Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / دولت اسلامیہ کی تباہی ‘ ری پبلکن صدارتی امیدواروں کی اولین ترجیح

دولت اسلامیہ کی تباہی ‘ ری پبلکن صدارتی امیدواروں کی اولین ترجیح

GREENVILLE, FEB 14 -- Republican U.S. presidential candidate former Governor Jeb Bush (rear) walks past rival candidate businessman Donald Trump and his wife Melania (R) as they stand at the front of the stage at the conclusion of the Republican U.S. presidential candidates debate sponsored by CBS News and the Republican National Committee in Greenville, South Carolina February 13, 2016. REUTERS-3R

گرین ولے ( امریکہ) 14فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) اعلیٰ سطحی ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدواروں نے متفقہ طور پر کہا کہ دولت اسلامیہ کو شکست دینا امریکہ کی اولین ترجیح ہوگی۔ حالانکہ لڑائی کے طریقوں پر اُن امیدواروں میں شدید اختلافات دیکھے گئے ۔ سرفہرست امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کی روس کے ساتھ شراکت داری کی تائید کی تاکہ دولت اسلامیہ کو شکست دی جاسکے ‘ جب کہ جیب بش نے کہا کہ سنی زیر قیادت مخلوط اتحاد خصوصی امریکی افواج کے ساتھ یہ کام انجام دے سکتا ہے اور ٹیڈ کروز نے زمینی فوج کو زبردست فضائی طاقت کے ساتھ دولت اسلامیہ کو شکست دینے کیلئے روانہ کرنے کی تجویز پیش کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتہائی سخت وارکریں گے تاکہ دولت اسلامیہ کو شکست دی جاسکے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ روس کے ساتھ شراکت داری میں پہل کریں گے ۔ ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ایک مباحثہ میں جنوبی کیرولینا کے شہر گرین ولے میں شرکت کررہے تھے ۔ یہاں ہندوستانی نژاد امریکی شہری نکی ہیلی گورنر ہیں ۔ روس دولت اسلامیہ کا تخلیہ نہیں کروارہا ہے یہ اس پر صرف حملے کررہا ہے جب کہ ہم ایسے افراد کو تربیت دے رہے ہیں جو ہماری تائید کرتے ہیں ۔

یہ مکمل طور پر روس کے ساتھ شراکت داری کا معاملہ ہے اس کے بغیر ہم اس موقف میں نہیں ہوں گے کہ شام اور عراق سے دولت اسلامیہ کا صفایا کرسکے ۔ جیب بش نے کہا کہ وہ فوری طور پر ایک ایسی پالیسی تیار کریں گے جس کے ذریعہ ایران کے عزائم پر روک لگائی جاسکے ۔ انہوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ وہ ایران کو من مانی کرنے نہیں دیں گے جب کہ وہ نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے کا خواہشمند ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک اتحاد قائم کرنا ہوگا ۔ سنی زیرقیادت اتحاد جو خاص طور پر دولت اسلامیہ کو تباہ کرنے کے مقصد سے قائم کیا جائے اور اس علاقہ میں استحکام پیدا کرسکے ۔ فلوریڈا کے سابق گورنر نے امید ظاہر کی کہ وہ بش خاندان کے تیسرے فرد ہوں گے جو امریکہ کا صدر بنے گا ۔ ٹیڈکروز نے کہا کہ اس مقصد پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے کہ اتحاد کا کمانڈر انچیف کون ہوگا ۔ جب کہ اس کا مقصد دولت اسلامیہ کو شکست دینا ہوگا ۔ ٹیڈ کروز نے کہا کہ ہمارے پاس زبردست فضائی طاقت ہونی چاہیئے ‘ ہمیں ہتھیاروں کی ضرورت ہے تاکہ زمینی جنگ میں شامل کردوں کو ضرورت پڑنے پر سربراہ کئے جاسکے ۔ اس کے بعد ہی ہم اُن سے کام لے سکتے ہیں ۔ یہ صرف سیاسی فراست یا سیاسی سخت گیر موقف کا مظاہرہ نہیں ہوناچاہیئے ۔ فوج کے ماہرین اس کا جائزہ لے سکتے ہیں ۔ اس کے بعد ہی رکن سینٹ مارکو روبییو نے کہا کہ شمالی کوریا سے ایشیاء کوچک کے علاقہ کو شدید خطرہ لاحق ہے اور قومی سلامتی ہماری اولین ترجیح ہونا چاہیئے ۔ شمالی کوریا کے بعد دولت اسلامیہ کے خطرہ میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پُرتشدد انتہا پسند 40ممالک میں سرگرم ہیں ۔ تقریباً 80ممالک میں مختلف درجہ کا عدم استحکام پیدا ہوگیا ہے ‘ اسی لئے بیرونی ممالک میں بحران کی صورتحال ہے ۔ اوہائیو کے سابق گورنر جان کیسچ نے ٹرمپ سے اختلاف کیا ۔

TOPPOPULARRECENT