Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / دور آصفجاہی میں ڈرائیونگ لائسنس کا حصول ایک اعزاز تھا

دور آصفجاہی میں ڈرائیونگ لائسنس کا حصول ایک اعزاز تھا

قادر شریف مرحوم اپنے دور کے مایہ ناز موٹر راں ، قدیم لائسنس کے ساتھ قواعد پر مشتمل کتابچہ مختلف زبانوں میں ہوتا تھا
حیدرآباد ۔ 18 ۔ اگست : ( نمائندہ خصوصی ) : ہندوستان میں جس وقت کاروں کے استعمال کا تصور ہی نہیں تھا اس دور میں حیدرآباد دکن کی سڑکوں پر رولس رائس سے لے کر فیٹ لیموسین ، فورڈ ٹورر ، پپاکرڈ 200 ڈیلکس ، بوئیک ،ڈانٹا اور پوب کارپن دوڑا کرتی تھیں اور یہاں باضابطہ ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ساتھ ٹریفک کے قواعد سے متعلق کتابچوں کی اجرائی عمل میں آتی تھی ۔ اس دور میں ڈرائیونگ لائسنس کا حصول جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا ۔ جہاں تک حیدرآباد میں رولس رائس کی آمد کا سوال ہے اس کار کا آرڈر دراصل نظام ششم نواب میر محبوب علی خاں نے دیا تھا لیکن بدقسمتی سے وہ رولس رائس سلور گھوسٹ استعمال نہیں کرسکے ۔ اپنی طرز کی اس منفرد کار کو آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں بہادر نے استعمال کیا ۔ نواب میر عثمان علی خاں بہادر ہندوستان کی ان چند ایک شخصیتوں میں تھے جنہوں نے بیرونی ممالک سے قیمتی کاریں منگوائیں ۔ وہ فورڈ ٹورر کا اکثر استعمال کیا کرتے تھے وہ اس کار میں بیٹھ کر ہر جمعہ شاہی مسجد باغ عامہ جایا کرتے تھے ۔ اس دور میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے تھے جنہیں باضابطہ ڈرائیونگ لائسنس جاری کیا گیا ۔ ایسی ہی شخصیتوں میں درگاہ یوسفینؒ علاقہ نامپلی کی مشہور و معروف شخصیت قادر شریف مرحوم بھی تھے ۔ قادر شریف کا شمار اپنے وقت کے متمول لوگوں میں ہوا کرتا تھا انہیں اس دور میں یوب گاڑی خریدنے کا بھی اعزاز حاصل رہا ۔ قائد اعظم محمد علی جناح جب حیدرآباد آئے تھے اس وقت انہیں قادر شریف نے اپنی گاڑی میں بٹھا کر سارے شہر میں گھمایا تھا اور وہ جہاں بھی جاتے قادر شریف کی گاڑی ہی استعمال کرتے تھے ۔ قادر شریف مرحوم کے فرزند محمد ضمیر کے مطابق نامپلی چوراہا پر کبھی پشاوری بلڈنگ ہوا کرتی تھی اس مقام پر قادر شریف کا پٹرول پمپ بھی ہوا کرتا تھا اور پٹرول گیالن کے حساب سے فروخت کیا جاتا تھا ۔ محمد ضمیر نے اپنے والد مرحوم کو تقریبا 90 سال قبل جاری کردہ لائسنس دکھایا جوا یک کتابچہ کی شکل میں ایک کتابچہ کے ہمراہ ہے جس میں نہ صرف ٹریفک کے قواعد و ضوابط بلکہ اشاروں کی تفصیلات بھی اردو زبان میں درج کی گئی ہیں۔ لائسنس پر اردو میں اس طرح لکھا گیا ہے ’’ مسمی قادر شریف ولد محمد شریف صاحب ساکن سید علی گوڑہ کو تحت دفعہ 6 قانون سواریہائے موٹر ممالک محروسہ سرکار عالی نشان 4 بابتہ سن 1329 ف بذریعہ لائسنس ہذا حسب ذیل خاص یا عام طور پر کرایہ پر چلنے والی سواریہائے موٹر کے چلانے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ لائسنس پر لائسنس یافتہ کی تصویر بھی چسپاں کی گئی ۔ اس لائسنس کے کتابچہ میں ڈرائیوروں کے لیے 6 اشارے معہ خاکے دئیے گئے ۔ محمد ضمیر کے مطابق 24 سال قبل ان کے والد کا انتقال ہوا لیکن انہوں نے ان کے لائسنس کو ایک تاریخی یادگار کی حیثیت سے محفوظ رکھا ہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں بہادر نے اپنی حکومت میں صرف اردو کی ہی نہیں بلکہ تلگو ، ہندی اور مراٹھی جیسی زبانوں کی بھی بھر پور حوصلہ افزائی کی ۔ چنانچہ ٹریفک کے قواعد پر مشتمل کتابچہ اردو کے علاوہ دیگر زبانوں میں بھی ہوا کرتا تھا ۔۔

TOPPOPULARRECENT