Thursday , November 23 2017
Home / دنیا / دولت اسلامیہ کی تائید کے ایرانی الزامات پر ترکی حیرت زدہ

دولت اسلامیہ کی تائید کے ایرانی الزامات پر ترکی حیرت زدہ

دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر الزام تراشی ‘ترک ۔ایران کشیدگی اور علاقائی بحران میں شدت کے اندیشے
انقرہ۔6ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ترکی نے آج کہا کہ ایران کے الزامات پر کہ ترکی دولت اسلامیہ کی تائید کررہاہے اور عراق اور شام میں جہادیوں سے تیل کے سودوں میں ملوث ہے‘ وہ حیرت زدہ ہوگیا ہے ۔ ترکی کی وزارت خارجہ کے ترجمان ٹانگجو بلقیس نے اپنے ایک بیان میںکہا تھا کہ ایران کے الزامات میںکوئی ’’سنجیدگی‘‘ نہیں ہے ۔ صدر ترکی رجب طیب اردغان نے جمعرات کو کہاکہ انہوں نے صدر ایران حسن روحانی کو ایرانی ذرائع ابلاغ کی اُن اطلاعات کے بارے میں انتباہ دیا تھا کہ وہ اور ان کا خاندان دولت اسلامیہ کے جہادیوں سے تیل کی تجارت میں ملوث ہے ۔ اردغان نے کہاکہ وہ حسن روحانی سے ٹیلیفون پر بات چیت کر کے اُن سے کہہ چکے ہیں کہ آپ کو اس جھوٹے الزام کو جاری رکھنے کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی ۔ صدرترکی نے کہا کہ بعدازاں ایرانیوں نے اس خبر کو اپنی ویب سائیٹس پر سے حذف کردیا ہے ۔

ترکی کی وزارت خارجہ کی ترجمان بلقیس نے توثیق کی کہ دونوں ممالک کے صدور کے دوران ٹیلیفون پر بات چیت ہوچکی ہے تاکہ اس غیراخلاقی الزام کو واپس لے لیا جائے جس سے صدر ترکی کی شبیہہ مسخ ہوتی ہے ۔ علاوہ ازیں پڑوسی ایرانی عوام سے مساوی طور پر حقائق پوشیدہ رکھے جارہے ہیں ۔ اردغان کے جواب میں وزارت خارجہ ایران نے کہا تھا کہ باہمی خوش اخلاق اور تعلقات کا احترام کیا جانا چاہیئے ۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے بموجب موجودہ پالیسیوں اور موقف کا تسلسل مطلوب ہے یا غیر مطلوب ۔ شام اور عراق میں دہشت گردی کی تائید کی جارہی ہے یا نہیں اس کے بارے میں الزامات اور جوابی الزامات سے علاقائی بحران اور ایران و ترکی کے تعلقات میں کشیدگی اور بھی زیادہ شدید ہوجائے گی ۔ وزیر خارجہ ایران محمد جواد ظریف نے کہاکہ گذشتہ ماہ ترکی نے روسی لڑاکا جٹ طیارہ کو مار گرا یا تھا اس سے شام کے دہشت گردوں کو غلط پیغام پہنچا ہے ۔ فی الحال ترکی اور روس کے باہمی تعلقات کشیدہ ہیں کیونکہ 24 نومبر کو ایک روسی لڑاکا طیارہ ترکی نے مار گرایا تھا ۔ روس نے اردغان اور اس کے خاندان پر دولت اسلامیہ کے جہادیوں کے ساتھ تیل کی تجارت میں ملوث رہنے کا الزام عائدکیا ہے ۔ ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ترکی کے مرد آہن نے ان الزامات کو بدگوئی اور غیراخلاقی قرار دیا ہے ۔ ایران اور ترکی شام کے صدر بشارالاسد کے کٹر حامی ہیں ۔ جب کہ ترکی اور امریکہ چاہتے ہیں کہ صدر بشارالاسد اقتدار سے دستبردار ہوجائیں تاکہ اس علاقہ میں خانہ جنگی ختم ہوسکے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT