Wednesday , December 19 2018

دوسری فہرست کو قطعیت دینے کانگریس میں سرگرم مشاورت جاری

کسی بھی وقت امیدواروں کا اعلان متوقع ۔ کودنڈا رام مقابلہ سے دستبردار‘ پنالہ لکشمیا کے مقابلہ کی راہ ہموار
حیدرآباد 13 نومبر (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ جنا سمیتی پروفیسر کودنڈا رام انتخابات میں مقابلہ کے ارادہ سے دستبردار ہوگئے جس کے بعد کانگریس قائد پنالہ لکشمیا کے حلقہ جنگاؤں سے مقابلہ کی راہ ہموار ہوگئی۔ تلنگانہ کانگریس امیدواروں کی دوسری فہرست کی تیاری کیلئے کرناٹک بھون میں کانگریس قائدین کا اجلاس جاری ہے۔ کسی بھی وقت یاقوت پورہ، بہادر پورہ کے علاوہ 10 تا 15 امیدواروں کی فہرست جاری ہوسکتی ہے۔ واضح رہے کہ کانگریس نے پیر کی رات اپنے 65 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کردی ہے جس میں اسمبلی حلقہ جنگاؤں کے امیدوار کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ سنا جارہا تھا یہ حلقہ ٹی جے ایس کو مختص کیا گیا ہے اور جنگاؤں سے تلنگانہ جنا سمیتی صدر پروفیسر کودنڈا رام مقابلہ کریں گے۔ پہلی فہرست میں نام شامل نہ ہونے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرنے والے پنالہ لکشمیا آج صبح دہلی پہونچ گئے جہاں اُنھوں نے پارٹی کے سینئر قائدین سے ملاقات کی۔ دوسری جانب کانگریس میں بی سی طبقات کو نظرانداز کرنے کی افواہیں بھی گشت کررہی تھی۔ تاہم شام ہوتے ہوتے صدر ٹی جے ایس پروفیسر کودنڈا رام نے مقابلہ ارادے سے دستبرداری اختیار کرلی جس کے بعد سابق صدر پردیش کانگریس پنالہ لکشمیا کے مقابلہ کی راہ ہموار ہوگئی۔ کانگریس اپنے امیدواروں کی دوسری فہرست کی تیاری میں مصروف ہے۔

دہلی کے کرناٹک بھون میں صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی، تلنگانہ انچارج آر سی کنٹیا، سکریٹریز سلیم احمد، بوس راجو اور سرینواس کے علاوہ ہائی کمان کے دیگر قائدین امیدواروں کے ناموں پر غور کررہے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ دوسری فہرست میں ابھی تک 10 اسمبلی حلقوں یاقوت پورہ، بہادر پورہ، سکندرآباد، بودھ، نظام آباد ایلندو، دیورکنڈہ، خانہ پور، نارائن پیٹ اور خیریت آباد مزید 5 اسمبلی حلقوں کو بھی تقریباً قطعیت دے دی گئی ہے۔ کسی بھی وقت فہرست جاری ہوسکتی ہے۔ سینئر قائد ڈی کے ارونا نے کرناٹک بھون پہونچ کر اے آئی سی سی انچارج سکریٹری سلیم احمد سے ملاقات کی اور محبوب نگر کے امیدواروں سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔ کانگریس ہائی کمان تیسری فہرست میں 14 امیدواروں کا اعلان کریگی۔ کانگریس کی جانب سے پہلی فہرست کی اجرائی کے بعد ناراضگیاں عروج پر پہونچ گئی ہیں۔ کئی قائدین مستعفی ہورہے ہیں۔ کئی قائدین باغی امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کرنے حامیوں سے مشاورت کررہے ہیں۔ گاندھی بھون کے علاوہ اضلاع میں کانگریس قائدین اور ان کے حامیوں کی جانب سے احتجاج کیا جارہا ہے۔ کانگریس اے آئی سی سی سکریٹری مدھو گوڑ یشکی نے ٹکٹ سے محروم قائدین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ عظیم اتحاد کی تشکیل کی وجہ سے کانگریس کے کئی حقیقی سپاہی ٹکٹ سے محروم ہوگئے ہیں مگر عظیم اتحاد کے تقاضوں کو بھی پورا کرنا ضروری ہے۔ آئندہ تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت تشکیل پائیگی۔ ٹکٹ سے محروم قائدین کو کونسل کا رکن بنانے کے ساتھ کارپوریشن و بورڈ عہدوں پر فائز کیا جائیگا۔ انھوں نے کہاکہ جن قائدین کو پہلی فہرست میں ٹکٹ دیا گیا وہ اہم ہے۔ دوسری فہرست کے قائدین کم درجہ کے نہیں۔ ایسی سوچ ٹھیک نہیں ہے۔ کانگریس کا ہر قائد پارٹی کیلئے اثاثہ ہے۔ پہلے جن حلقوں پر ناموں کو قطعیت دی گئی یا حلیف جماعتوں سے حلقوں کی تقسیم میں اتفاق رائے پایا گیا ہے اُن ہی حلقوں سے امیدواروں کا اعلان کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT