہیں ہیں، کیونکہ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ مودی زبردست Event Manager ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ کسی واقعہ کی مارکٹنگ اتنی شاندار طریقے سے کرتے ہیں کہ ان کے آگے سب ہیچ نظر آتے ہیں۔ پس گھرے ہوئے مودی نے اپنی اسی صلاحیت کا استعمال کرکے اپنے دورہ پاکستان سے ملک کی سیاست کا رخ اندرونی خلفشار سے ہند۔ پاک تعلقات کی جانب موڑنے کی کوشش کی ہے۔ اب یہ عالم ہے کہ نہ کہیں مودی کی پارلیمانی ناکامی کا تذکرہ ہے اور نہ کوئی ارون جیٹلی سے استعفی مانگ رہا ہے، بلکہ مودی جی اس وقت خبروں کے بادشاہ بنے ہوئے ہیں اور ملک کے گوشے گوشے میں ان کی دھوم مچی ہوئی ہے۔

یہ سب تو ٹھیک ہے، لیکن کارگر Event Managment اور کامیاب ڈپلومیسی وہی مانی جاتی ہے، جس کے دور رس نتائج بھی نکلیں۔ اس پس منظر میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا مودی جی کی تازہ ترین سفارتکاری ہند۔ پاک کی دوریاں ختم کرپائے گی؟۔ اس سلسلے میں کوئی بات یقینی طورپر کہنا ممکن نہیں ہے، کیونکہ واجپائی جی بس سے لاہور گئے تھے اور پھر کارگل کی جنگ چھڑ گئی تھی۔ اسی طرح پرویز مشرف آگرہ آئے اور بغیر کسی کامیابی کے لوٹ گئے۔ منموہن سنگھ نے ہر ممکن کوشش کی کہ کشمیر کی گتھی سلجھ جائے، لیکن کوئی کامیابی نہیں ملی اور اب مودی جی کا یکایک لاہور پہنچ کر میاں محمد نواز شریف کو گلے لگا لینے سے ہند۔ پاک معاملات کا طے ہونا یقینی نہیں ہوسکتا۔ کل اگر پاکستانی فوج کوئی شرارت کردے تو پھر یہی مودی اور شریف تمام شرافت چھوڑکر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء نظر آسکتے ہیں، لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس طرح اچانک لاہور جاکر مودی نے یہ طے کردیا ہے کہ دہلی اور لاہور اب ایک دوسرے سے دور نہیں ہیں۔
آج اگر ہندوستان کے وزیر اعظم پاکستانی وزیر اعظم کے گھر ہونے والی خوشی کے موقع پر وہاں جاکر مبارکباد دے سکتے ہیں تو کل دونوں ممالک کے عوام بھی ایک ملک سے دوسرے ملک اسی آسانی سے آجا سکتے ہیں، یعنی مودی کے اس اچانک دورہ پاکستان سے مسئلہ کشمیر کی گتھی سلجھے یا نہ سلجھے، لیکن دونوں ممالک کے عوام کے دلوں پر جمی برف ضرور پگھلے گی، پھر دونوں ممالک کے عوام کے دل بھی مل جائیں گے۔ اس کے بعد یہ بات بھی یقینی طورپر کہی جاسکتی ہے کہ اگر دونوں ملکوں کے عوام کے دل مل جائیں تو ایک دن کشمیر کی دیوار بھی گرسکتی ہے۔مودی جی نے حالیہ سفر پاکستان سے کچھ حاصل کیا ہو یا نہ کیا ہو، تاہم اتنا ضرور کیا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے سے قریب کردیا ہے۔ اس سے ان کو اپنے ملک کی اندرونی سیاست میں راحت بھی ملی اور اسی کے ساتھ ساتھ ہند۔ پاک کے درمیان امن مذاکرات کی راہیں بھی ہموار ہوئیں۔ مودی جی کی یہ کوشش بلاشبہ ہند۔ پاک تعلقات میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی، جس کے لئے وہ یقیناً قابل مبارکباد ہیں۔

TOPPOPULARRECENT