Wednesday , January 17 2018
Home / Top Stories / دولت اسلامیہ کیخلاف جنگ، تکریت کے قریب قصبہ پر فوج کا دوبارہ قبضہ

دولت اسلامیہ کیخلاف جنگ، تکریت کے قریب قصبہ پر فوج کا دوبارہ قبضہ

بغداد۔ 10 مارچ۔(سیاست ڈاٹ کام) فوج کے دو سینئر عہدیداروں نے کہا کہ عراقی فوج نے عسکریت پسندوں کے زیرقبضہ شہر تکریت سے متصل ایک قصبہ پر اپنا قبضہ بحال کرلیا جبکہ انہوں نے دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف اپنی جارحانہ کارروائی کے ذریعہ دباؤ ڈالا۔ تکریت کیلئے جنگ جو صدام حسین کا آبائی قصبہ ہے، عراقی افواج کیلئے ایک اہم آزمائش ثابت

بغداد۔ 10 مارچ۔(سیاست ڈاٹ کام) فوج کے دو سینئر عہدیداروں نے کہا کہ عراقی فوج نے عسکریت پسندوں کے زیرقبضہ شہر تکریت سے متصل ایک قصبہ پر اپنا قبضہ بحال کرلیا جبکہ انہوں نے دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف اپنی جارحانہ کارروائی کے ذریعہ دباؤ ڈالا۔ تکریت کیلئے جنگ جو صدام حسین کا آبائی قصبہ ہے، عراقی افواج کیلئے ایک اہم آزمائش ثابت ہورہی ہے۔ دونوں عہدیداروں نے کہا کہ فوج قصبہ عالم میں آج صبح داخل ہوگئی اور چند گھنٹوں بعد پورے قصبہ پر مکمل قبضہ بحال کرلیا گیا۔ احمد الکریم صوبہ صلاح الدین کی کونسل کے صدر نے کہا کہ پیشرفت لب سڑک نصب بموں اور نشانچیوں کے حملوں کی وجہ سے سست رفتار عراقی فوج نے بڑے پیمانے پر گذشتہ ہفتہ تکریت پر قبضہ بحال کرنے کیلئے مہم شروع کی ہے جو گذشتہ جون سے دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کے زیرقبضہ ہے۔ امریکی زیرقیادت مفلوج اتحاد اس فوجی کارروائی میں شریک نہیں ہے۔ امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کہا کہ اسلامک اسٹیٹ کو یقینی طور پر شکست ہو گی۔ انہوں نے یہ بات بغداد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

امریکی اعلی جنرل نے عراقی دارالحکومت بغداد پہنچنے کے بعد اعلیٰ سیاسی و فوجی اہلکاروں سے ملاقاتیں کی اور تکریت شہر پر قبضے کیلئے جاری عراقی فوجی آپریشن کے تناظر میں کہا کہ ’اسلامک اسٹیٹ ‘کو یقینی طور پر شکست ہو گی۔ جنرل ڈیمپسی کا دورہ ایک ایسے وقت عمل میں آ رہا ہے، جب عراق کے خود مختار علاقے کردستان کے پیش مرگا فائٹرز نے بھی انتہا پسند جہادی گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ پر کرکوک شہر کے قریبی علاقوں میں اپنا مسلح دباؤ بڑھا دیا ہے۔بغداد پہنچنے سے قبل امریکی جنرل نے خلیج میں لنگر انداز فرانسیسی طیارہ بردار جنگی بحری جہاز کا بھی دورہ کیا تھا۔ کراچی سے موصولہ اطلاع کے بموجب پاکستان میں سکیورٹی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایک پروپگنڈہ ویب سائیٹ کے ذریعہ دولت اسلامیہ کی موجودگی کو بھی اس ملک میں محسوس کیا جاسکتا ہے جو دراصل دولت اسلامیہ اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے کیلئے استعمال کررہی ہے جسے لانچنگ پیاڈ سے تعبیر کیا گیا ہے جس کی نگرانی تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے ذمہ ہے ۔ ایکسپریس ٹریبون کے مطابق سکیورٹی تجزیہ نگاروں نے بتایا کہ دولت اسلامیہ اور القاعدہ دونوں ہی اپنی سرگرمیوں کو توسیع دینے کے خواہاں ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے مختلف اعلانات تک اسی ویب سائیٹ کے ذریعہ رسائی حاصل کی جاسکتی ہے جہاں گروپ نے پاکستان کے خلاف بھی جنگ چھیڑ رکھی ہے اور 16 ڈسمبر 2014 ء کو پشاور کے ملٹری اسکول پر حملہ کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی ۔

پاکستان میں ان خلاف ورزیوں سے نمٹنے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) اور پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھاریٹی (PTA) کے سائبر کرائم ونگ اور یجلینس سیل اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھاتا ہے ۔ ویانا سے موصولہ اطلاع کے بموجب سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) نے لیبیا میں الغنی آئیل فیلڈ سے نو غیرملکیوں کے ایک گروپ کو اغوا کر لیا ہے۔آسٹریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کل ایک بیان میں ان غیرملکیوں کو یرغمال بنائے جانے کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ وہ اغوا کے وقت زندہ تھے۔ترجمان کے مطابق ان غیرملکیوں کا آسٹریا،جمہوریہ چیک ،بنگلہ دیش ،فلپائن اور ایک افریقی ملک سے تعلق ہے۔ترجمان نے بتایا ہے کہ الغنی آئیل فیلڈ سے ان غیرملکیوں کو گاڑیوں میں ڈالتے وقت کوئی زخمی نہیں ہوا تھا۔البتہ آسٹریا کے پاس ایسی معلومات ہیں کہ اس گروپ کو داعش کے جنگجوؤں ہی نے اغوا کیا تھا۔بنگلہ دیش نے ایک بیان میں اپنے ایک شہری کو یرغمال بنائے جانے کی تصدیق کی ہے اور واقعہ کو اغوا قرار دیا ہے۔یہ تمام نو غیرملکی آئیل فیلڈ مینجمنٹ کمپنی ویلیو ایڈ آئیل فیلڈ سروسز (وی اے او ایس) کے ملازمین تھے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اغوا کار گروپ کے بارے میں کچھ نہیں جانتی ہے اور وہ اپنے ان ملازمین کے نام بھی جاری نہیں کرے گی۔کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ان یرغمالیوں کی بازیابی کیلئے آسٹریا کی وزارت خارجہ کی کرائسس ٹیم کے ساتھ رابطے میں ہے۔تاہم وہ اس بات سے آگاہ نہیں ہے کہ ان ملازمین کو کہاں لے جایا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT