Saturday , December 15 2018

دولت اسلامیہ کیخلاف جنگ میں شمولیت کیلئے ترکی۔ ایران مذاکرات

مرست تینار (ترکی) 10 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے ترکی سے خواہش کی ہے کہ پیشرفت کرنے والے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف جنگ میں شامل ہوجائے۔ ان جنگجوؤں نے امریکہ زیرقیادت فضائی حملوں کے باوجود شام کے اہم سرحدی قصبہ کوبانی کے قابل لحاظ حصہ پر قبضہ کرلیا ہے۔ جنگ میں بیسیوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ کوبانی کا دفاع کرنے والے پریشان ح

مرست تینار (ترکی) 10 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے ترکی سے خواہش کی ہے کہ پیشرفت کرنے والے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف جنگ میں شامل ہوجائے۔ ان جنگجوؤں نے امریکہ زیرقیادت فضائی حملوں کے باوجود شام کے اہم سرحدی قصبہ کوبانی کے قابل لحاظ حصہ پر قبضہ کرلیا ہے۔ جنگ میں بیسیوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ کوبانی کا دفاع کرنے والے پریشان حال کرد چاہتے ہیں کہ کوبانی کو بچانے کے لئے زمینی فوجی کارروائی ضروری ہے لیکن ناٹو کے سربراہ جینس اسٹولٹن برگ سے مذاکرات کے بعد وزیر خارجہ ترکی میولک کاؤس اوگلو نے کہاکہ یہ حقیقت سے بعید ہوگا کہ ترکی کو زمینی کارروائی اپنے بل بوتے پر کرنے کیلئے کہا جائے۔ اُن کے انکار سے امریکہ مایوس ہوگیا ہے اور انقرہ میں دیگر مقامات پر ترکی کی اچھی طرح تربیت یافتہ اور ہتھیاروں سے لیس فوج کو عسکریت پسندوں کے خلاف لڑنے کیلئے روانہ کرنے سے ترکی کے انکار پر برہمی بھی محسوس کی جارہی ہے۔

امریکہ کے دو اعلیٰ سطحی قاصد ریٹائرڈ جنرل جان ایلن اور امریکہ کے ماہر اُمور عراق بریٹ میک گرگ نے کل انقرہ میں ترکی کے قائدین سے ملاقات کرکے اُن سے خواہش کی کہ دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ کرنے اور اُسے شکست دینے میں امریکہ کا ساتھ دیا جائے۔ امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ۔ ترک فوجی ٹیم کا آئندہ ہفتہ انقرہ میں ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا اور دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ امریکہ کے محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہاکہ ترکی اُس تنازعہ میں بہترین موقف میں ہے۔ اُس کے جنگ میں شمولیت سے گریز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اُنھوں نے پرزور انداز میں کہاکہ یہ ایسی صورتحال نہیں ہے جس میں ہم اپنے مطالبات منوا سکیں۔ نائب وزیر خارجہ ایران عامر عبداللہ جو حکومت شام کا قریبی حلیف ملک سمجھا جاتا ہے، کہاکہ ایران کوبانی کو بچانے کیلئے ترکی کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے

اور ہمیں توقع ہے کہ ترکی اہم کردار ادا کرے گا۔ کوبانی جہاں کرد نیم فوجی جنگجو اب بھی اپنا تین ہفتہ طویل محاصرہ کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں جو دولت اسلامیہ گروپ کے عسکریت پسندوں نے کر رکھا ہے، جنگ میں اہم مرحلہ پر پہونچ چکے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے نمائندے نہ صرف ترکی کی سرحد پر جمع ہیں بلکہ اُس کی فتح کے منتظر بھی ہیں۔ ترکی کی فتح انتہا پسندوں کی واضح شکست کی علامت ہوگی۔ امریکہ زیرقیادت جنگی طیاروں نے دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں پر کل کوبانی کے قریب فضائی بمباری کی۔ سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جہادیوں نے شام کے سرحدی قصبہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے فضاء میں پرواز کرنے والے جنگی طیارں سے دیکھے گئے ہیں۔ امریکہ کی فوج کی مرکزی کمان نے اطلاع دی ہے کہ کوبانی کے قریب کل 14 فضائی حملے کئے گئے۔

TOPPOPULARRECENT