Saturday , April 21 2018
Home / سیاسیات / دولتمند افراد کے 2.5 لاکھ کروڑ روپئے کے قرض معاف

دولتمند افراد کے 2.5 لاکھ کروڑ روپئے کے قرض معاف

غریب کسانوں کے قرضوں کی معافی سے نریندر مودی حکومت کا انکار، کرناٹک میں راہول گاندھی کا خطاب
پاڈوبدرے 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے اسمبلی انتخابات کا سامنا کرنے والی ریاست کرناٹک کے تیسرے دورہ کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی ہندوستان کی ترقی کا کریڈٹ اپنے سر لیتے ہوئے عام آدمی کی توہین کررہے ہیں۔ گاندھی نے الزام عائد کیاکہ بی جے پی دھرم کی باتیں کرنے کے باوجود عوام کو منقسم کررہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی غریب کسانوں کو نظرانداز کرتے ہوئے بڑے صنعتکاروں کے قرض معاف کررہے ہیں۔ راہول گاندھی نے ساحلی اڈوپی ضلع کے پاڈوبدرے میں کانگریس کے ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’نریندر مودی جہاں بھی جاتے ہیں یہ کہہ رہے ہیں کہ گزشتہ 70 سال کے دوران کچھ نہیں کیا گیا۔ وہ آپ کے بڑوں اور بزرگوں، ہندوستان کے غریب کسانوں، مزدوروں، چھوٹے تاجروں کی توہین کررہے ہیں‘‘۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ ’’اگر یہ ملک آج دنیا کے دیگر ملکوں کے برابر ہے تو یہ محض دو سال میں ایسا نہیں ہوا ہے۔ عام آدمی کا خون، پسینہ اور کئی سال کا وقت لگا ہے۔ مودی کو عام آدمی کی توہین کا سلسلہ بند کردینا چاہئے‘‘۔ کوئی بھی ایک شخص ملک کو آگے نہیں بڑھا سکتا‘‘۔ راہول نے بی جے پی پر عوام میں پھوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا اور سماجی مصلحین کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ’’بی جے پی دھرم کی باتیں کرتی ہے۔ لیکن وہ (بی جے پی قائدین) جہاں بھی جاتے ہیں عوام کو ایک دوسرے کے خلاف اُکساتے ہوئے ان میں پھوٹ ڈالتے ہیں۔ ایک طرف وہ باسونا اور نارائنا گرو کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف ہر دن ان ہی سرگرمیوں میں ملوث رہتے ہیں جن کے خلاف ان دونوں سماجی مصلحین نے جدوجہد کی تھی‘‘۔ راہول گاندھی نے کہاکہ ’’ہندوستان کے 10 تا 15 دولتمند افراد چند سال کے دوران 8 لاکھ کروڑ روپئے لے کر فرار ہوگئے۔ بی جے پی حکومت نے 15 دولتمند افراد کی طرف سے لئے گئے 2.5 لاکھ کروڑ روپئے کا قرض معاف کردیا لیکن کسان جب اپنے معمولی قرض معاف کرنے کی درخواست کرتے ہیں تو نریندر مودی اور ارون جیٹلی کہتے ہیں کہ یہ ہماری پالیسی نہیں ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT