Sunday , June 24 2018
Home / Top Stories / دور افتادہ جنوبی لیبیا میں تربیت کے لئے جہادیوں کا ہجوم

دور افتادہ جنوبی لیبیا میں تربیت کے لئے جہادیوں کا ہجوم

طرابلس۔ 26؍اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ جنوبی لیبیا کا دُور افتادہ ریگستان شمالی افریقہ کے جہادیوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ بن گیا ہے۔ انھوں نے یہاں تربیتی کیمپس قائم کئے ہیں جن میں روایتی طور پر اسمگلنگ کئے ہوئے اسلحہ کا کافی بڑا ذخیرہ ہے۔ ماہرین کے بموجب تیل کی دولت سے مالامال حکومت لیبیا نے کہا کہ انتشار کے دور میں جب کہ ڈکٹیٹر کرنل معمر

طرابلس۔ 26؍اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ جنوبی لیبیا کا دُور افتادہ ریگستان شمالی افریقہ کے جہادیوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ بن گیا ہے۔ انھوں نے یہاں تربیتی کیمپس قائم کئے ہیں جن میں روایتی طور پر اسمگلنگ کئے ہوئے اسلحہ کا کافی بڑا ذخیرہ ہے۔ ماہرین کے بموجب تیل کی دولت سے مالامال حکومت لیبیا نے کہا کہ انتشار کے دور میں جب کہ ڈکٹیٹر کرنل معمر قذافی کی حکومت کا اُلٹ دیا گیا تھا اور انھیں تین سال قبل ناٹو کی حمایت یافتہ بغاوت میں ہلاک کردیا گیا تھا، یہ ذخیرہ کیا گیا ہے۔ ناٹو کے اسلحہ کے ذخیرے سے لوٹے ہوئے ہتھیار بھی اس مقام پر جسے ’سیلواڈور ٹرائینگل‘ کہا جاتا ہے، پہنچ گئے ہیں۔ اس علاقہ پر کسی کی بھی حکومت نہیں ہے اور یہ سرزمین لیبیا، الجیریا اور نائیجر کی سرحدوں سے متصل مخدوش علاقہ میں واقع ہے۔ برسوں سے اس علاقہ میں اسمگلرس اور بردہ فروشوں کا کاروبار جاری رہا ہے جو غیر قانونی طور پر ہتھیار شمالی افریقہ اور دیگر ممالک سے جو سہارا کے دامن میں واقع ہیں، یہاں پر منتقل کیا کرتے تھے، لیکن بغاوت کے بعد جہادیوں کی سرگرمی القاعدہ سے مربوط ہوگئی اور اس علاقہ میں پھلنے پھولنے لگیں۔

ان کا حوصلہ لیبیائی عہدیداروں کے مسلح گروپس پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد مزید بڑھ گیا۔ 10 اکٹوبر کو فرانس نے کہا تھا کہ اس کی فوجوں نے القاعدہ کی شمالی افریقہ کی شاخ سے ربط رکھنے والے ایک قافلہ کو نائیجر میں تباہ کردیا جو لیبیا سے مالی کو ہتھیار منتقل کررہا تھا۔ یہ کارروائی انسداد دہشت گردی مہم کا ایک حصہ تھی جو فرانس کی زیر قیادت جہادیوں کو نکال باہر کرنے کے لئے کی جارہی تھی جن میں القاعدہ کے اسلامی مغرب تنظیم کے جہادی بھی شامل تھے جو علاقہ ساحل کے متوطن تھے۔ مالی کے شمال میں ریگستان پر جہادیوں نے تقریباً دس مہینے اپنا قبضہ برقرار رکھا تھا۔ 2013ء جنوری میں فرانس زیر قیادت فوجی کارروائی کے ذریعہ انھیں وہاں سے نکال باہر کیا گیا۔

اس کے بعد انتہا پسندوں نے جنوبی لیبیا کو اپنی محفوظ پناہ گاہ بنالیا۔ جہادی گروپس کے ایک ماہر محمد فازانی نے کہا کہ کسی بھی فوج کے لئے اس وسیع علاقہ پر قابو پانا بہت مشکل ہے، جب تک کہ اسے عصری ٹکنالوجی حاصل نہ ہو، کیونکہ جہادی اس پہاڑی علاقہ کو اچھی طرح جانتے ہیں اور وہ شدید موسم کے باوجود یہاں اپنے تربیتی کیمپس قائم کرسکتے ہیں۔ محکمہ سراغ رسانی شام کے ایک عہدیدار نے کہا کہ جہادیوں نے یہاں 3 خفیہ کیمپس قائم کئے ہیں جہاں سینکڑوں عسکریت پسندوں کو مالی میں جنگ کی تربیت دی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT