Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / دوماہ کے عرصہ میں پٹرول و ڈیزل کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ

دوماہ کے عرصہ میں پٹرول و ڈیزل کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ

عوام پر مالی بوجھ ، پٹرول کمپنیوں کا من مانی فیصلہ ، حکومت کی کھلی چھوٹ
حیدرآباد ۔ 13 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ مسلسل نظر ثانی کرنے سے دو ماہ میں پٹرول کی قیمت فی لیٹر 7 روپئے اور ڈیزل کی قیمت فی لیٹر 5 روپیوں کا اضافہ ہوا ہے ۔ عالمی منڈی میں خام مال کی قیمتوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوا ہے تاہم ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کرتے ہوئے عوام پر مالی بوجھ عائد کیا جارہا ہے ۔ مرکزی حکومت نے جاریہ سال 16 جون سے پٹرولیم کمپنیوں کو پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ نظر ثانی کرنے کی منظوری دی ہے ۔ قبل ازیں پٹرولیم کمپنیاں عالمی مارکٹ میں کروڈ آئیل کی قیمتوں کا جائزہ لیتے ہوئے 15 دن میں ایک مرتبہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں پر نظر ثانی کیا کرتی تھیں ۔ تاہم روزانہ نظر ثانی سے پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں گذشتہ تین سال کے بہ نسبت زبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔ روزانہ پٹرول اور ڈیزل پر 5 تا 10 پیسے کا اضافہ کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں گذشتہ ڈھائی ماہ کے دوران پٹرول پر 7.41 روپئے اور ڈیزل پر 5.56 روپئے کا غیر معمولی اضافہ کردیا گیا ہے جب کہ اس اضافہ سے عالمی منڈی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔ پٹرولیم کمپنیاں اپنی جانب سے اس طرح کے فیصلے کرتے ہوئے غریب و متوسط طبقہ پر مالی بوجھ عائد کررہے ہیں ۔ 2014 کے بعد سے پھر ایک مرتبہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں ۔ یکم جولائی کو حیدرآباد میں فی لیٹر پٹرول کی قیمت 67.11 روپئے مقرر تھی جو اب بڑھ کر 74.52 روپئے ہوگئی ہے ۔ اس طرح پٹرول کی قیمت میں 7.41 روپئے کا اضافہ ہوا ہے ۔ یعنی پٹرول کی قیمت میں 11 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ اس طرح ڈیزل کی یکم جولائی کو فی لیٹر قیمت 58.23 روپئے تھی جو اب بڑھ کر 63.79 روپئے ہوگئی ہے ۔ اس طرح ڈیزل کی قیمت میں 5.56 روپئے کے اضافہ کے بعد ڈیزل کی قیمت میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ لیکن یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ عالمی مارکٹ میں خام مال کی قیمتوں میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT