Saturday , November 25 2017
Home / مضامین / دولت اسلامیہ امریکی تخلیق ہونے کی توثیق

دولت اسلامیہ امریکی تخلیق ہونے کی توثیق

سیما مصطفی
دولت اسلامیہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کی طرح دانستہ طور پر امریکی کی تخلیق ہے۔ ’’ جوڈیشیل واچ ‘‘ نے امریکہ میں ایک وفاقی مقدمہ کے ذریعہ امریکی محکمہ دفاعی سراغ رسانی سے مخصوص دستاویزات حاصل کرکے جاری کی ہیں جن سے اس بات کی توثیق ہوتی ہے۔ حال ہی میں الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے لفٹننٹ جنرل مائیکل ٹی فلن نے اس کی دوبارہ توثیق کی ہے۔ وہ سراغ رسانی، نگرانی اور دیکھ بھال کے جوائنٹ فنکشنل کاپلونینٹ کمانڈور اور صدرنشین محکمہ فوجی سراغ رسانی بورڈ 24جولائی 2012ء تا 2اگسٹ 2014ء رہ چکے ہیں۔ باغی گروپس کے امریکہ ۔ ترکی زیر سرپرستی محاصرہ کے تحت تین سال سے زیادہ عرصہ قبل حکومت شام کی جانب سے اس کی اولین خبریں حاصل ہوئی تھیں۔ صدر بشارالاسد کے مشیر اعلیٰ بوسینا شعبان نے2012ء میں دمشق میں ظاہر کی تھی کہ القاعدہ کے باغیوں سے اتحاد ہوگیا ہے اور اسے شام کی حکومت کی مخالف حکومتیں ہتھیار اور مالیہ فراہم کررہی ہے۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے نئی افواج اتحاد کرچکی ہیں اور القاعدہ سے بھی زیادہ خطرناک ہوسکتی ہیں۔
حکومت شام کے ان دعوؤں کی امریکہ، ترکی اور دیگر ممالک نے سختی سے تردید کردی جو خانہ جنگی کے دوران باغیوں کی تائید کررہے تھے۔ یہ تردید حال حال تک جاری رہی۔ حالانکہ دولت اسلامیہ عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قابو پاتے ہوئے زیادہ مہلک بن کر اُبھری ہے۔

ڈی آئی اے کی خبر ’’ خفیہ ؍؍ نوفارن‘‘ کے زمرہ میں رکھی گئی تھیں اس کی تاریخ12اگسٹ 2012ء تھی اسے مختلف سرکاری محکموں بشمول سینٹکام، سی آئی اے، ایف بی آئی، ڈی ایچ ایس، این جی اے ، محکمہ خارجہ اور دیگر میں شدت سے گشت کروایا گیا تھا۔
ڈی آئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ مغرب، خلیجی ممالک اور ترکی ( جو ) ( شامی ) اپوزیشن کی تائید کرتے ہیں۔ امکان ہے کہ یہ سلسلہ غیر معلنہ طور پر مشرقی شام ( ہساکا اور دیرزور ) میں سلفی اصول رائج کرنا چاہتے ہیں اور صرف یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کی تائید کرنے والی طاقتیں چاہتی ہیں کہ حکومت شام کو یکا و تنہا کیا جائے۔
مغربی ایشیاء کیلئے امریکی حکومت کی خصوصیت جو جنون اور استحصال ہے جسب ذیل میں دوبارہ نظر آتی ہے۔  مشرقی شام ( ہساکا اور دیرزور ) میں معلنہ یا غیر معلنہ طور پر سلفی اصول کا نفاذ ممکن ہے اگر صورتحال ظاہر ہوجائے، تاکہ حکومت شام کو یکا و تنہا کردیا جائے جسے شیعہ ( عراق اور ایران ) توسیع کی حکمت عملی کی گہرائی سمجھا جاسکتا ہے۔ اگر صورتحال کے انحطاط کے عراق کے حالات پر سنگین اثرات مرتب ہوں اور ایسے ہی ہوں جو حسب ذیل ہیں۔

1۔ یہ مثالی ماحول تشکیل کرتا ہے، اے کیو آئی کیلئے تاکہ اپنے قدیم مستحکم گڑھ موصل اور رمنی میں واپس آئے اور سنی عراق اور شام میں جہاد کو متحدکرنے کے مفروضہ کے تحت عالم عرب کے باقی سنیوں کو اس کے خیال کے مطابق سب سے بڑے دشمن کے خلاف یعنی مختلف رائے رکھنے والوں کو متحد کرے تو آئی ایس آئی بھی اعلان کرسکتا ہے کہ اس نے دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ اتحاد کرکے عراق اور شام میں ایک اسلامی مملکت قائم کردی ہے۔ اس سے عراق کے اتحاد کیلئے سنگین خطرہ پیدا ہوجائے گا اور اس سے علاقہ کا تحفظ بھی خطرے میں پڑ جائیگا۔
الجزیرہ کو تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے جہاں ان سے امریکی فوج کے اعلیٰ سطحی سراغ رسانوں نے جامع پوچھ گچھ کی اور اعتراف کیا کہ انتہا پسندوں کی شورش جو دولت اسلامیہ میں تبدیل ہوگئی ہے، مغربی ایشیاء میں امریکی پالیسی اس کی آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہوگئی ہے۔ جنرل فلن نے کہا کہ اس علاقہ کے لئے امریکی پالیسی میں کہیں نہ کہیں کوئی خرابی ہے کیونکہ جن گروپوں کو دہشت گرد قراردیا جاتا ہے، ان کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ دولت اسلامیہ کے عروج کی وجہ بن گئی ہے۔ امریکہ کو نہ صرف خانہ جنگی پر توجہ دینی چاہیئے تھی بلکہ اس کے حل پر بھی توجہ دینی چاہیئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب تاریخ عراق کے بارے میں امریکی پالیسی کا جائزہ لے تو وہ امریکہ پر مہربان نہیں ہوگی۔ انہوں نے اتفاق کیا کہ عراق اور افغانستان میں ’’ نظام ‘‘  جنگی جرائم کا مرتکب ہے۔ عراقی قیدخانوں نے دولت اسلامیہ کے عروج میں راست کردار ادا کیا ہے۔

جنرل فلن نے توثیق کی کہ امریکہ کو 2012ء میں ہی دولت اسلامیہ کا علم تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ میں نہیں جنتا کہ انہوں نے اسے نظرانداز کیا ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک فیصلہ تھا۔ میرے خیال میں یہ دانستہ فیصلہ تھا۔ جو کچھ وہ کررہے تھے وہ دانستہ کررہے تھے۔‘‘
صدر اسد کی حرکیاتی و جرأت مند مشیر بیوٹانیہ کے پاس آغاز سے ہی خود ساختہ باغیوں کی ہیئت ترکیبی کی تمام تفصیلات ہیں جن میں حکومت شام کے خلاف جنگ کرنے، امریکہ، ترکی اور خلیجی ممالک نے تیار کیا ہے۔اس کا آغاز سرحد پر اسمگلنگ اور اسلحہ کے مافیاؤں کے مالیہ کے ساتھ ہوا۔ ان کے ساتھ مختلف چھوٹے علاقائی شورش پسند گروہ شامل ہوگئے۔ شامی فوج حالانکہ ہیئت ترکیبی کے اعتبار سے زیادہ تر سنیوں پر مشتمل ہے آغاز سے اب تک صدر بشارالاسد کی پشت پناہی رہی۔ تاہم ان میں سے جن کی شناخت حکومت شام نے سلفیوں کی حیثیت سے کی ہے القاعدہ اور دیگر زیادہ انتہا پسند گروپوں میں شامل ہوگئے جو اس علاقہ میں سرگرم ہیں۔ چونکہ ان کے پس پشت طاقتیں اسد کو اقتدار سے بیدخل کرنے کا پختہ ارادہ کئے ہوئے ہیں، انہوں نے ان گروہوں کو مالیہ فراہم کیا ۔

دوغلی پالیسی برقرار ہے۔ ترکی جو شام کے خلاف امریکہ سے تعاون کررہا ہے دولت اسلامیہ کی تائید میں ہے، حکومت ترکی کا حالیہ اعلان کہ دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کی جائے گی ممکن ہے کئی لوگوں کیلئے حیران کن ہو لیکن کردوں نے اسے بے نقاب کردیا کہ یہ صرف ان پر بمباری کرنے اور انہیں ہلاک کرنے کا بہانہ ہے۔ ترکی کردوں کی طویل مدت سے حقیقی خطرہ سمجھتا ہے بے رحمی سے اردغان حکومت ان پر حملے کررہی ہے۔ جیسا کہ اس کے ترجمان  کہتے ہیں کہ ’’ دولت اسلامیہ سے جنگ کررہی ہے‘‘

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان نے اس علاقہ کیلئے پالیسی میں ان میں سے کسی عنصر کو شامل کیا ہے۔ درحقیقت اب شبہات پائے جاتے ہیں کہ کیا اس علاقہ پر اس کی گہری نظر ہے جیس کہ ہونی چاہیئے کیونکہ اسے مغربی ایشیاء قربت حاصل ہے اور لاکھوں ہندوستانی شہری وہاں برسرروزگارہیں۔ یعنی لوگ تبدیلیوں کو سبکدوش سرکاری عہیداراوں کا کارنامہ سنمجھتے ہیں۔سابق اسپیشل سکریٹری برائے کابینی معتمدی اور باخبر محکمہ سراغ رسانی کے عہدیدار دہلی وپلا بالاچندرن نے اس بات کا اپنے ایک مضمون میں تذکرہ کیا ہے۔ یہ تذکرہ شہریوں کیلئے تھا انہوں نے کہا کہ ’’ کیا اس گروپ کے بنیادی افراد ناٹو  ممالک کے تربیت یافتہ اور صف اول کے عرب ممالک شام کی اسد حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی ان کی کوششوں کی تائید میں ہیں؟ کیا عراق کے خلاف جہاد ان کوششوں کا غیر متوقع نتیجہ ہے؟ حال ہی میں سبکدوش ہونے والے سفیر ایم کے بھدرا کمار نے ریڈف ڈاٹ کام  کیلئے اپنے مستقل کالم میں ان تبدیلیوں کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے افغانستان میں ان کے تسلسل کی نشاندہی کی تھی۔ انہوں نے ’’ لکھا ‘‘ حال ہی میں امریکہ کی جانب سے جو مخصوص درخواست آگے بڑھائی وہ یہ ہے کہ امریکہ افغانستان کو دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ چھیڑنے کا مرکز بنانا چاہتا ہے۔ امریکہ اور اس کے حلیفوں کی جنگ جو جنرل مارٹن ڈیمپسی صدرنشین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے ایک پشت سے زیادہ برقرار نہیں رہ سکے۔

ڈیمپسی وہی شخص ہیں جو ایک چالاک جنرل ہیں۔ ان ہی کی زیر نگرانی دولت اسلامیہ کو بہتر بنایا جائے اور اسے امریکہ کی علاقائی پالیسی کا آلہ کار بنایا جائے تاکہ شام کی مستحکم حکومت کو اقتدار سے بے دخل کیا جائے اور حکومت عراق کو مجبور کیا جائے کہ وہ امریکی فوجیوں کو و اپس آنے کی اجازت دے ۔ اب وہ کابل میں اشرف غنی کے صدارتی عہدہ پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔دو ہفتہ قبل ایک دن امریکہ تجویز پیش کرے گا کہ افغانستان میں امریکی فوج غیر معینہ مدت کیلئے کم از کم آئندہ 15تا20سال تاکہ دولت اسلامیہ کے خلاف عالمی جنگ چھیڑسکے۔

TOPPOPULARRECENT