Saturday , September 22 2018
Home / عرب دنیا / دولت اسلامی نہیں، انتہاء پسند گروپ: مفتی اعظم

دولت اسلامی نہیں، انتہاء پسند گروپ: مفتی اعظم

قاہرہ ۔ 26 اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) مصر کے سب سے بڑے مذہبی ادارہ دارالافتاء نے انٹرنیٹ پر ایک مہم شروع کی ہے جس میں کہا ہے کہ عراق اور شام میں برسرپیکار گروپ دولت اسلامی کو اس نام سے نہ پکارا جائے بلکہ اس کو انتہا پسند گروپ لکھا اور بولا جائے۔ ایک عرب ٹی وی کے مطابق مصر کے مفتی اعظم شوقی عالم نے ماتحت دارالافتاء نے غیرملکی میڈیا کو تجویز پ

قاہرہ ۔ 26 اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) مصر کے سب سے بڑے مذہبی ادارہ دارالافتاء نے انٹرنیٹ پر ایک مہم شروع کی ہے جس میں کہا ہے کہ عراق اور شام میں برسرپیکار گروپ دولت اسلامی کو اس نام سے نہ پکارا جائے بلکہ اس کو انتہا پسند گروپ لکھا اور بولا جائے۔ ایک عرب ٹی وی کے مطابق مصر کے مفتی اعظم شوقی عالم نے ماتحت دارالافتاء نے غیرملکی میڈیا کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ عراق اور شام میں القاعدہ سے وابستہ گروپ کو ’دولت اسلامی‘ یا (مملکت اسلامی) کہنے اور لکھنے سے گریز کریں۔ مفتی شوقی عالم نے قبل ازیں کہا تھا کہ یہ انتہا پسند گروپ تمام اسلامی اصولوں اور قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے اور یہ مجموعی طور پر اسلام کے لئے خطرہ ہے۔ مفتی اعظم کے ایک مشیر ابراہیم نجم نے کہا ہے کہ اس گروپ کو’’عراق اور شام میں القاعدہ کا علاحدگی پسند‘‘ قرار دیا جائے یا اس کا مخفف ’’کیو ایس آئی ایس‘‘لکھا جائے۔ مڈل ایسٹ نیوزایجنسی (مینا) کے مطابق ابراہیم نجم نے کہا ہے کہ ’’داعش کے نام کی تبدیلی کے حوالے سے یہ اقدام اسلام کے تشخص کو درست کرنے کے لئے چلائی جانے والی مہم کا حصہ ہے کیونکہ ایسے گروپوں کے مجرمانہ افعال کی وجہ سے مغرب میں اسلام تشخص مجروح ہونے کے علاوہ لوگوں کے درمیان نفرت پھیل رہی ہے‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم اس بات کا اعادہ کرنا چاہتے ہیں کہ تمام مسلمان ان حرکتوں کیخلاف ہیں اور یہ اسلام کے رواداری کے اصولوں کے بھی منافی ہیں‘‘۔ انھوں نے بتایا کہ ’’انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا پر ان کی مہم میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے اسلامی دانشوروں اور علماء کی آراء بھی شامل ہوں گی۔ اس کے تحت ٹویٹر پر ہیش ٹیگ مہم بھی شامل ہو گی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT