Tuesday , December 19 2017
Home / دنیا / دولت اسلامیہ کو شکست دی جائے: ہلاری کلنٹن

دولت اسلامیہ کو شکست دی جائے: ہلاری کلنٹن

واشنگٹن۔15نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ کے صدارتی امیدوار ہیلاری کلنٹن نے آج کہا کہ دولت اسلامیہ کے عسکریت پسند گروپ کو شکست دینا چاہیئے ‘ اس پر قابو پانا کافی نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ’’ اسلام کے ساتھ جنگ ‘‘ نہیں کررہا ہے بلکہ پُرتشدد انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے ۔ انہوں نے ڈیموریٹک صدارتی امیدوار کے مباحثہ کے دوران کہاکہ اُن کا خیال ہے کہ ہم دولت اسلامیہ کو بین الاقوامی دہشت گرد نٹ ورک کا ایک سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں ۔ اُس پر قابو نہیں پایا جاسکتا ‘ اسے شکست دینی چاہیئے ۔ صدارتی امیدواروں کی ڈیموریٹک پارٹی کی دوڑ میں سب سے آگے ہیلاری کلنٹن نے ڈیموریٹک پارٹی کے صدارتی مباحثہ کے دوران یہ بات کہی ۔ ان کا یہ تبصرہ پیرس میں ہولناک دہشت گرد حملے کے بعد منظر عام پر آیا ہے جس میں 129انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں ۔ دولت اسلامیہ نے اس کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔ پیرس قتل عام ڈیموریٹک پارٹی کے صدارتی مباحث کا مرکزی موضوع تھا ۔ تینوں امیدوار ہیلاری کلنٹن ‘ لبرل رکن سینٹ برنی سینڈرس اور میری لینڈ کے سابق گورنر مارٹن او میلی نے اپنے مباحث کا آغاز ایک منٹ کی خاموشی کے بعد کیا جو فرانس کے مہلوکین کو خراج عقیدت کے طور پر منائی گئی تھی ۔ ہیلاری کلنٹن نے پُرزورانداز میں کہاکہ یہ امریکی جنگ نہیں ہے حالانکہ اس کیلئے امریکی قیادت ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ عہد کرنا چاہیئے کہ ہم دنیا کو متحد کریں گے تاکہ اس قسم کی بنیاد پرست جہادی نظریہ کو شکست دی جاسکے جس کی نمائندگی دولت اسلامیہ کرتی ہے جو ایک بربر یت‘ بے رحم ‘ پُرتشدد جہادی دہشت گرد گروپ ہے ۔
انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات صرف صدر کے عہدہ کے انتخابات نہیں ہے بلکہ آئندہ کمانڈر انچیف کے انتخاب کے انتخابات بھی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وہ تفصیلات کا اظہار نہیں کرے گی وہ جو کچھ ضروری سمجھتی ہیں اپنے یوروپی دوستوں اور حلیفوں کو بتائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی لعنت کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ضروری ہے ۔ ہیلاری کلنٹن کے حریف سینڈرس نے کہا کہ وہ کرہ ارض کو دولت اسلامیہ سے نجات دلانا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی دہشت گردی ایک بڑا مسئلہ ہے جس کی آج ہی یکسوئی ضروری ہے لیکن ہیلاری کلنٹن نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ یہ صرف امریکہ کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی ذمہ داری ہے ۔

TOPPOPULARRECENT