Tuesday , December 11 2018

دور حاضر میں ہمہ لسانی ادبی اجلاس کی ضرورت

لوک ساہتیہ منچ کے اجلاس سے دانشوروں کا خطاب

لوک ساہتیہ منچ کے اجلاس سے دانشوروں کا خطاب

گلبرگہ /9 مارچ (فیکس) لوک ساہتیہ منچ کا قیام ہندوستانی تہذیب کی رنگا رنگی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے 16 برس قبل عمل میں آیا تھا۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ماجد داغی صدر لوک ساہتیہ منچ نے اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ وہ آج احاطہ کرناٹک ہندی پرچار سبھا سیڑم روڈ گلبرگہ میں منچ کے ماہانہ ادبی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ بھائی چارہ اور اخوت کے ذریعہ تخلیق ادب کو فروغ دینا اور تمام مذاہب کے ماننے والوں میں آپسی میل ملاپ کے ذریعہ مختلف زبانوں کی تخلیقات کو ایک پلیٹ فارم کے تحت پیش کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ منچ کے بانی صدر ممتاز مجاہد آزادی شری ودیا دھر گروجی سابق رکن اسمبلی و سابق رکن قانون ساز کونسل دو ڈھائی سال کے توقف کے بعد اس کا احیا عمل میں آیا اور اب ہر ماہ کے آخری اتوار کو اسی مقام پر ہمہ لسانی ادبی اجلاس منعقد ہوں گے۔ اس موقع پر بانی جنرل سکریٹری ڈاکٹر سید مجیب الرحمن مرحوم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گروجی چاہتے ہیں کہ اس منچ کو محترم سید مجیب الرحمن کے نام معنون کیا جائے، جو ایک بڑے دانشور، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر وشوا ناتھ چمکوڈ نے لوک ساہتیہ منچ کی ادبی سرگرمیوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ آج معاشرہ کو اس طرح کے ہمہ لسانی ادبی اجلاس کے انعقاد کی ضرورت ہے، جس سے ملک میں بھائی چارہ کا ماحول پیدا ہوگا اور ملک میں امن و امان کو تقویت حاصل ہوگی۔ اجلاس میں مسٹر ناگنا گنجن کھیڑ، شری شیام جوشی اور کملا دیوی شکلا نے بحیثیت مہمانان خصوصی شرکت کی۔ ابتدا میں شاملا کلکرنی (ہندی)، گوئند راؤ کلکرنی (مراٹھی)، ودیا کمار تیواری، سنیل چودھری، راشد ریاض (اردو)، منظور وقار (اردو) اور نور الدین نور (اردو) نے اپنی تخلیقات پیش کیں۔ اس موقع پر سینئر صحافی و منچ کے پریس سکریٹری جناب چاند اکبر، ممتاز ادیب صادق علی، جناب اشفاق صدیقی ایڈوکیٹ، شیکھر، شہباز صادق احمد کے علاوہ مختلف زبانوں کے ادباء، شعراء، صحافی اور فنکار کثیر تعداد میں شریک تھے۔

TOPPOPULARRECENT